پنجابی میں زیر کے ساتھ "چِرکا یا چِرکے" کا مطلب دیر سے ہی ہے اور سیف الملوک والے شعر میں بھی یہی مطلب ہے یعنی دیر سے۔ اردو میں " چَرکا یا چَرکے" زبر کے ساتھ ہی سنا ہے۔
پنجابی میں زیر کے ساتھ "چِرکا یا چِرکے" کا مطلب دیر سے ہی ہے اور سیف الملوک والے شعر میں بھی یہی مطلب ہے یعنی دیر سے۔ اردو میں " چَرکا یا چَرکے" زبر کے ساتھ ہی سنا ہے۔
عمدہ غزل ہے ، عاطف صاحب ! داد قبول فرمائیے . آپ كے چوتھے شعر پر اپنی ایک ناچیز حالیہ غزل کا ایک شعر بیساختہ یاد آ گیا . سن لیجیے .
چ مکسور والا چرک غلاظت اور بول و براز کے معنوں میں مستعمل ہے اسی چرک سے چرکیں تخلص رکھنے والے شاعر بھی مشہور ہیں جن کی زیادہ تر شاعری غلاظت سے پر تھی۔چنانچہ ایک شعر جی چاہتا ہے سنا ہی دوں
ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مطلع کے لیے کہا تھا مصرع تو ایک مرتبہ تسلی کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ عام طور پر بہت زیادہ استعمال نہیں ہوتا یہ لفظ۔ویسے میں نے ہمیشہ زبر کے ساتھ ہی پڑھا ہے اس کو۔
بہت شکریہ احمد بھائی۔
بہت بہتر
آپ بھی کہیں ہماری طرح سرائیکی تو نہیں؟
بہت بہت شکریہ وارث صاحب۔
واہ۔۔۔۔۔عمدہ شعر ہے۔
جی ہاں محترم۔