غزل: اے یادِ رفتگاں! مجھے جینے کا چھوڑیو

محمد بلال اعظم — جنوری 29، 2016 7:09 صبح
اپنی گلی میں دے کے ٹھکانا فقیر کو​
مکے کا چھوڑیو، نہ مدینے کا چھوڑیو​

واہ
بہت عمدہ​
جاسمن — فروری 22، 2016 3:29 شام
کلاسک غزل ہے راحیل۔
بہت خوب! زبر دست!عمدہ خیال ہیں۔
محمد تابش صدیقی — فروری 23، 2016 11:00 صبح
بہت عمدہ راحیل بھائی۔ کیا بے باک لہجہ ہے۔
گر روئیو تو مجھ سے لپٹ کر نہ روئیو
دریا میں ڈالیو تو سفینے کا چھوڑیو
میری سزا میں کیجیو مُلا سے مشورہ
مے اک طرف، لہو بھی نہ پینے کا چھوڑیو
ظہیراحمدظہیر — فروری 24، 2016 3:16 شام
بہت خوب راحیل بھائی ۔ کیا فضا ہے غزل کی!! مزا آیا پڑھ کر ! اللہ خوش رکھے آپ کو۔
لاریب مرزا — فروری 25، 2016 12:31 صبح
بہت عمدہ!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%DB%92-%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D9%90-%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C%D9%88.84737/page-2