مذاق سے ہٹ کر،کیا قید و بند، ایثار و قربانی،جور و جفا، ظلم و ستم ، عشق و الفت وغیرہ ... ایسی تراکیب کا استعمال اہل زبان کے یہاں عام نہیں؟ اب آپ کہیں گے کہ اساتذہ کے کلام میں سے ایسی مثالیں ڈھونڈ کر لاؤ ... جو تلاش کرنے پر شاید مل بھی جائیں ... مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ اساتذہ کے یہاں عام مستعمل نہ بھی ہوں تو ان کو قابل اعتراض یا معیوب کیونکر ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
پیارے احسن بات یہ ہے کہ حرف عطف عموماً دو یکساں یا ہم معنی الفاظ کے درمیان نہیں لایا جاتا چنانچہ ایسے مرکبات میں بظاہر مترادف اور یکساں نظر آنے والے الفاظ میں بھی کچھ نہ کچھ مغائرت ہوتی ہے،اردو میں ہی دیکھ لیجیے جب آپ دو لفظوں کے درمیان: اور: لاتے ہیں تو مدعا و مذکوردو مختلف الفاظ ہوتے ہیں ۔جیسے
∆میرے لیے دودھ اور جلیبی لاؤ ۔
∆میرے لیے دودھ اور ملک(milk) لاؤ ۔
ظاہر ہے دوسرا جملہ ناقص ہے۔اور شعر میں تو معاملہ اور نازک اس لیے ہوتا ہے کہ آپ کو کم جگہ میں بہت کچھ کہنا ہوتا ہے کہ شعر کا کینوس اوزان کی وجہ سے چھوٹا ہوتا ہے ۔ایسے میں مترادفات کو کھینچ تان کر مرکب عطف بنا نا اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کے پاس کہنے کے لیےکچھ نہیں وہ محض جگہ گھیر رہا ہے یا خانہ پری چاہ رہا ہے۔
آپ نے کہا کہ زبان میں قیاس کارگر نہیں ... چلیں یوں ہی سہی، تو کیا اجتہاد بھی مطلقا ناجائز ہے ؟ اگر ایسا ہے تو زبان کا ارتقا ہی کیونکر ہو سکے گا؟
دیکھیں اس پہ بات ہو چکی، جون ایلیا کی مثال بھی دی ،یعنی اجتہاد کے لیے بھی اہلیت پیدا کرنی ہوگی ،زبان میں جدت لانے کے لیے زبان کے مسلمات تو معلوم ہوں یہ نہ ہو کہ اوزان سمجھ میں نہیں آرہے اور کہا جارہا ہے کہ میں اوزان کا قائل نہیں بلکہ نثری نظم کا قائل ہوں۔
مگر جب آپ کے ہی مطالبے معتبر حوالے مہیا کیے گئے تو آپ نے ان کی بھد اڑا دی
نہیں یہاں آپ سے چوک ہو گئی، میں علوی صاحب کا دل سے احترام کرتا ہوں ،ایسی مثبت سوچ رکھنے والا شاعر شاذ ہی نظر آتا ہے۔ غزل پہ بے لاگ لکھنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے بس ایک مصرع پہ اپنی کھٹک کا اظہار کیا اسے بھد اڑانا تو نہیں کہا جائے گا۔دلائل کا مطالبہ بھی میں نے ان سے نہیں کیا تھا بھائی۔