محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 25، 2020 3:12 شام
عزیزانِ من، آداب!
ایک غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ امید ہے احباب اپنی قیمتی آرا سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل ہائے گرفتہ کو خوشا کون کہے گا
اس بیعتِ قسری کو بجا کون کہے گا!
سب کا ہی مفاد اور غرض زد میں ہو جس کی
آمین بر ایں حرفِ دعا کون کہے گا!
خائف نہ ہوں کیوں اہل چمن میری نوا سے
صرصر کو بھلا باد صبا کون کہے گا!
اک لفظ تسلی کا نہ جس خط میں ہو، اس کو
سوزِ غمِ ہجراں کی دوا کون کہے گا
اس عقل کو، ہوجائے جو خالق ہی کی منکر
کم عقل بجز عقلِ رسا کون کہے گا!
کٹ جائے اگر سر بہ رہِ نامِ محمدﷺ
غافل کے سوا اس کو قضا کون کہے گا؟
راحلؔ ہی تھا دیوانہ بس اک شہرِ غرض میں
اب تیری جفاؤں کو ادا کون کہے گا؟
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 25، 2020 6:13 شام
اک لفظ تسلی کا نہ جس خط میں، ہو اس کو
سوزِ غمِ ہجراں کی دوا کون کہے گا
کٹ جائے اگر سر بہ رہِ نامِ محمدﷺ
عافل کے سوا اس کو قضا کون کہے گا؟
بہت خوب راحل بھائی، ماشاء اللہ،
اللہ پاک آپ کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے، بس یہ کچھ ٹائپنگ کی غلطیاں درست کر لیں
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 25، 2020 7:31 شام
بہت خوب راحل بھائی، ماشاء اللہ،
اللہ پاک آپ کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے، بس یہ کچھ ٹائپنگ کی غلطیاں درست کر لیں
جزاک اللہ عبدالرؤف بھائی
ارشد چوہدری — اکتوبر 26، 2020 3:40 صبح
راحل بھائی ،زبردست،--بہت پختہ خیالی ہے ۔یہی فرق ہوتا ہے استاد اور شاگردوں کا۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 26، 2020 3:49 صبح
سب کا ہی مفاد اور غرض زد میں ہو جس کی
آمین بر ایں حرفِ دعا کون کہے گا!
خائف نہ ہوں کیوں اہل چمن میری نوا سے
صرصر کو بھلا باد صبا کون کہے گا!
نہت خوب راحل بھائی۔ سلامت رہیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 26، 2020 3:57 صبح
خوبصورت غزل راحل بھائی! بہت سی داد۔
دل ہائے گرفتہ کو خوشا کون کہے گا
راحل بھائی اپنی معلومات کے لیے پوچھنا چاہتے ہیں کہ "دل ہائے گرفتہ" تو دلِ گرفتہ کی جمع کا صیغہ ہے، کیا آپ نے بیعتِ عام کی مناسبت سے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے؟
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 26، 2020 4:30 صبح
محمّد احسن سمیع :راحل: بھائی یہ پوچھنا تھا کہ آپ نے اپنا کلام اصلاحِ سخن کے زمرے میں کیوں ڈال دیا

الف عین — اکتوبر 26، 2020 4:42 صبح
خوب غزل ہے عزیزم، پسند آئی۔ نئی ہے تو 'سمت' کے لئے رکھ لیتا ہوں اسے۔
امین شارق — اکتوبر 26، 2020 5:00 صبح
بہت خوب راحل بھائی، ماشاء اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 6:20 صبح
راحل بھائی ،زبردست،--بہت پختہ خیالی ہے ۔یہی فرق ہوتا ہے استاد اور شاگردوں کا۔
جزاک اللہ ارشدؔ بھائی ۔۔۔ آپ کی محبت اور حسنِ ظن کے لئے تہہِ دل سے شکرگزار ہوں۔
دعاگو،
راحلؔ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 6:21 صبح
نہت خوب راحل بھائی۔ سلامت رہیں۔
بہت شکریہ تابشؔ بھائی، جزاک اللہ
دعاگو،
راحلؔ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 6:23 صبح
خوبصورت غزل راحل بھائی! بہت سی داد۔
راحل بھائی اپنی معلومات کے لیے پوچھنا چاہتے ہیں کہ "دل ہائے گرفتہ" تو دلِ گرفتہ کی جمع کا صیغہ ہے، کیا آپ نے بیعتِ عام کی مناسبت سے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے؟
داد و پذیرائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں خلیلؔ بھائی۔
آپ کا اندازہ درست ہے، شعر گزشتہ انتخابات کے بعد سے مسلط صورتحال کی ترجمانی کی نیت سے کہا گیا تھا، ممکن ہے بیان میں کہیں کوئی نقص رہ گیا ہو

دعاگو،
راحلؔ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 6:25 صبح
محمّد احسن سمیع :راحل: بھائی یہ پوچھنا تھا کہ آپ نے اپنا کلام اصلاحِ سخن کے زمرے میں کیوں ڈال دیا
آپ کے توجہ دلانے پر معلوم ہوا کہ یہ اصلاحِ سخن میں پوسٹ کردیا ہے

تاہم کوئی بڑی بات نہیں ۔۔۔ اصلاح کی ضرورت کسے نہیں؟

دعاگو،
راحلؔ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 6:27 صبح
خوب غزل ہے عزیزم، پسند آئی۔ نئی ہے تو 'سمت' کے لئے رکھ لیتا ہوں اسے۔
بہت شکریہ استادِ محترم۔ آپ کی جانب سے سندِ قبولیت میرے لئے قیمتی سرمائے سے کم نہیں۔
غزل نئی ہے۔ آپ اگر اس غزل کو سمت میں شامل کریں گے تو میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہوگی۔
دعاگو،
راحلؔ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 6:28 صبح
بہت خوب راحل بھائی، ماشاء اللہ
بہت شکریہ شارقؔ بھائی، اظہارِ پسندیدگی کے لئے ممنونِ احسان ہوں۔
دعاگو،
راحل۔
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 26، 2020 4:27 شام
بہت خوب ، راحل بھائی ! اچھے اشعار ہیں !
خوبصورت زمین ہے !
راحل بھائی ، دوسرے شعر میں ایں کے بجائے آں کردیجئے ۔ پہلے مصرع میں حرفِ صلہ "جس کی" استعمال کرنے کے بعد دوسرے مصرع میں "اُس دعا" کا محل ہے ۔
سید عاطف علی — اکتوبر 26، 2020 5:14 شام
مجھے خوشا کا استعمال کسی کی طرف روئے سخن کر کے کرنا قدرے غیر موافق لگا ۔ خوشا محض مجرد کیفیتی اظہاریہ ہے اسے کسی"کو" کہنا کچھ محل نظر لگا۔ یہاں "کو" کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ خوشا کو بمعنی خوش آئند یا خوش آمدید (کی طرح) لیا گیا ہے جو بہت بعید تو نہیں لیکن مجرد اظہاریئے پر کچھ بوجھل ہے۔
دلہائے گرفتہ "پہ" خوشا کہا جائے تو کچھ البتہ قدرے بہتر ہو۔ ویسے عین ممکن ہے کہ یہ میرا ذاتی تاثر ہو۔
اور ہاں باقی غزل تو آپ کے خوب شایاں اور رواں ہے ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 5:41 شام
بہت خوب ، راحل بھائی ! اچھے اشعار ہیں !
خوبصورت زمین ہے !
راحل بھائی ، دوسرے شعر میں ایں کے بجائے آں کردیجئے ۔ پہلے مصرع میں حرفِ صلہ "جس کی" استعمال کرنے کے بعد دوسرے مصرع میں "اُس دعا" کا محل ہے ۔
بہت شکریہ ظہیر بھائی، داد و پذیرائی کے لیے سپاس گزار ہوں.
آپ کے مراسلے سے حسب سابق سیکھنے کو ملا. این اور آن کا فرق درست طور پر اگر معلوم ہوتا تو ہم بھی فارسی دانی کا دعوی کرتے

اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے.
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 26، 2020 5:54 شام
مجھے خوشا کا استعمال کسی کی طرف روئے سخن کر کے کرنا قدرے غیر موافق لگا ۔ خوشا محض مجرد کیفیتی اظہاریہ ہے اسے کسی"کو" کہنا کچھ محل نظر لگا۔ یہاں "کو" کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ خوشا کو بمعنی خوش آئند یا خوش آمدید (کی طرح) لیا گیا ہے جو بہت بعید تو نہیں لیکن مجرد اظہاریئے پر کچھ بوجھل ہے۔
دلہائے گرفتہ "پہ" خوشا کہا جائے تو کچھ البتہ قدرے بہتر ہو۔ ویسے عین ممکن ہے کہ یہ میرا ذاتی تاثر ہو۔
اور ہاں باقی غزل تو آپ کے خوب شایاں اور رواں ہے ۔
داد و پذیرائی کے لیے بہت شکریہ عاطف بھائی، جزاک اللہ.
آپ کے نکتے میں بلاشبہ وزن ہے. میں نے جب لغت میں معنی تلاش کیے تھے تو وہاں خوشحال اور بہت اچھا بھی اس کے معنی لکھے ہوئے تھے، میں نے تو اسی کے زیر اثر قافیہ ملا دیا تھا

احمد محمد — اکتوبر 27، 2020 12:55 صبح
ماشاءاللہ۔ شاد و آباد رہیں۔