غزل : سب ماہ جبیں حسنِ سراپا نہیں ہوتے از : محمد حفیظ الرحمٰن

محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 16، 2012 7:45 صبح
غزل
از : محمد حفیظ الرحمٰن
سب ماہ جبیں حسنِ سراپا نہیں ہوتے
محفل میں بھی سب انجمن آرا نہیں ہوتے
ہم سلسلہء قیس میں بیعت ہیں جبھی تو
مر جاتے ہیں پر عشق میں رسوا نہیں ہوتے
کہتا ہے یہ پیاسوں سے سرابوں کا تسلسل
آنکھوں کے یہ دھوکے کبھی دریا نہیں ہوتے
انسان کی تکلیف پہ دل جن کا نہ تڑپے
وہ یوں تو سبھی کچھ ہوں مسیحا نہیں ہوتے
جو دور سے مجذوب نظر آتے ہیں ہم کو
نزدیک سے دیکھیں تو وہ کیا کیا نہیں ہوتے
ہر پیار کے افسانے کو شہرت نہیں ملتی
سچ یہ ہے کہ سب وامق و عذرا نہیں ہوتے
آنکھوں میں سمٹ آتی ہے آفاق کی وسعت
ہم خود ہی مگر محوِ تماشا نہیں ہوتے
سینے سے لگاتے ہیں جو یادوں کے خزینے
وہ لوگ اکیلے میں بھی تنہا نہیں ہوتے
سید زبیر — اکتوبر 16، 2012 8:11 صبح
بہت عمدہ کلام
سینے سے لگاتے ہیں جو یادوں کے خزینے
وہ لوگ اکیلے میں بھی تنہا نہیں ہوتے
بہت خوب
حمید — اکتوبر 16، 2012 8:54 صبح
کہتا ہے یہ پیاسوں سے سرابوں کا تسلسل
آنکھوں کے یہ دھوکے کبھی دریا نہیں ہوتے

بہت خوب-س اور ک کی تکرار نے رواں کر دیا ہے شعر کو
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 16، 2012 6:10 شام
خوبصورت غزل ہے۔ داد قبول ہو
الف عین — اکتوبر 17، 2012 3:39 صبح
واہ، بہت خوب حفیظ
مہ جبین — اکتوبر 17، 2012 3:46 صبح
انسان کی تکلیف پہ دل جن کا نہ تڑپے
وہ یوں تو سبھی کچھ ہوں مسیحا نہیں ہوتے
بہت عمدہ کلام محمد حفیظ الرحمٰن بھائی
اسد قریشی — اکتوبر 17، 2012 6:08 صبح
انسان کی تکلیف پہ دل جن کا نہ تڑپے
وہ یوں تو سبھی کچھ ہوں مسیحا نہیں ہوتے
واہ! بہت خوب غزل ہے، بہت سی داد!
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 6:54 صبح
سید زبیر صاحب غزل کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 17، 2012 6:57 صبح
واہ واہ۔ خوب ہے۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 6:57 صبح
حمید صاحب بہت بہت شکریہ جناب۔ بڑی نوازش۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 7:02 صبح
محترم خلیل صاحب- غزل آپ کو پسند آئی مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ داد کے لئے بہت بہت شکریہ۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 7:05 صبح
استادِ محترم جناب الف عین صاحب- غزل کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ۔ سر آپ کی حوصلہ افزائی دل بڑھا دیتی ہے۔ بہت نوازش۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 7:09 صبح
جناب اسد قریشی صاحب۔ داد کے لئے بہت بہت شکریہ۔ بڑی نوازش۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 7:11 صبح
مہ جبین صاحبہ۔ غزل کی پسندیدگی کا بےحد شکریہ-
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 7:13 صبح
مزمل شیخ بسمل صاحب۔ جناب بڑی نوازش۔ بہت بہت شکریہ-
جنید اقبال — اکتوبر 17، 2012 7:34 صبح
جو دور سے مجذوب نظر آتے ہیں ہم کو
نزدیک سے دیکھیں تو وہ کیا کیا نہیں ہوتے
ہر پیار کے افسانے کو شہرت نہیں ملتی
سچ یہ ہے کہ سب وامق و عذرا نہیں ہوتے
بہت خوب بھائی
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 17، 2012 7:44 صبح
جناب جنید اقبال صاحب بہت بہت شکریہ۔ بڑی نوازش۔
اسامہ جمشید — اکتوبر 17، 2012 11:19 صبح
انسان کی تکلیف پہ دل جن کا نہ تڑپے
وہ یوں تو سبھی کچھ ہوں مسیحا نہیں ہوتے
بہت اچھی غزل ہے مزا آ گیا جی ، خدا کرے کہ ہمیں کلام شاعر بزبان شاعر سننے کا موقع ملے ۔
مدیحہ گیلانی — اکتوبر 17، 2012 11:51 صبح
واہ بہت خوبصورت غزل ہے .شریک محفل کرنے کا شکریہ۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 19، 2012 6:31 صبح
اسامہ جمشید صاحب بہت شکریہ۔ انشاءاللہ کبھی ملاقات ہوئی تو آپ سے آپ کی غزلیں سنیں گے اور آپ کو اپنی غزلیں سنائیں گے-بہت نوازش۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B3%D8%A8-%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA-%D8%AD%D8%B3%D9%86%D9%90-%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AD%D9%81%DB%8C%D8%B8-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86.55431/