غزل: صرف دھرتی پہ نہیں، نیل گگن سے آگے...

محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 13، 2021 3:22 شام
عزیزان گرامی، آداب!
ایک تازہ غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر. امید ہے آپ سب اپنی قیمتی آراء سے ضرور نوازیں گے.
دعاگو،
راحلؔ
..............................................................
صرف دھرتی پہ نہیں، نیل گگن سے آگے
نقشِ پا ہے مرا ہر نقشِ کہن سے آگے!
منزلِ جوئے سخن بحرِ تفکر میں ڈھونڈ
عشقِ فرسودہ کے ان کوہ و دمن سے آگے
وقت سے ہارا یا جیتا میں، ہے کہنا مشکل
ضبط کہ ٹوٹا، پہ ہر رنج و محن سے آگے
زیرِ دیوارِ چمن گل ہیں کئی پژمردہ
دیکھ لیں اہلِ چمن کاش چمن سے آگے
کیسے انگشت بہ دنداں ہیں سبھی اہلِ ہوس
جڑ بھی سکتا ہے کوئی رشتہ بدن سے آگے!
اک اجالا سا تھا، گو سینہِ شب چاک نہ تھا
ضوئے امید تھی سورج کی کرن سے اگے
وسعتِ عقل تمہاری مجھے تسلیم، مگر
کاش بڑھتی یہ کبھی شرّ و فتن سے آگے
کیوں نہیں بڑھ کے لگاتی ہے گلے ارضِ وطن
کیا کہیں اپنا ٹھکانا ہے وطن سے آگے؟
رہ گیا عشق کہیں راہ میں پیچھے راحلؔ
منزلیں اور بھی تھیں اس کی لگن سے آگے!
محمد تابش صدیقی — جنوری 13، 2021 4:35 شام
منزلِ جوئے سخن بحرِ تفکر میں ڈھونڈ
عشقِ فرسودہ کے ان کوہ و دمن سے آگے

رہ گیا عشق کہیں راہ میں پیچھے راحلؔ
منزلیں اور بھی تھیں اس کی لگن سے آگے!
بہت خوب
ضبط کہ ٹوٹا، پہ ہر ایک محن سے آگے
محن کے ساتھ ایک آنا کچھ کھٹک رہا ہے۔ محن جمع ہے۔
کیسے انگشت بہ دنداں ہیں سبھی اہلِ ہوس
ٹائپو لگ رہا ہے
ایس ایس ساگر — جنوری 13، 2021 4:43 شام
صرف دھرتی پہ نہیں، نیل گگن سے آگے
نقشِ پا ہے مرا ہر نقشِ کہن سے آگے!
منزلِ جوئے سخن بحرِ تفکر میں ڈھونڈ
عشقِ فرسودہ کے ان کوہ و دمن سے آگے
وقت سے ہارا یا جیتا میں، ہے کہنا مشکل
ضبط کہ ٹوٹا، پہ ہر ایک محن سے آگے
زیرِ دیوارِ چمن گل ہیں کئی پژمردہ
دیکھ لیں اہلِ چمن کاش چمن سے آگے
کیسے انگشت بہ دنداں سبھی اہلِ ہوس
جڑ بھی سکتا ہے کوئی رشتہ بدن سے آگے!
اک اجلا سا تھا، گو سینہِ شب چاک نہ تھا
ضوئے امید تھی سورج کی کرن سے اگے
وسعتِ عقل تمہاری مجھے تسلیم، مگر
کاش بڑھتی یہ کبھی شرّ و فتن سے آگے
کیوں نہیں بڑھ کے لگاتی ہے گلے ارضِ وطن
کیا کہیں اپنا ٹھکانا ہے وطن سے آگے؟
رہ گیا عشق کہیں راہ میں پیچھے راحلؔ
منزلیں اور بھی تھیں اس کی لگن سے آگے!
واہ۔ کیا خوبصورت اشعار ہیں۔ بہت خوب۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیں راحل بھائی۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 13، 2021 4:56 شام
بہت شکریہ تابش بھائی، داد و پذیرائی کے لیے ممنون ہوں.
محن کے ساتھ ایک آنا کچھ کھٹک رہا ہے۔ محن جمع ہے۔
آپ درست کہتے ہیں، کچھ تدوین کیے دیتا ہوں.
جزاک اللہ. درستی کر دی ہے.
دعاگو،
راحل.
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 13، 2021 4:58 شام
واہ۔ کیا خوبصورت اشعار ہیں۔ بہت خوب۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیں راحل بھائی۔
بہت شکریہ ساگر بھائی، بھرپور ذرہ نوازی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں. جزاک اللہ.
دعاگو،
راحل.
محمداحمد — جنوری 14، 2021 9:41 صبح
واہ!
انتہائی خوبصورت اور مرصع غزل ہے۔
ایک ایک شعر لاجواب ہے اور لائقِ صد ستائش ہے۔
ڈھیروں داد قبول کیجے اس خوبصورت غزل پر۔
خوش رہیے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2021 9:47 صبح
واہ!
انتہائی خوبصورت اور مرصع غزل ہے۔
ایک ایک شعر لاجواب ہے اور لائقِ صد ستائش ہے۔
ڈھیروں داد قبول کیجے اس خوبصورت غزل پر۔
خوش رہیے۔
بہت شکریہ احمد بھائی ۔۔۔ میرے پاس اس بھرپور داد پر سپاس گزاری کے لیے الفاظ نہیں۔ جزاک اللہ۔
محمد عبدالرؤوف — جنوری 14، 2021 10:00 صبح
واہ واہ راحل بھائی ڈھیروں داد قبول کیجیے
کیا ہی چشم کُشا اشعار کہے، بہت خوب
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2021 10:01 صبح
واہ واہ راحل بھائی ڈھیروں داد قبول کیجیے
کیا ہی چشم کُشا اشعار کہے، بہت خوب
بہت شکریہ بھائی عبدالرؤف ۔۔۔ متشکرم از صمیمِ قلب ۔۔۔ جزاک اللہ
اکمل زیدی — جنوری 14، 2021 10:28 صبح
واہ واہ ۔۔۔راحل بھائی۔۔کیا روانی ہے ۔۔۔کیا چناو ہے۔۔۔کیا خیال کی پرواز ہے ۔۔۔مزا آیا۔۔۔
ضوئے امید تھی سورج کی کرن سے آگے۔۔۔کیا ہی خوب استعارہ ہے۔۔۔بہت سی داد۔۔استاد جی۔۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2021 10:35 صبح
واہ واہ ۔۔۔راحل بھائی۔۔کیا روانی ہے ۔۔۔کیا چناو ہے۔۔۔کیا خیال کی پرواز ہے ۔۔۔مزا آیا۔۔۔
ضوئے امید تھی سورج کی کرن سے آگے۔۔۔کیا ہی خوب استعارہ ہے۔۔۔بہت سی داد۔۔استاد جی۔۔۔
بہت شکریہ برادرِ عزیز ۔۔۔ آپ کی محبت کا مقروض ہو گیا ہوں۔ جزاک اللہ۔
اکمل زیدی — جنوری 14، 2021 10:38 صبح
بہت شکریہ برادرِ عزیز ۔۔۔ آپ کی محبت کا مقروض ہو گیا ہوں۔ جزاک اللہ۔
ٹھیک ہے پھر یہ ادھار طبع زاد والی لڑی میں اتار دیں۔۔۔۔:LOL:
لیکن بھیا آپ کی غزل پر خالص ہمارے بے ساختہ جذبات تھے ورنہ ایک ساہو کار کو ایک مزارع کیا ادھار دےسکتا ہے۔۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2021 10:39 صبح
ٹھیک ہے پھر یہ ادھار طبع زاد والی لڑی میں اتار دیں۔۔۔۔:LOL:
ضرور ۔۔۔ :)
اکمل زیدی — جنوری 14، 2021 10:42 صبح
کھلی سرگوشی پر بھی نظر کیجیے گا۔۔۔مندر جہ بالا میں۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2021 10:44 صبح
لیکن بھیا آپ کی غزل پر خالص ہمارے بے ساختہ جذبات تھے ورنہ ایک ساہو کار کو ایک مزارع کیا ادھار دےسکتا ہے۔۔۔
محض آپ کی کسرِ نفسی اور اعلیٰ ظرفی ہے میرے بھائی ۔۔۔ اللہ پاک آپ کو ہنستا بستا آباد رکھے۔ آمین۔
محمد وارث — جنوری 14، 2021 11:39 صبح
عمدہ غزل ہے راحل صاحب، بہت خوب۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2021 11:42 صبح
عمدہ غزل ہے راحل صاحب، بہت خوب۔
بہت شکریہ وارث بھائی ۔۔۔ آپ کی جانب سے پذیرائی میرے لیے کسی سرمائے سے کم نہیں۔ جزاک اللہ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2021 3:39 صبح
بہت خوب راحل بھائی ! اچھے اشعار ہیں ۔ خوب غزل ہے !
اسے پڑھ کر مجھے اسی سے ملتی جلتی زمین میں اپنی ایک پرانی غزل یاد آگئی لیکن اس کے قافیے ردیف سخن سے بڑھ کر ، تھکن سے بڑھ کر وغیرہ تھے ۔ کسی دن ڈھونڈ کر نکالتا ہوں ۔ :)
راحل بھائی ، مطلع ایک دفعہ پھر دیکھ لیجئے گا ۔ نیل اسم ہے صفت نہیں ہے ۔ صفت نیلا یا نیلی ہوگی ۔ دوسری بات یہ کہ گگن سے آگے نقشِ پا ہونا کچھ ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آرہا ۔ آپ کی وضاحت شاید مدد کرسکے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 20، 2021 9:40 صبح
بہت خوب راحل بھائی ! اچھے اشعار ہیں ۔ خوب غزل ہے !
اسے پڑھ کر مجھے اسی سے ملتی جلتی زمین میں اپنی ایک پرانی غزل یاد آگئی لیکن اس کے قافیے ردیف سخن سے بڑھ کر ، تھکن سے بڑھ کر وغیرہ تھے ۔ کسی دن ڈھونڈ کر نکالتا ہوں ۔ :)
راحل بھائی ، مطلع ایک دفعہ پھر دیکھ لیجئے گا ۔ نیل اسم ہے صفت نہیں ہے ۔ صفت نیلا یا نیلی ہوگی ۔ دوسری بات یہ کہ گگن سے آگے نقشِ پا ہونا کچھ ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آرہا ۔ آپ کی وضاحت شاید مدد کرسکے۔
داد و پذیرائی کے لیے ممنون ہوں ظہیر بھائی، جزاک اللہ۔
نیل گگن کا نیلے، بے ابر آسمان کے معنی میں استعمال میرے خیال میں تو اب کافی معروف ہے، دیگر شعرا نے استعمال بھی کیا ہے اور شاملِ لغت بھی ہے۔
باقی یہ کہ آسمان کا تذکرہ تو بُعد اور رفعت کی علامت کے طور کیا گیا ہے ۔۔۔ اور نقشِ پا اپنی موجودگی کی سند کے طور پر۔ سرورؔ صاحب کے الفاظ میں (کچھ تحریف کے ساتھ) شاید ’’ اس زیادہ سکتِ شرح و بیاں نہیں‘‘ :)
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2021 6:18 شام
داد و پذیرائی کے لیے ممنون ہوں ظہیر بھائی، جزاک اللہ۔
نیل گگن کا نیلے، بے ابر آسمان کے معنی میں استعمال میرے خیال میں تو اب کافی معروف ہے، دیگر شعرا نے استعمال بھی کیا ہے اور شاملِ لغت بھی ہے۔
باقی یہ کہ آسمان کا تذکرہ تو بُعد اور رفعت کی علامت کے طور کیا گیا ہے ۔۔۔ اور نقشِ پا اپنی موجودگی کی سند کے طور پر۔ سرورؔ صاحب کے الفاظ میں (کچھ تحریف کے ساتھ) شاید ’’ اس زیادہ سکتِ شرح و بیاں نہیں‘‘ :)
راحل بھائی ، آپ کہتے ہیں تو ایسا ہی ہوگا۔ بدقسمتی سے میری نظر سے کہیں نہیں گزرا ۔ میں اب تک اس نیل گگن کو فلمی گیت نگاروں کی "بدعت" ہی سمجھتا آیا ہوں ۔ :)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D9%BE%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D9%86%DB%8C%D9%84-%DA%AF%DA%AF%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%A2%DA%AF%DB%92.114724/