محمد شکیل خورشید — جون 29، 2022 6:58 صبح
ایک تازہ غزل احباب کی نذر
عرضِ احوال کی ہے تھوڑی سی
انسیت جب بڑھی ہے تھوڑی سی
اب تسلی ہوئی ہے تھوڑی سی
بات آگے چلی ہے تھوڑی سی
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
ان سے کچھ عشق وِشق تھوڑا ہے
یونہی دیوانگی ہے تھوڑی سی
چار پل ان کے ساتھ جینے کو
زندگی مانگ لی ہے تھوڑی سی
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
محمد عبدالرؤوف — جون 29، 2022 9:52 صبح
واہ واہ اچھی غزل ہے شکیل بھائی
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
بہت خوب۔ بہت خوب
ایس ایس ساگر — جون 29، 2022 11:01 صبح
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
واہ ۔ زبردست ۔بہت عمدہ غزل ہے۔
خوبصورت اشعار پر ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیں۔ آمین۔
مقبول — جون 29، 2022 1:31 شام
ایک تازہ غزل احباب کی نذر
عرضِ احوال کی ہے تھوڑی سی
انسیت جب بڑھی ہے تھوڑی سی
اب تسلی ہوئی ہے تھوڑی سی
بات آگے چلی ہے تھوڑی سی
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
ان سے کچھ عشق وِشق تھوڑا ہے
یونہی دیوانگی ہے تھوڑی سی
چار پل ان کے ساتھ جینے کو
زندگی مانگ لی ہے تھوڑی سی
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
بہت خوب
سیما علی — جون 29، 2022 2:50 شام
چار پل ان کے ساتھ جینے کو
زندگی مانگ لی ہے تھوڑی سی
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
بہت خوب ۔
زبردست زبردست زبردست
ڈھیروں داد و تحسین
سلامت رہیے بہت ڈھیر ساری دعائیں ۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — جون 29، 2022 3:34 شام
ان سے کچھ عشق وِشق تھوڑا ہے
یونہی دیوانگی ہے تھوڑی سی
لاجواب بہت خوب
بہت عمدہ کلام
محمد شکیل خورشید — جون 30، 2022 6:21 صبح
تمام احباب کا حوصلہ افزائی پر شکریہ
الف عین — جون 30، 2022 6:39 صبح
واہ واہ شکیل میاں اچھی غزل کہی ہے ماشاء اللہ، خوش کر دیا!
اکمل زیدی — جون 30، 2022 6:42 صبح
واہ شکییل بھائی ۔۔۔ماشاءاللہ خیال اور روانی کمال ہے
اب تسلی ہوئی ہے تھوڑی سی
بات آگے چلی ہے تھوڑی سی
اب بات تھوڑی سی کہاں رہی اب تو بہت آگے نکل گئی ۔۔۔۔
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
کیا بات ہے ۔۔
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
مقطع لاجواب ۔۔۔
اوور آل عمدہ ۔ ۔ ۔
نوید ناظم — جون 30، 2022 9:47 صبح
بہت خوب!!
محمد شکیل خورشید — جولائی 1، 2022 7:04 صبح
واہ واہ شکیل میاں اچھی غزل کہی ہے ماشاء اللہ، خوش کر دیا!
بس اب تسلی ہوگئی، استادِ محترم، آپ کی سند ضروری ہوتی ہے۔ حوصلہ افزائی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — جولائی 1، 2022 7:05 صبح
واہ شکییل بھائی ۔۔۔ماشاءاللہ خیال اور روانی کمال ہے
اب تسلی ہوئی ہے تھوڑی سی
بات آگے چلی ہے تھوڑی سی
اب بات تھوڑی سی کہاں رہی اب تو بہت آگے نکل گئی ۔۔۔۔
کیا بات ہے ۔۔
مقطع لاجواب ۔۔۔
اوور آل عمدہ ۔ ۔ ۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ محترم
محمد شکیل خورشید — جولائی 1، 2022 7:06 صبح
محمداحمد — جولائی 2، 2022 11:18 صبح
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
ان سے کچھ عشق وِشق تھوڑا ہے
یونہی دیوانگی ہے تھوڑی سی
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
واہ واہ واہ!
بہت خوب!
بہت داد!
محمد شکیل خورشید — جولائی 2، 2022 11:31 شام
واہ واہ واہ!
بہت خوب!
بہت داد!
حوصلہ افزائی کا شکریہ محترم
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2022 1:06 صبح
ایک تازہ غزل احباب کی نذر
عرضِ احوال کی ہے تھوڑی سی
انسیت جب بڑھی ہے تھوڑی سی
اب تسلی ہوئی ہے تھوڑی سی
بات آگے چلی ہے تھوڑی سی
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
ان سے کچھ عشق وِشق تھوڑا ہے
یونہی دیوانگی ہے تھوڑی سی
چار پل ان کے ساتھ جینے کو
زندگی مانگ لی ہے تھوڑی سی
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
خوبصورت خوبصورت! بہت سی داد قبول فرمائیے!
یاسر شاہ — جولائی 3، 2022 6:08 صبح
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
خوب۔
محمد شکیل خورشید — جولائی 3، 2022 8:39 شام
خوبصورت خوبصورت! بہت سی داد قبول فرمائیے!
بہت عنائت محترم، حوصلہ بندھ جاتا ہے، ایک سندِ قبولیت مل جاتی ہے، آپ کی اور استادِ محترم کی داد سے
محمد شکیل خورشید — جولائی 3، 2022 8:39 شام
عرفان علوی — جولائی 4، 2022 5:50 شام
ایک تازہ غزل احباب کی نذر
عرضِ احوال کی ہے تھوڑی سی
انسیت جب بڑھی ہے تھوڑی سی
اب تسلی ہوئی ہے تھوڑی سی
بات آگے چلی ہے تھوڑی سی
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
ان سے کچھ عشق وِشق تھوڑا ہے
یونہی دیوانگی ہے تھوڑی سی
چار پل ان کے ساتھ جینے کو
زندگی مانگ لی ہے تھوڑی سی
شہر تاریک ہے بہت یہ شکیل
روشنی بانٹنی ہے تھوڑی سی
بہت عمدہ ، شکیل بھائی ! ماشاء اللہ .