سعید سعدی — مئی 22، 2018 8:16 صبح
عشق میں تخت و تاج کیا کرتے
اپنے دل کا علاج کیا کرتے
جب لکھی تھی شکست قسمت میں
جو نہ دیتے خراج کیا کرتے
میرے اس چاک پیرہن کے لیے
کچھ بٹن چند کاج کیا کرتے
گر بغاوت پہ ہم اتر آتے
پھر یہ رسم و رواج کیا کرتے
اس کا برہم مزاج کیا کہنے
ہم شگفتہ مزاج کیا کرتے
اس کی بستی میں بے وفائی کا
چل پڑا تھا رواج کیا کرتے
حسبِ معمول درمیان میں تھا
پھر یہ ظالم سماج کیا کرتے
کل ملاقات اس سے طے تھی مگر
یہ بتاؤ کہ آج کیا کرتے
کچھ نہ بولے کوئی گلہ نہ کیا
اس کی رکھنی تھی لاج کیا کرتے
اتنی مہلت نہ مل سکی سعدی
ہم ترے دل پہ راج کیا کرتے
الف عین — مئی 22، 2018 8:21 شام
واہ۔ عمدہ ہے غزل
یاز — مئی 22، 2018 9:31 شام
زبردست غزل ہے جناب۔ بہت خوب۔
سعید سعدی — مئی 23، 2018 7:23 صبح
سعید سعدی — مئی 23، 2018 7:23 صبح
زبردست غزل ہے جناب۔ بہت خوب۔
بہت شکریہ بہت نوازش
عرفان سعید — مئی 23، 2018 7:33 صبح
ماشاءاللہ! بہت خوب غزل کہی ہے آپ نے!
سعید سعدی — مئی 23، 2018 8:27 صبح
ماشاءاللہ! بہت خوب غزل کہی ہے آپ نے!
بہت شکریہ بہت نوازش
محمداحمد — مئی 23، 2018 8:29 صبح
بہت خوب
عمدہ غزل ہے بھائی!
ڈھیروں ڈھیر داد

سعید سعدی — مئی 23، 2018 8:31 صبح
بہت خوب
عمدہ غزل ہے بھائی!
ڈھیروں ڈھیر داد
بہت شکریہ بہت نوازش ممنون ہوں

محمد وارث — مئی 23، 2018 11:04 صبح
عمدہ غزل ہے سعدی صاحب، لاجواب!
سعید سعدی — مئی 23، 2018 1:31 شام
عمدہ غزل ہے سعدی صاحب، لاجواب!
بہت نوازش بہت شکریہ جناب
شکیب — مئی 23، 2018 3:21 شام
کچھ دن سے ایک عزیز فیس بک میسنجر میں لگاتار اپنی "شاعری" بھیج رہے ہیں، اور میں مروت کے مارے کچھ کر نہیں پا رہا ہوں...
ایسے میں آپ کی یہ غزل... واہ!
دل کی گہرائیوں سے داد قبول فرمائیے...
کاشف اختر — مئی 23، 2018 5:56 شام
بہت خوب عمدہ پیشکش۔۔۔۔
فاخر رضا — مئی 23، 2018 6:01 شام
اچھی غزل ہے
مجھے لفظ بٹن کا استعمال سمجھ نہیں آیا
الف عین
محمد خرم یاسین — مئی 23، 2018 6:42 شام
کیا جدید شعر ہے
میرے اس چاک پیرہن کے لیے
کچھ بٹن چند کاج کیا کرتے
خوبصورت غزل بہت مبارکباد
شکیب — مئی 23، 2018 7:19 شام
اچھی غزل ہے
مجھے لفظ بٹن کا استعمال سمجھ نہیں آیا
الف عین
بٹن یعنی تکمہ
سعید سعدی — مئی 24، 2018 6:38 صبح
کچھ دن سے ایک عزیز فیس بک میسنجر میں لگاتار اپنی "شاعری" بھیج رہے ہیں، اور میں مروت کے مارے کچھ کر نہیں پا رہا ہوں...
ایسے میں آپ کی یہ غزل... واہ!
دل کی گہرائیوں سے داد قبول فرمائیے...
بہت شکریہ محترم
سعید سعدی — مئی 24، 2018 6:40 صبح
کیا جدید شعر ہے
میرے اس چاک پیرہن کے لیے
کچھ بٹن چند کاج کیا کرتے
خوبصورت غزل بہت مبارکباد
بہت شکریہ محترم
سعید سعدی — مئی 24، 2018 6:45 صبح
تہمد میں بٹن جب لگنے لگے جب دھوتی سے پتلون اگا
ہر پیڑ پر اک پہرا بیٹھا ہر کھیت میں اک قانون اگا
محمد خرم یاسین — مئی 24، 2018 9:17 صبح
تہمد میں بٹن جب لگنے لگے جب دھوتی سے پتلون اگا
ہر پیڑ پر اک پہرا بیٹھا ہر کھیت میں اک قانون اگا
سعید بھائی یہ کس کا شعر ہے ؟