غزل: نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے ٭ تابش

محمد تابش صدیقی — فروری 16، 2021 7:38 صبح
نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے
نہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہے
طویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقت
یہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہے
ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی
وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے
سنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصے
یہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہے
وہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب کی بابت
یہ ہے سوال مگر خود جواب جیسا ہے
لگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزل
گلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہے
متاعِ عیش و طرب ہی میں گم نہ ہو تابشؔ
یہ عالمِ گُزَراں اک حباب جیسا ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 16، 2021 8:24 صبح
نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے
نہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہے
طویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقت
یہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہے
ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی
وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے
سنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصے
یہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہے
وہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب کی بابت
یہ ہے سوال مگر خود جواب جیسا ہے
لگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزل
گلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہے
متاعِ عیش و طرب ہی میں گم نہ ہو تابشؔ
یہ عالمِ گُزَراں اک حباب جیسا ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
خوبصورت خوبصورت!!!
محمد عبدالرؤوف — فروری 16، 2021 8:36 صبح
بہت خوب تابش بھائی
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 16، 2021 8:38 صبح
ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی
وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے
اچھا ہے، اچھا ہے!!! :)
خوب غزل ہے ماشاء اللہ ۔۔۔ مطلع کافی جاندار کہا ہے ۔۔۔ بہت داد۔
محمد تابش صدیقی — فروری 16، 2021 12:01 شام

بہت خوب تابش بھائی

اچھا ہے، اچھا ہے!!! :)
خوب غزل ہے ماشاء اللہ ۔۔۔ مطلع کافی جاندار کہا ہے ۔۔۔ بہت داد۔
آپ احباب کی جانب سے پذیرائی پر شکر گزار ہوں۔ :)
عاطف ملک — فروری 16، 2021 2:26 شام
ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی
وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے
کیا بات ہے۔۔۔۔بہت خوب۔
کمال است
محمد تابش صدیقی — فروری 17، 2021 3:28 صبح
کیا بات ہے۔۔۔۔بہت خوب۔
کمال است
آداب
اے خان — فروری 17، 2021 3:38 صبح
نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے
نہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہے
طویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقت
یہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہے
ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی
وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے
سنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصے
یہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہے
وہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب کی بابت
یہ ہے سوال مگر خود جواب جیسا ہے
لگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزل
گلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہے
متاعِ عیش و طرب ہی میں گم نہ ہو تابشؔ
یہ عالمِ گُزَراں اک حباب جیسا ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
واہ بہت خوب تابش بھائی
محمد وارث — فروری 17، 2021 3:42 صبح
اچھی غزل ہے صدیقی صاحب، بہت خوب۔
اے خان — فروری 17، 2021 3:44 صبح
اچھی غزل ہے صدیقی صاحب، بہت خوب۔
بہت دنوں بعد وارث بھائی
محمد وارث — فروری 17، 2021 3:45 صبح
بہت دنوں بعد وارث بھائی
خان صاحب میں تو ادھر ہی ہوتا ہوں، آپ بہت دنوں بعد نظر آئے ہیں۔ :)
اے خان — فروری 17، 2021 3:52 صبح
خان صاحب میں تو ادھر ہی ہوتا ہوں، آپ بہت دنوں بعد نظر آئے ہیں۔ :)
کچھ ہم میں کمی تھی کچھ وغیرہ وغیرہ اس طرح کا شعر تھا اب یاد نہیں آرہا:p
محمد وارث — فروری 17، 2021 3:55 صبح
کچھ ہم میں کمی تھی کچھ وغیرہ وغیرہ اس طرح کا شعر تھا اب یاد نہیں آرہا:p
شعر بھی کوئی یاد رکھنے کی چیز ہے خان صاحب، چہرے یاد رکھنے چاہئیں اور بس، اللہ اللہ۔ :)
محمد تابش صدیقی — فروری 17، 2021 5:28 صبح
واہ بہت خوب تابش بھائی

اچھی غزل ہے صدیقی صاحب، بہت خوب۔
پسند فرمانے پر ممنون ہوں۔
اکمل زیدی — فروری 17، 2021 6:02 صبح
عمدہ کہہ گئے۔۔تابش بھائی۔۔۔بہت اچھے۔۔۔
محمداحمد — فروری 17، 2021 6:25 صبح
بہت خوب تابش بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
طویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقت
یہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہے
ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی
وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے
لگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزل
گلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہے

کیا کہنے !
بہت سی داد اور مبارکباد خاکسار کی طرف سے۔:in-love:
الف عین — فروری 17، 2021 7:02 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
محمد تابش صدیقی — فروری 17، 2021 10:26 صبح
عمدہ کہہ گئے۔۔تابش بھائی۔۔۔بہت اچھے۔۔۔

بہت خوب تابش بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
کیا کہنے !
بہت سی داد اور مبارکباد خاکسار کی طرف سے۔:in-love:
محبتوں کے لیے شکر گزار ہوں۔
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
جزاک اللہ خیر استادِ محترم
عرفان علوی — فروری 21، 2021 5:18 صبح
نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے
نہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہے
طویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقت
یہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہے
ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی
وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے
سنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصے
یہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہے
وہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب کی بابت
یہ ہے سوال مگر خود جواب جیسا ہے
لگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزل
گلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہے
متاعِ عیش و طرب ہی میں گم نہ ہو تابشؔ
یہ عالمِ گُزَراں اک حباب جیسا ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی

تابش صاحب، سلام عرض ہے ۔ بہت عمدہ غزل ہے ۔ مبارکباد اور داد حاضر ہے ۔
نیازمند،
عؔرفان عابد
محمد تابش صدیقی — فروری 21، 2021 5:42 صبح
تابش صاحب، سلام عرض ہے ۔ بہت عمدہ غزل ہے ۔ مبارکباد اور داد حاضر ہے ۔
نیازمند،
عؔرفان عابد
بہت شکریہ عرفان بھائی۔ سپاس گزار ہوں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%D9%90-%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84%D9%90-%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA-%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.115176/