ارے، یار
کاشف عمران صاحب۔
اتنی بھی کیا مایوسی! وہ زمانہ تو گیا، جب نوابوں، راجاؤں اور بادشاہوں کا بہت غلغلہ تھا ۔۔ اہلِ قلم کی ’’قدر دانی‘‘ کا! قصے کہانیوں میں سنتے ہیں کہ غالب ہمہ وقتی سے بھی زیادہ شاعر تھا، اور نوابوں کی سی زندگی گزارتا تھا۔ استاد ذوق کی سواری کو تب کے دلی والے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے اور ڈرتے بھی کہ اس بگھی کو کوئی غریب ہاتھ چھو گیا تو خود پتھر کا ہو جائے گا۔ اندر کی بات تو یہ بھی ہے کہ ’’قدر دان‘‘ اپنے ’’قصیدے‘‘ بھی لکھواتے! محسوسات کی باتوں پر دل بہت دُکھتا ہے، سو اِن داستانوں کو جانے دیجئے۔
اب تو یہی ہے کہ صاحب کمائیے بھی خود، لکھئے بھی خود، چھپائی کا خرچہ بھی خود کیجئے اور پھر ایک ایک ’’دکان‘‘ پر اپنے ’’اعزازئیے‘‘ کی ’’بھیک‘‘ بھی خود جا کر مانگئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کا عام ادیب (اگر وہ سچ مچ ادیب ہے تو) بہت بڑا مجاہدہ کر رہا ہے، خواص کی باتیں خواص جانیں۔ میں نے اپنے حلقے میں دیکھا ہے کہ یار لوگ اپنے ساتھ دوسروں کی چائے کا خرچہ بھی اپنی تنخواہ سے دیتے ہیں اور محفلیں بھی برپا کرتے ہیں۔ پروفیسر احسان اکبر نے ایک بار مجھ سے کہا تھا ’’آسی بھائی! یہ تو گھر پھونک تماشا ہے۔‘‘ بڑی تلخ اور بڑی سچی بات ہے کہ یہ گھر پھونک تماشا ہے؛ دل کی دولت سے دنیا کی دولت تک جو جتنا کچھ جلا سکے جلا کر لطف لے! ۔
اس لئے بھی تری تصویر جلا دی میں نے
اور کچھ تھا ہی نہیں دل کو جلانے کے لئے
۔۔۔ ۔
کیا خوب نقشہ کھینچا ہے آپ نے۔ سبحان اللہ۔ نثر میں ہی شہر آشوب لکھ ڈالی۔
ویسے میں اگر راجوں کے دور میں بھی ہوتا تو قصیدہ گوئی پر مر جانے کو ترجیح دیتا کہ طبیعت میں ہر طرح کی غلامی سے بغاوت کا مادّہ ہے۔ میں تو اِس زمانے میں سرکاری نوکری نہ کر سکا اور "تیس برس کی عمر" میں پرو گرامنگ سیکھ کر بیوروکریسی چھوڑ سافٹ ویئر کی دنیا میں آ یا تا کہ جو جی میں آئے کر سکوں (یہ سارا قصہ میں نے تعارف میں گول کیا، کہ بات لمبی ہو چلی تھی)۔ آزادی کی ایسی لگن کتنے لوگوں میں ہوتی ہو گی!
شکر کرتا ہوں کہ آج دو دو ٹکے کے وفاقی وزیروں، اسمبلی ممبروں، سینیٹروں، سیکر ٹریوں اور دیگر بیوروکریٹوں کی شکلیں نہیں دیکھنی پڑتیں۔ ان کی شکل تو ٹی وی پر دیکھ کر ابکائی سی آتی ہے۔ "لائیو" دیکھنا تو ایک قیامت سے کم نہ تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں سب سے ناپسندیدہ جملہ ہے : "صاحب یاد کر رہے ہیں"۔ "صاحب" کون ہوتے ہیں مجھے یاد کرنے والے؟ میں تو ایک "خیال" سے باتیں کرنا چاہ رہا ہوں۔
ویسے آپ کے اس تبصرے سے شرحِ قلب کاایک عجیب احساس ہوا۔ایک طرح کی راحت بھی ہوئی کہ نوجوانی میں کیا گیا ایک مشکل ترین فیصلہ کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا۔ آج کم از کم خود کو ایک کامیاب پروگرامر تو کہہ سکتا ہوں! رہی شاعری، تو مجھ سے جانے کتنے آئے اور آگے بھی آئیں گے۔ شاعری کے علاوہ بچپن سے "ریاضِیانہ منطق" (یونانی منطق نہیں) میں بھی دلچسپی تھی۔ اسی کے "4=2+2" جیسے فارمولوں کو نظر میں رکھ کر "دنیاوی" علوم کی طرف مائل ہوا تھا۔
آخرمیں جو آپ نے بات "مجاہدہ" کی کی ہے۔ اس پر تو اتنا ہی کہوں گا کہ "جہاد و مجاہدہ" مجھ ایسے دنیا دار کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو صوفیوں کے کام ہیں۔ میں تو راحت کا طلبگار ہوں۔