.
منے میاں! اچھا کیا حذف کر دیا۔
منے میاں! اچھا کیا حذف کر دیا۔
میرے من میں ایسا کچھ نہیں، مجھے یہ غزل تو اچھی لگی۔ ارشد رشید صاحب کا کہنا تھا کہ چیری کا فارسی میں مطلب لونڈی بھی ہے۔ لیکن ایسا کون شریف آدمی ہے جو "چیری کے پیڑ" پڑھ کر بھی اس چیری کا مطلب لونڈی لے گا۔
کیا یہاں "تو" کی بجائے "وہ" نہیں آنا چاہیے۔
دوسرا مصرع "تیری یاد میں اک دیوانی آہ و زاری کرتی ہے" یوں نثر سے زیادہ قریب ہے لیکن اس طرح نہ کہنے کی کیا وجہ ہے؟
عزیزی یاسر صاحب: مجھ کو احساس ہے کہ میرا تبصرہ نا مکمل اور :غیر تبصری: قسم کا تھا اور آپ کی اس ضمن میں الجھن غلط نہیں ہے۔ معذرت قبول کیجئے۔ رہ گئی تقطیع تو اس بحر کی تقطیع خاصی الجھی ہوئی ہے اور عام شاعر ایسی نزاکتوں سے بھاگتا ہے۔ پہلے میں کر لوں اور اپنی حد تک اطمینان بھی کر لوں کہ کم وبیش صحیح ہے پھر حاضر ہوتا ہوں۔ صبر تو ویسے بھی اچھی چیز ہے۔ انشا اللہ۔ویسے آپ کی اس غزل پراپنی عمومی رائے پر میں برابر قائم ہوں۔ برا نہ مانیں۔ یہ اصولی بات ہے اور کچھ نہیں۔ جزاک اللہ خیرا۔ایک بات یاد آئی : اگر آپ مناسب جانیں تو اپنا ای میل مجھ کو ٹیکسٹ کر دیں؛ 8179179551 یہ تو آپ جانتے ہیں کہ امریکہ۱+ ہے۔
ارے استاد محترم سرور صاحب آپ شرمندہ کر رہے ہیں مجھے ،آپ کو معذرت کی اصلا کوئی ضرورت نہیں -
جی صبر کا دامن تھام رکھا ہے -
جی آپ آئندہ بھی اسی طرح بے لاگ لکھتے رہیے کہ بقول جگر :
میں نے آپ کو ای میل ارسال کر دیا ہے -
گو یہ سب باتیں بظاہر اظہار نقص کے لیے کی گئی ہیں لیکن صاحب بات یہ ہے کہ بقول غالب :
بھائی میں نے خود کشی نہیں کرنی ،یہ تو سب خود کشی کے آثار ہیں -
شکریہ روفی بھائی ۔
یاسر بھائی ، اِس غزل كے اشعار میں مجھے ایک انفرادیت اور تازگی کا احساس ہوا . شاید اِس کی وجہ اِس میں مستعمل ساز و سامان ( چیری ، چنار ، دفتر ) ہے . البتہ ’نقد نگاری‘ کچھ عجیب لگا . ’نقد‘ کا استعمال بمعنی ’تنقید‘ میری نگاہ سے پہلے نہیں گزرا . آپ ’نکتہ نگاری‘ جیسا کچھ کہتے تو بہتر ہوتا .
وعلیکم السلام -
رنگ سے نہ ہٹنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ شاعری میں جہاں کرافٹ ہوتا ہے، وہیں ایک آرٹ بھی ہوتا ہے -کرافٹ تو ہے اوزان ،تلفّظ ،زبان و بیان وغیرہ اور اس میں کئی جگہ پر دو اور دو چار کی منطق کارفرما ہوتی ہے اور اس منطق کو مان لینے میں ہی عافیت ہے نہ ماننا اور کہنا کہ نہیں دو اور دو پانچ ہوتے ہیں محض ہٹ دھرمی ہے لیکن جو شاعری کا آرٹ ہے اس کا مدار شاعر کے ذوق پہ ہوتا ہے جس پر دو اور دو چار کی منطق لاگو نہیں ہوسکتی اور ذوق لوگوں کا مختلف ہوتا ہے -پھر یہ دونوں غزلیں کچھ نہیں کچھ نہیں تین برس سے زائد مدّت تک میرے ساتھ رہی ہیں اور ہر زاویے سے دیکھ کر ،تراش خراش کے بعد یہاں پیش کی ہیں -پھر ہر کرم فرما آپ کی طرح کا نہیں ہوتا کہ اوروں کی کاوش پہ بھی اتنا وقت صرف کرے ،محض اپنی ذوقی رائے دے کر کے باذوق لوگ چلے جاتے ہیں سو ایسوں کے لیے خود کو بے ذوق کیا کرنا-
آداب عرض ہے -جزاک الله خیر -
آداب-الله جل شانہ خوش و خرّم اور عافیت سے رکھے آپ کو -آمین
دیکھیے ایک تسلسل ہے ،پہلے جدائی میں رنگوں کا لطف اٹھایا گیا، پھر باد بہاری کا اور اب قرینے کا -ایک المیے کا ذکر ہے کہ انسانیت کے ایک بڑے گروہ نے طے کر رکھا ہے کہ ٹھوکھر کھا کر ہی سدھرنا ہے -
آداب عرض ہے -
جزاک الله خیر -
بجا فرمایا- پوری غزل منفرد ہو یہ محال ہے -
برادر مکرم آپ کی ذرہ نوازی پہ آپ کا ممنون ہوں -جزاک الله خیر
نہیں علوی بھائی محض الفاظ سے کیا ہوتا ہے -اوپر کے ایک مراسلے میں شکیل صاحب نے غزل کی انفرادیت کا کھوج لگایا ہے ،اسے دیکھ لینے میں حرج نہیں -
یاسر بھائی ، تفصیلی جواب کا شکریہ ! اِس غزل کی بحر کی جو مثالیں آپ نے فراہم کی ہیں ، وہ میرے علم میں نہیں تھیں . زحمت كے لیے ممنون ہوں . یہاں ایک غلطی کا اعتراف بھی کرتا چلوں . میں نے عرض کیا تھا کہ آپ نے متقارب اور متدارک بحور كے اركان ملا کر استعمال کیے ہیں . دَر اصل مجھے کہنا یہ تھا کہ فعلن فعلن اور فعل فعولن كے ساتھ آپ نے فعول فعلن استعمال کیا ہے ، جس کی مثالیں میری نگاہ میں نہیں تھیں . خیر ، آپ میرا موقف سمجھ گئے .
علوی بھائی آپ کی باتوں سے بزرگی کی خوشبو آتی ہے --الله جل شانہ آپ کو صحت و عافیت سے رکھے - آمین