غزل: گر چہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی تھا : مزمل شیخ بسملؔ

محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 13، 2013 2:57 صبح
ایک بات بتا دیجئے؛ کیا ہم اس کو تضمین کہہ سکتے ہیں؟
جناب مزمل شیخ بسمل
بہت خوب غزل ہے جناب۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے۔
ہمیں تو پوری غزل اس شعر کا جواب نظر آئی۔ وللہ اعلم
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا​
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی ء داماں بھی تھا​
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 13، 2013 2:59 صبح
دل میں ڈر اور ہاتھ میں ساغر لئے پھرتا رہا
گو بظاہر رند تھا پر صاحبِ ایماں بھی تھا

بہت عمدہ۔ واہ وا
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2013 3:14 صبح
ہمیں تو پوری غزل اس شعر کا جواب نظر آئی۔ وللہ اعلم​

اس فقیر کے سوال کا مدعا بھی یہی تھا، جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب۔ اور صاحبِ غزل سے اس کا جواب بھی اثبات میں ملا۔
اللہ خوشیاں دے۔
مزمل شیخ بسمل — مارچ 13، 2013 6:22 صبح
بہت خوب غزل ہے جناب۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے۔
ہمیں تو پوری غزل اس شعر کا جواب نظر آئی۔ وللہ اعلم
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا​
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی ء داماں بھی تھا​

بہت شکریہ خلیل بھائی۔ آپ کی محبت ہے۔ :)
اس فقیر کے سوال کا مدعا بھی یہی تھا، جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب۔ اور صاحبِ غزل سے اس کا جواب بھی اثبات میں ملا۔
اللہ خوشیاں دے۔

استادِ محترم اسے تضمین ہی کہہ لیجئے مگر ردیف میں ایک خفیف سا فرق کردیا ہے میں نے۔ اصل شعر یوں ہے:
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے
میں نے ردیف کے "ہے" کو "تھا" کردیا ہے۔
مزمل شیخ بسمل — مارچ 13، 2013 6:48 صبح
میں تو سہل پسند آدمی ہوں۔ اگر یہ مصرع میرا ہوتا تو میں اس کو یوں کر لیتا:
ع:
بجھ کے خالی

ہوگیا جو

چشمِ نم کی

سیل سے
ہمزۂ آخر کا معاملہ الگ ہے۔ اختیار بہر حال آپ کے پاس ہے۔ خوش رہئے۔

مصرع کی اس صورت کو اختیار کرنے میں مجھے تامل تھا۔ شعر میں "ہے" اور "تھا" کا تناسب جو لذت بخش رہا تھا وہ بنا "ہے" کہ مجھے محسوس نہیں ہورہی ہے۔ بہر حال بہت شکر گذار آپ کی اس قدر توجہ کا۔ امید ہے ہمیشہ یہ توجہ حاصل رہے گی۔
الف عین — مارچ 13، 2013 7:07 صبح
غالب کی اس غزل میں ’ہائے ہائے‘ فاعلات کے ہم وزن ہے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2013 8:27 صبح
عمر بھر کا تو نے پیمانِ وفا باندھا تو کیا
عمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہائے ہائے


غالب کی اس غزل میں ’ہائے ہائے‘ فاعلات کے ہم وزن ہے۔
جناب الف عین کے ارشاد کے مطابق اس مصرعے
عمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہائے ہائے
کی بحر فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات ہوئی یعنی ’’مقصور‘‘۔
۔۔۔
سادہ انداز میں کیا یوں کہا جا سکتا ہے؟ کہ ’’بحر رمل مثمن کی محذوف اور مقصور صورتیں مقابل آ سکتی ہیں؟‘‘ میرا خیال ہے ’’ہاں‘‘۔
۔۔۔
تاہم میرے لئے ’’ہائے ہائے‘‘ کے آخری ہمزہ کا معاملہ آخری ’’جو‘‘ سے مختلف ہے کہ میں اس ’’جو‘‘ کو واو کے بغیر پڑھ ہی نہیں سکتا۔ جناب شیخ صاحب اس کو محذوف اور مکفوف کا خلط کہہ رہے ہیں گویا ’’محذوف مکفوف مخلوط‘‘؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرت خواہ ہوں۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2013 8:30 صبح
اگر یہ مصرع میرا ہوتا تو​
۔۔۔۔
اور
ہمزۂ آخر کا معاملہ الگ ہے۔ اختیار بہر حال آپ کے پاس ہے۔​

ان گزارشات کے بعد میرے پاس صرف ایک گزارش بچتی ہے۔ اور وہ ہے: ’’دعاؤں میں یاد رکھئے گا‘‘!
مزمل شیخ بسمل — مارچ 13، 2013 9:14 صبح
جی. محذوف کے کی جگہ مقصور یا مکفوف کا خلط ہر طرح جائز ہے. ہائے ہائے کے آخر سے جس طرح ے کو گرایا گیا ہے اسی طرح جو سے واؤ کو گرایا جاتا ہے. یہ عام بات ہے. اور اگر مان لیا جائے کہ غالب کا مصرع مقصور ہے تو بھی مکفوف کو استعمال کرنا کہیں منع نہیں. اور نہ ہی جو سے واؤ گرنا نا جائز ہے.
نوٹ: یہ بات میرے مصرعے سے قطع نظر خالص تکنیکی نظریہ ہے. مجھے اپنے مصرعے پر بحث نہیں.
:)
سید اِجلاؔل حسین — مارچ 16، 2013 8:35 صبح
دل میں ڈر اور ہاتھ میں ساغر لئے پھرتا رہا
گو بظاہر رند تھا پر صاحبِ ایماں بھی تھا
واہ، بہت خوب! داد وصول کیجیے!​
مزمل شیخ بسمل — مارچ 16، 2013 10:04 صبح
دل میں ڈر اور ہاتھ میں ساغر لئے پھرتا رہا
گو بظاہر رند تھا پر صاحبِ ایماں بھی تھا
واہ، بہت خوب! داد وصول کیجیے!​

بہت شکریہ جناب. آپ کی محبت
محمد بلال اعظم — مارچ 16، 2013 10:42 صبح
ہم خرابے میں پڑے مرتے ہیں وقتِ نزع آج
تھوڑا آگے بڑھتے تو عشرت کا ہر ساماں بھی تھا
دل میں ڈر اور ہاتھ میں ساغر لئے پھرتا رہا
گو بظاہر رند تھا پر صاحبِ ایماں بھی تھا

واہ واہ
مزمل بھائی کیا خوب غزل اور کیا خوبصوررت اشعار ہیں
مزمل شیخ بسمل — مارچ 16، 2013 11:44 صبح
واہ واہ
مزمل بھائی کیا خوب غزل اور کیا خوبصوررت اشعار ہیں
شکریہ بلالِ عظیم :)
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 16، 2013 5:29 شام
بہت خوب مزمل بھائی! آپ کی یہ پہلی غزل ہے جو میں نے تفصیل سے پڑھی اور محظوظ ہوا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
مزمل شیخ بسمل — مارچ 16، 2013 5:34 شام
بہت خوب مزمل بھائی! آپ کی یہ پہلی غزل ہے جو میں نے تفصیل سے پڑھی اور محظوظ ہوا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

بہت شکریہ اسامہ۔ :)
محمد بلال اعظم — مارچ 17، 2013 4:40 صبح

:laughing:
سید شہزاد ناصر — مارچ 17، 2013 11:19 صبح
ہم خرابے میں پڑے مرتے ہیں وقتِ نزع آج
تھوڑا آگے بڑھتے تو عشرت کا ہر ساماں بھی تھا
کیا ہی کہنے بہت خوب :)
بہت ہی خوبصورت کلام​
اللہ کرے زورِ قلم زیادہ​
مزمل شیخ بسمل — مارچ 17، 2013 5:14 شام
ہم خرابے میں پڑے مرتے ہیں وقتِ نزع آج
تھوڑا آگے بڑھتے تو عشرت کا ہر ساماں بھی تھا
کیا ہی کہنے بہت خوب :)
بہت ہی خوبصورت کلام​
اللہ کرے زورِ قلم زیادہ​

شکریہ ناصر صاحب۔ حسن ظن آپ کا۔ :)
محمد ریحان قریشی — فروری 11، 2017 3:09 شام
جی. محذوف کے کی جگہ مقصور یا مکفوف کا خلط ہر طرح جائز ہے. ہائے ہائے کے آخر سے جس طرح ے کو گرایا گیا ہے اسی طرح جو سے واؤ کو گرایا جاتا ہے. یہ عام بات ہے. اور اگر مان لیا جائے کہ غالب کا مصرع مقصور ہے تو بھی مکفوف کو استعمال کرنا کہیں منع نہیں. اور نہ ہی جو سے واؤ گرنا نا جائز ہے.
نوٹ: یہ بات میرے مصرعے سے قطع نظر خالص تکنیکی نظریہ ہے. مجھے اپنے مصرعے پر بحث نہیں.
:)
بحر الفصاحت میں درج ہے کہ کف، شکل اور خبل عروض و ضرب میں نہیں آتے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%AF%D8%B1-%DA%86%DB%81-%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC%D9%90-%D8%AA%D9%86%DA%AF%DB%8C%D9%90-%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D9%85%D8%B2%D9%85%D9%84-%D8%B4%DB%8C%D8%AE-%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84%D8%94.60969/page-2