کیوں نہیں معان بھائی کیوں نہیں! ۔ سارا کھیت ہی آپ کا ہے ۔ جہاں سے چاہے چگیے ۔
یہ دیکھئے آپ کے لئے کہا ہے :
مرے شکستہ سے لفظوں میں جھانک کر دیکھو
محبتوں کے ہزاروں جہانِ معنی ہیں
معان بھائی! آپ اور آپ کی اردو سے محبت کے حوالے سے دو اشعار بھی فی البدیہہ گھڑے ہیں۔ کچھ مزاحیہ سے ہیں ۔ اگر آپ اجازت دیں گے تو پیش کروں گا ورنہ کل پرسوں تک بھول جاؤں گا !
کیوں نہیں معان بھائی کیوں نہیں! ۔ سارا کھیت ہی آپ کا ہے ۔ جہاں سے چاہے چگیے ۔
یہ دیکھئے آپ کے لئے کہا ہے :
مرے شکستہ سے لفظوں میں جھانک کر دیکھو
محبتوں کے ہزاروں جہانِ معنی ہیں
معان بھائی! آپ اور آپ کی اردو سے محبت کے حوالے سے دو اشعار بھی فی البدیہہ گھڑے ہیں۔ کچھ مزاحیہ سے ہیں ۔ اگر آپ اجازت دیں گے تو پیش کروں گا ورنہ کل پرسوں تک بھول جاؤں گا !
آپ کی اس محبت سے ہمارے دستخط کی زینت اور زیادہ بڑھ گئی ہے ۔
آپ کے شکر گزار ہیں ظہیر بھیا ۔
یاسر شاہ — ستمبر 21، 2019 12:45 شام
السلام علیکم احمد بھائی - پچھلے دنوں ایک واقعہ ہوا -مسجد میں میں بیٹھا تھا- ایک بغلول ٹائپ آدمی نے میرے آگے نماز کی نیّت باندھ لی -بلا مبالغہ کہوں گا کہ قیام میں انھوں نے ٹانگیں پھاڑ رکھی تھیں -کرتہ ان کا نہایت چھوٹا تھا، رانوں تک دامن ختم -رکوع اور سجود میں گئے تو مجھے نظر پھیرنی پڑ گئی -دل ہی دل میں لاحول بھی پڑھی اور سوچا یہ طریقہ پیارے نبی علیھ الصلا ة والسلام کا ہو ہی نہیں سکتا- یہ لوگ دماغ کی خشکی کا شکار ہیں-ائمہ کے نزدیک قیام میں پیروں کے درمیان فاصلے میں اختلاف ضرور ہے لیکن کوئی ان صاحبوں کی طرح ٹانگیں پھاڑنے کا قائل نہیں -بعض اوقات جماعت کی نماز میں یہ حضرات اس قدر شدّت کرتے ہیں کہ جب تک اپنے پاؤں سے ہمارے پاؤں کی انگلی کچل نہ دیں انھیں چین نہیں پڑتا -اور سمجھاؤ تو ائمّہ حضرات کی شان میں گستاخی - آپ کی اس غزل کی زمین میں ایک قطعہ ہو گیا : آئے بت خانے میں جمال لیے
جنھیں مسجد میں تھا جلال پسند
ٹانگیں پھاڑے کھڑے ہیں صف میں یوں
گویا رب سے بھی ہو قتال پسند
السلام علیکم احمد بھائی - پچھلے دنوں ایک واقعہ ہوا -مسجد میں میں بیٹھا تھا- ایک بغلول ٹائپ آدمی نے میرے آگے نماز کی نیّت باندھ لی -بلا مبالغہ کہوں گا کہ قیام میں انھوں نے ٹانگیں پھاڑ رکھی تھیں -کرتہ ان کا نہایت چھوٹا تھا، رانوں تک دامن ختم -رکوع اور سجود میں گئے تو مجھے نظر پھیرنی پڑ گئی -دل ہی دل میں لاحول بھی پڑھی اور سوچا یہ طریقہ پیارے نبی علیھ الصلا ة والسلام کا ہو ہی نہیں سکتا- یہ لوگ دماغ کی خشکی کا شکار ہیں-ائمہ کے نزدیک قیام میں پیروں کے درمیان فاصلے میں اختلاف ضرور ہے لیکن کوئی ان صاحبوں کی طرح ٹانگیں پھاڑنے کا قائل نہیں -بعض اوقات جماعت کی نماز میں یہ حضرات اس قدر شدّت کرتے ہیں کہ جب تک اپنے پاؤں سے ہمارے پاؤں کی انگلی کچل نہ دیں انھیں چین نہیں پڑتا -اور سمجھاؤ تو ائمّہ حضرات کی شان میں گستاخی - آپ کی اس غزل کی زمین میں ایک قطعہ ہو گیا : آئے بت خانے میں جمال لیے
جنھیں مسجد میں تھا جلال پسند
ٹانگیں پھاڑے کھڑے ہیں صف میں یوں
گویا رب سے بھی ہو قتال پسند
پچھلے دنوں ایک واقعہ ہوا -مسجد میں میں بیٹھا تھا- ایک بغلول ٹائپ آدمی نے میرے آگے نماز کی نیّت باندھ لی -بلا مبالغہ کہوں گا کہ قیام میں انھوں نے ٹانگیں پھاڑ رکھی تھیں -
بے پردگی نہ ہو اس کی احتیاط سب کو کرنی چاہیے۔ آج کل کچھ نوجوان اس قسم کا لباس پہنتے ہیں کہ وہ نماز میں اُن کا ستر ڈھکنے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ نتیجتاً اسی قسم کے معاملات پیش آتے ہیں جو آپ کو پیش آئے۔
کیوں نہیں معان بھائی کیوں نہیں! ۔ سارا کھیت ہی آپ کا ہے ۔ جہاں سے چاہے چگیے ۔
یہ دیکھئے آپ کے لئے کہا ہے :
مرے شکستہ سے لفظوں میں جھانک کر دیکھو
محبتوں کے ہزاروں جہانِ معنی ہیں
معان بھائی! آپ اور آپ کی اردو سے محبت کے حوالے سے دو اشعار بھی فی البدیہہ گھڑے ہیں۔ کچھ مزاحیہ سے ہیں ۔ اگر آپ اجازت دیں گے تو پیش کروں گا ورنہ کل پرسوں تک بھول جاؤں گا !
غزل آ گیا تھا وہ خوش خصال پسند
تھی ہماری بھی کیا کمال پسند حیف ! بد صورتی رویّوں کی
ہائے دل تھا مرا جمال پسند کیوں بنایا تھا ٹِھیکرا دل کو
کیوں کیا ساغرِ سفال پسند ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں
لیکن اس درجہ پائمال پسند سچ نہ کہیے کہ سچ ہے صبر طلب
لوگ ہوتے ہیں اشتعال پسند ہاں مجھے آج بھی پسند ہے وہ
اس کو کہتے ہیں لازوال پسند حلم ہے اہلِ علم کا شیوہ
جاہ والوں کو ہے جلال پسند وصل کو ہجر ، ناگہانی موت
ہجر کو موسمِ وصال پسند فکرِ دنیا نہیں! مجھے احمد ؔ
اپنی مستی اور اپنی کھال پسند محمد احمدؔ