غزل ۔ سارے وعدے ، وعید ہو گئے ہیں ۔ محمد احمدؔ

محمداحمد — جون 6، 2013 7:13 صبح
واہ۔ ماشاءاللہ۔ بہت خوب۔ پوری غزل ہی بہترین ہے۔ اور تنقید والا شعر تو میں نے اتنا بولا ہے کہ کل سے کم از کم چار لوگوں کو انور سدید کا نام یاد کروا دیا ہے۔ :smile2:

بہت شکریہ فرحت صاحبہ ۔۔۔۔۔!
یعنی ہم اور آپ مل کر انور سدید صاحب کے لئے "پروموشنل ایکٹیوٹی" کر رہے ہیں۔ :)
ویسے کچھ اشعار (موضوعات) تو خالص قافیے کی دین ہی ہوتے ہیں ورنہ ایسے شاذ موضوعات تو اکثر بعید از قیاس ہی ہوتے ہیں۔
ابن سعید — جون 6، 2013 7:21 صبح
خوب است! کمال است! :) :) :)
ویسے یہ "سر تا سر" کی ترکیب پہلی بار پڑھی ورنہ اب تک "سر تا پا" یا "پا تا سر" وغیرہ دیکھے تھے۔ :) :) :)
شیزان — جون 6، 2013 7:39 صبح
طعن و تشنیع کب سے ہیں معمول
کچھ رویّے شدید ہو گئے ہیں
مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر
اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں
واہ واہ واہ۔۔
چھا گئے او احمد بھائی
سدا خوش رہو
محمداحمد — جون 6، 2013 7:42 صبح
خوب است! کمال است! :) :) :)
ویسے یہ "سر تا سر" کی ترکیب پہلی بار پڑھی ورنہ اب تک "سر تا پا" یا "پا تا سر" وغیرہ دیکھے تھے۔ :) :) :)

بہت شکریہ سعود بھائی۔۔۔۔!
یہ ترکیب ہم نے بھی کہیں نہیں دیکھی بس لغت کے مشورے پر استعمال کر بیٹھے۔ :)
نیرنگ خیال — جون 6، 2013 8:08 صبح
کہتے ہیں حسابِ دوستاں درِ دل، یعنی دوستوں کا حساب دل میں ہوتا ہے۔
بقول شاعر:
دل چیر کے دیکھ ترا ہی نام ہوگا
ہاہاہاہاہا :rollingonthefloor:
:D
:p

:p
سچے دوست کی یہی نشانی ہے۔۔۔ کبھی خوش نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔ :devil:
نیرنگ خیال — جون 6، 2013 8:08 صبح
واہ۔ ماشاءاللہ۔ بہت خوب۔ پوری غزل ہی بہترین ہے۔ اور تنقید والا شعر تو میں نے اتنا بولا ہے کہ کل سے کم از کم چار لوگوں کو انور سدید کا نام یاد کروا دیا ہے۔ :smile2:

اور ہماری سادگی دیکھیے۔۔۔ ہم "سدید" لفظ لغت میں ڈھونڈنے بیٹھ گئے۔۔۔۔ :(
محمداحمد — جون 6، 2013 8:19 صبح
اور ہماری سادگی دیکھیے۔۔۔ ہم "سدید" لفظ لغت میں ڈھونڈنے بیٹھ گئے۔۔۔ ۔ :(

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خُدا​
کرتے ہیں قتل، ہاتھ میں تلوار بھی نہیں​
:)
محمداحمد — جون 6، 2013 8:21 صبح
:p
سچے دوست کی یہی نشانی ہے۔۔۔ کبھی خوش نہیں ہونے دے گا۔۔۔ ۔ :devil:

اب کوئی آکر یہ نہ کہہ دے کہ "ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔۔۔ " :)
محمداحمد — جون 6، 2013 8:22 صبح
طعن و تشنیع کب سے ہیں معمول
کچھ رویّے شدید ہو گئے ہیں
مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر
اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں
واہ واہ واہ۔۔
چھا گئے او احمد بھائی
سدا خوش رہو

بہت شکریہ شیزان
بے حد ممنون ہوں۔
نیرنگ خیال — جون 6، 2013 8:35 صبح
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خُدا​
کرتے ہیں قتل، ہاتھ میں تلوار بھی نہیں​
:)

یہ شعر اچھا ہے پر ہماری بات زیادہ سچ ہے۔۔۔ :p
اب کوئی آکر یہ نہ کہہ دے کہ "ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ ۔۔ " :)

"کوئی" کی کیا مجال ہے۔۔۔۔ ویسے "کسی" نے کہہ ہی دیا ہے۔۔۔ :evil:
فاتح — جون 6، 2013 11:01 صبح
واہ واہ محمد احمد بھائی! کیا ہی خوب غزل ہے۔۔۔
فرحت کیانی نے اس کا ایک شعر لکھا تو یہ خوبصورت غزل پڑھنے کو ملی۔۔۔
جہالت پر معذرت لیکن انور سدید کون ہیں
محمداحمد — جون 6، 2013 11:31 صبح
واہ واہ محمد احمد بھائی! کیا ہی خوب غزل ہے۔۔۔
فرحت کیانی نے اس کا ایک شعر لکھا تو یہ خوبصورت غزل پڑھنے کو ملی۔۔۔
انور سدید کون ہیں

بہت بہت شکریہ فاتح بھائی اور فرحت کیانی کا بھی شکریہ کہ آپ کو یہاں تک لانے کا سبب بنیں۔ :)
ڈاکٹر انور سدید ادیب اور نقاد ہیں۔
وکیپیڈیا کا لنک
اردو پوائنٹ پر تعارف
سید شہزاد ناصر — جون 6، 2013 11:36 صبح
بہت خوبصورت غزل :)
لطف آیا پڑھ کر
داد حاضر ہے
شاد و آباد رہیں
قرۃالعین اعوان — جون 6، 2013 2:02 شام
مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر
اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں

بہت خوب بھیا!
محمداحمد — جون 8، 2013 7:13 صبح
بہت خوبصورت غزل :)
لطف آیا پڑھ کر
داد حاضر ہے
شاد و آباد رہیں

بہت شکریہ سید شہزاد ناصر صاحب،
ذرہ نوازی کے لئے ممنون ہوں۔
محمداحمد — جون 8، 2013 7:18 صبح
مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر
اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں

بہت خوب بھیا!

شکریہ قرۃالعین اعوان
خوش رہیے۔ :)
جاسمن — مارچ 10، 2016 6:36 صبح
بہت ہی خووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووب!
اس قدر خوبصورت غزل ۔
بہت خوب!
سچ اور تلخیاں۔
محمد تابش صدیقی — دسمبر 9، 2016 11:30 صبح
واہ احمد بھائی۔ کیا عمدہ غزل ہے۔
سلامت رہیں۔ :)
غزل
سارے وعدے ، وعید ہو گئے ہیں
آہ ! محرومِ دید ہو گئے ہیں

زندگی کے کئی حسیں پہلو
نذرِ ذہنِ جدید ہو گئے ہیں

طعن و تشنیع کب سے ہیں معمول
کچھ رویّے شدید ہو گئے ہیں

مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر
اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں

حُسن آراستہ، نہتّے ہم
ہونا کیا تھا شہید ہوگئے ہیں

ہم نے پڑھ لکھ کے نوکری کر لی
سر تا سر زر خرید ہو گئے ہیں

مجھ پہ تنقیدی جائزہ ، اُن کا
گویا انورسدید ہو گئے ہیں

کل زمانے میں جو یزید ہوئے
آج وہ با یزید ہو گئے ہیں

زندگی تو ذرا نہیں بدلی
ہم ہی کچھ خوش اُمید ہو گئے ہیں

محمد احمدؔ
محمد خرم یاسین — دسمبر 9، 2016 1:17 شام
غزل
سارے وعدے ، وعید ہو گئے ہیں
آہ ! محرومِ دید ہو گئے ہیں

زندگی کے کئی حسیں پہلو
نذرِ ذہنِ جدید ہو گئے ہیں

طعن و تشنیع کب سے ہیں معمول
کچھ رویّے شدید ہو گئے ہیں

مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر
اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں

حُسن آراستہ، نہتّے ہم
ہونا کیا تھا شہید ہوگئے ہیں

ہم نے پڑھ لکھ کے نوکری کر لی
سر تا سر زر خرید ہو گئے ہیں

مجھ پہ تنقیدی جائزہ ، اُن کا
گویا انورسدید ہو گئے ہیں

کل زمانے میں جو یزید ہوئے
آج وہ با یزید ہو گئے ہیں

زندگی تو ذرا نہیں بدلی
ہم ہی کچھ خوش اُمید ہو گئے ہیں

محمد احمدؔ
احمد بھائی ۔
اس شعر کی کچھ وضاحت در کار ہے :
کل زمانے میں جو یزید ہوئے
آج وہ با یزید ہو گئے ہیں​
عمر سیف — دسمبر 9، 2016 1:42 شام
خوب احمد بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92-%D8%8C-%D9%88%D8%B9%DB%8C%D8%AF-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%94.64486/page-2