غزل ۔ کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا ۔ محمد احمد

محمداحمد — ستمبر 19، 2009 11:30 صبح
بہت خوب
میری جانب سے داد قبول کیجیے
والسلام
زرقا

بہت شکریہ زرقا صاحبہ!
ناہید — ستمبر 29، 2009 11:36 شام
اچھی غزل ہے۔
محمداحمد — اکتوبر 2، 2009 5:26 صبح
بہت ہی خوبصورت۔۔عمدہ ۔۔محمد احمد بھائی بہت خوب۔۔


کاشفی بھائی اور ناہید صاحبہ،
غزل کی پسندیدگی کا شکریہ!
مغزل — نومبر 28، 2009 2:59 شام
کیا کہنے احمد بھیا، واہ واہ واہ ۔ بہت خوب ، کیااچھی غزل ہے ، داد حاضر ہے ، گر قبول افتد زہے عزو شرف
نیرنگ خیال — جنوری 27، 2013 3:03 شام
کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا
میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا
ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے
جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا
واہ احمد بھائی۔ مزا آگیا۔ بہت ہی عمدہ شاعری ہے۔ لاجواب۔ :hatoff:
محمد بلال اعظم — جنوری 27، 2013 3:25 شام
ماشاءاللہ
اس بڑھ کر میرے پاس تو الفاظ نہیں ہیں۔
محمداحمد — فروری 22، 2013 7:15 صبح
کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا
میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا
ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے
جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا
واہ احمد بھائی۔ مزا آگیا۔ بہت ہی عمدہ شاعری ہے۔ لاجواب۔ :hatoff:
ماشاءاللہ
اس بڑھ کر میرے پاس تو الفاظ نہیں ہیں۔

بہت شکریہ ذوالقرنین بھائی اور بلال بھائی۔۔۔!
مدیحہ گیلانی — فروری 23، 2013 5:36 شام
سویرا تھا شبِ تیرہ کے آگے
جہاں دیوار تھی، رستہ وہیں تھا
واہ واہ کیا خوبصورت غزل ہے بھئی ۔لاجواب ۔
بہت سی داد احمد میاں آپ کے لیئے ۔
محمداحمد — فروری 23، 2013 6:03 شام
سویرا تھا شبِ تیرہ کے آگے
جہاں دیوار تھی، رستہ وہیں تھا
واہ واہ کیا خوبصورت غزل ہے بھئی ۔لاجواب ۔
بہت سی داد احمد میاں آپ کے لیئے ۔

بہت سی داد پا کر خوشی ہوئی۔۔۔! :)
شاد آباد رہیے۔
سید شہزاد ناصر — فروری 24، 2013 3:43 صبح
مختصر بحر میں آپ نے بہت خوبصورت غزل کہی
پڑھ کر بہت لطف آیا
شاد و آباد رہیں
محمود احمد غزنوی — فروری 24، 2013 9:51 صبح
شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا
ایک بار پھر آپ کی غزل اچھی لگی۔ داد قبول کیجیے۔
البتہ دوسرے شعر میں معنوی سقم ہے۔ "شکست و ریخت"، فتح کا متضاد نہیں۔ مجھے محمود احمد غزنوی صاحب کا یہ مشورہ پسند آیا۔ ایسی کچھ تبدیلی کر دیجے، تا کہ معنوی سقم دور ہو سکے۔
کہاں کی جیت اور کیسی ہزیمت​
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا​
الشفاء — فروری 24، 2013 11:18 صبح
ملی منزل کسے کارِ وفا میں
مگریہ راستہ کتنا حسیں تھا

واہ۔ بہت خوب کہا ہے جناب۔۔۔
جاسمن — مارچ 7، 2016 6:24 صبح
اِس غزل کو پڑھ کے ایک نامعلوم تشنگی سی جاگتی ہے۔ایک کسک سی محسوس ہوتی ہے۔
بہت خوب! دعاؤں بھری داد!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.25262/page-2