محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 23، 2020 9:53 صبح
خوبصورت خوبصورت! کیا بات ہے جناب! داد ہی داد۔قیس و فرہاد سے، صحراؤں بیابانوں سے
توڑ آیا ہوں سبھی رابطے دیوانوں سے
ایسا آسودۂِ دل ہے ترے احسانوں سے
تیرا سائل کبھی ملتا نہیں سلطانوں سے
آگے بڑھ بڑھ کے لگاتا ہوں مصیبت کو گلے
میں وہ ساحل ہوں کہ ٹکراتا ہوں طوفانوں سے
ہر گھڑی جان ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں
کس میں ہمت ہے کہ الجھے ترے پروانوں سے
خود تو خلّاق جہاں کے بھی وفادار نہیں
اور امیدِ وفا ہے ہمیں انسانوں سے
۔ق۔
راہِ حق سے نہ پھریں، ظلم سے ٹکرا جائیں
رکھ نہ امید یہ ہم ایسے تن آسانوں سے
اب حسین ابنِ علیؓ جیسا مقابل ہی نہیں
جبر للکارتا ہے آج بھی ایوانوں سے
۔
جس طرح چاہے پرکھ دعویِٰ عشقِ عاطفؔ
صبر و اخلاص و وفا کے سبھی پیمانوں سے
عاطفؔ ملک
دسمبر ۲۰۲۰