یونس رضا — جنوری 23، 2008 6:28 شام
قسم سے وہ "کسی " ہی ہے ۔ ۔ مگر کیا کریں املا کی غلطیاں ہمارا مقدر ہیں۔
ورنہ ہمیں تو یہ لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
مان لوں کیسے کہ میں سراپا عیب ہوں فقط
میرے احباب کا یہ حسن نظر لگتا ہے
اب املے کی غلطیوں کا کیا کروں صاحب؟
شمشاد — جنوری 23، 2008 6:42 شام
میں نے کب کہا ہے کہ آمد ہی ایسی تھی، میں نے بھی تو املا کی غلطی کی ہی نشاندہی کی تھی۔
اور غلطیوں کا کیا ہے، غلطیاں بھی ہوتی رہیں گی اور اصلاح بھی ہوتی رہے گی۔
راجہ صاحب — جنوری 23، 2008 8:23 شام
لیجئے جی اک اور غزل حاضرِ خدمت ہے۔ (آج ہی لکھوائی ہے

)
بھلاؤں کیسے بچھڑتے دم اسکی دھیمی سسکی
شبوں میں اکثر رُلا گئی ہے لبوں کی جنبش
بہت خوبصورت شعر ہے
بتول — جنوری 29، 2008 6:08 شام
السّلام علیکم
جیا آپ کی شاعری واقعی ہی بہت اچھی ہے۔ داد قبول کریں!
ویسے یہ غزل لکھوانے والی بات ہضم نہیں ہوئی۔

شمشاد — جنوری 29، 2008 6:22 شام
بتول میں آپ کو اردو محفل میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ "تعارف" کے زمرے میں اپنا تعارف تو دیں۔
اور ہاں آپکے پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جیا راؤ کی جانتی ہیں۔ یہ تو اور بھی اچھی بات ہے۔
تعبیر — فروری 15، 2008 7:27 شام
بہت خوب پر لکھوائی

شمشاد — فروری 15، 2008 8:06 شام
یہ محسن بھائی نے مذاق میں ایک بات کی تھی، آپ اتنا حیران نہ ہوں۔