لگتا ہے کہ تم ہو

محسن وقار علی — مارچ 11، 2013 2:52 شام
جاناں یہ مری آنکھ کا دھوکہ ہے کہ تم ہو
دیکھوں میں جب آئینے کو لگتا ہے کہ تم ہو
دامن نے تڑپ کر جسے سینے سے لگایا
آنسو یہ مری آنکھ سے چھلکا ہے کہ تم ہو
ہر وقت کڑی دھوپ میں رہتا ہے مرے ساتھ
آنچل ہے، تری زلف کا سایہ ہے کہ تم ہو
رہتا ہے مرے دل میں کوئی درد کی صورت
حسرت ہے، یہ بے تاب تمنا ہے کہ تم ہو
عصمت ہے، محبت ہے، عقیدت ہے، وفا ہے
شاعر کے تصور کی یہ دنیا ہے کہ تم ہو
خوابوں میں خیالوں میں تصور میں تمہیں ہو
ہر سانس میں، ہر نس میں یہ لگتا ہے کہ تم ہو
ساحل پہ جو لکھتا ہے، مٹاتا ہے کوئی نام
راجا ہے وہ قسمت سے جو الجھا ہے کہ تم ہو
آپ کی سنجیدہ شاعری بھی بہت اچھی ہے راجا بھائی:applause:
یہ شعر بہت پسند آئے:love:
جبکہ مطلع اور مقطع نے تو پوری "محفل" ہی لوٹ لی:notworthy:
محمد یعقوب آسی — مارچ 11، 2013 3:43 شام
دھوکا ہو سکتا ہے، میرے ذہن میں دھوکہ کے ہجے کچھ اس طرح ہی آئے تھے۔ رہنمائی فرمادیں۔

ڈاکٹر شان الحق حقی نے ’’فرہنگِ تلفظ‘‘ میں ’’دھوکا‘‘ لکھا ہے (الف کے ساتھ)۔ میرے نزدیک یہی راجح ہے۔
امجد علی راجا صاحب۔
عمراعظم — مارچ 11، 2013 3:51 شام
یہ چاند ٹھہرتا ہے جسے دیکھنے شب بھر
شہکار ہے، قدرت کا کرشمہ ہے کہ تم ہو
واہ۔واہ۔ واہ۔۔۔۔امجد علی راجا صاحب۔بہت خوبصورت غزل تخلیق کی ہے جناب ۔۔اتنے سارے اہلِ ادب نے تعریف کی ہے تو ہماری واہ،واہ کو سند مل گئی۔اللہ آپ کو خوش رکھے۔(آمین)
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 11، 2013 3:51 شام
شکریہ استادِ محترم!
دھوکا ہو سکتا ہے، میرے ذہن میں دھوکہ کے ہجے کچھ اس طرح ہی آئے تھے۔ رہنمائی فرمادیں۔
دھوکا ہے۔:)
شوکت پرویز — مارچ 12، 2013 4:48 صبح
کچھ غزلیں ایسی ہوتی ہیں جن کے تمام شعر ایک ہی معیار کے ہوتے ہیں جیسے مسلسل سیک خیال کی تکرار کی جائے
ایسی غزل میں سے کسی خاص شعر کا انتخاب مشکل ہوتا ہے :)
شوکت پرویز
جناب سید شہزاد ناصر صاحب!
ہم نے تو مزاحیہ انداز میں پوچھا تھا، لگتا ہے آپ سنجیدہ ہو گئے۔۔۔
سید شہزاد ناصر — مارچ 12، 2013 5:36 صبح
جناب سید شہزاد ناصر صاحب!
ہم نے تو مزاحیہ انداز میں پوچھا تھا، لگتا ہے آپ سنجیدہ ہو گئے۔۔۔
ہممم تو آپ سنجیدگی میں بھی مزاح کا پہلو ڈھونڈ لیں نا :tongueout4:
شوکت پرویز — مارچ 12، 2013 5:51 صبح
ہممم تو آپ سنجیدگی میں بھی مزاح کا پہلو ڈھونڈ لیں نا :tongueout4:
سید شہزاد ناصر صاحب!
آپ کا حکم ٹالنے کی خاکسار میں ہمّت کہاں۔۔۔
آپ نے کہا تھا۔۔۔
کچھ غزلیں ایسی ہوتی ہیں جن کے تمام شعر ایک ہی معیار کے ہوتے ہیں جیسے مسلسل سیک خیال کی تکرار کی جائے
ایسی غزل میں سے کسی خاص شعر کا انتخاب مشکل ہوتا ہے :)
شوکت پرویز

اب بتائیے جناب!
آئی واز "سیکنگ" اَ مزاح وہائل یو وَر اِن سنجیدہ موڈ۔
ہم "تھے" مشتاق اور وہ بیزار۔۔۔
دیکھئے، ہم بھی انگریزی کو اردو میں لکھنا سیکھ گئے۔
لیکن جناب، یہ سب ٹائپ کرتے کرتے ہماری انگلیاں اتنی دکھنے لگیں کہ ہمیں انہیں گرم کوئلوں پر سیکنا پڑا
الف عین — مارچ 12، 2013 5:57 شام
مکمل غزل درست بلکہ اچھی ہے، مبارک ہو راجا۔ مجھے کہیں سقم نظر نہیں آیا۔ دھوکہ اور سایہ قوافی کی املا بدلی جا سکتی ہے۔ ایسا اکثر کیا گیا ہے۔ اس کو دھوکا اور سایا لکھو تاکہ قافیہ درست ہو جائے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%AA%D9%85-%DB%81%D9%88.60912/page-2