مار ڈالا تری محبت نے

با ادب — اپریل 29، 2017 8:00 صبح
تو کیا آپ کے کھاتے میں ڈالنے چاہیے :D
نہیں خود صاحب غزل کے کھاتے میں ڈالنے چاہیئے. کمال کا کیا قصور
عائشہ صدیقہ — اپریل 29، 2017 8:03 صبح
نہیں خود صاحب غزل کے کھاتے میں ڈالنے چاہیئے. کمال کا کیا قصور
کمال کی موجودگی خود کو منواتی ہے:D
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 29، 2017 8:08 صبح
تو کیا آپ کے کھاتے میں ڈالنے چاہیے :D
آپ فورم پر منشی کا عہدہ لیے لیں۔کھاتے داری کا کافی تجربہ ہے آپ کو۔
با ادب — اپریل 29، 2017 8:10 صبح
کمال کی موجودگی خود کو منواتی ہے:D
اچھا.
عائشہ صدیقہ — اپریل 29، 2017 8:11 صبح
آپ فورم پر منشی کا عہدہ لیے لیں۔کھاتے داری کا کافی تجربہ ہے آپ کو۔
آپ جیسوں کی موجودگی میں مجھے کون اس عہدے پہ رکھتا ہے :D
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 29، 2017 8:17 صبح
آپ جیسوں کی موجودگی میں مجھے کون اس عہدے پہ رکھتا ہے :D
ہم جیسوں کی وجہ سے تو ہی محفل میں رونق ہے۔وہ کیا خوب کہا ہے کسی نے کہ،، کوئی جل گیا کسی نے دعا دی،،
راحیل فاروق — مئی 2، 2017 2:44 شام
پسندیدگی‌و‌عزت‌افزائی پر سب دوستوں کا شکر‌گزار ہوں۔ :redheart::redheart::redheart:
جب نہ سمجھا تو سب غلط سمجھا
دل کو کافر کیا ہدایت نے
مجھ جیسے کم فہم کو اس شعر کی تشریح اگر بیان کر دیں تو کمال.ہو جائے. خود جو.سمجھ آیا وی ہم بعد میں عرض کئیے دیتے ہیں
دل تک ہدایت پہنچی تو اسے سمجھ نہ پایا۔ نہ سمجھنے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ گویا سب غلط سمجھا۔ دوسرے مصرع میں نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کج‌فہمی کے نتیجے میں ہدایت جو فلاح کا وسیلہ ہوتی ہے دل کے لیے کفر اور گم‌راہی کا سبب بن گئی۔
آگ دکھلا کے دل کو اپنے تئیں
مات دے دی ہے ضو کو ظلمت نے
ضو یعنی روشنی بمعنی آگ. اور ظلمت کیا.دل کی تاریکی ہے؟
اگر کچھ غلط ہے تو جان لیجئیے میں نے اردو ادب میں سند نہیں حاصل کر رکھی.
کہنا یہ چاہا ہے کہ دل کے دشمنوں نے اپنے تئیں اس چراغ کو فنا کر دینا چاہا۔ سو اسے آگ دکھا دی۔ حالانکہ اندھیرے روشنی کو یوں شکست نہیں دے سکتے۔
راحیل بھائی کے ہر شعر کو لوگ کمال کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں.
ہم تو خوش ہیں کہ غضب کے کھاتے میں نہیں ڈالتے۔
وہ کیا خوب کہا ہے کسی نے کہ،، کوئی جل گیا کسی نے دعا دی،،
جس کسی نے کہا ہے بہت جل کے کہا ہے!
با ادب — مئی 2، 2017 5:08 شام
کہنا یہ چاہا ہے کہ دل کے دشمنوں نے اپنے تئیں اس چراغ کو فنا کر دینا چاہا۔ سو اسے آگ دکھا دی۔ حالانکہ اندھیرے روشنی کو یوں شکست نہیں دے سکتے۔
بہت ہی شرمندگی کے ساتھ مجھ اپنی کم علمی کا ادراک ہے. کچھ وضاحت مزید فرمائیے.
کون سے اندھیرے روشنی کو شکست نہیں دے سکتے؟
آگ دکھلا کے دل.کو اپنے تئیں
آگ بھی تو روشنی ہے. اپنے طور پہ دل.کو آگ لگا کے جلانا چاہا. کس نے؟ ؟
اور جب جلانا چاہا تو
مات دے دی ہے ضو کو ظلمت نے.
روشنی کو اندھیرے نے مات دے دی ہے. کیسے؟
با ادب — مئی 2، 2017 5:11 شام
دل کے دشمنوں نے دل کو جلانا چاہا. لیکن ضو نے ظلمت کو مات دے دی. یعنی وہ آگ جو جلانے کے لئیے لگائی گئی تھی وہ ضو میں بدل کے اندھیرے کھا گئی دشمنی یا حسد کے اندھیرے.
اب باقی آپ جانیں یا اللہ. .
محمداحمد — مئی 3، 2017 8:07 صبح
سبحان اللہ سبحان اللہ!
خوبصورت کلام راحیل بھائی ایز ایور !
جیتے رہیے۔ :)
امان زرگر — مئی 3، 2017 8:45 صبح
بغاوت کی بو آتی ہے ان اشعار سے. . .

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%A7%D8%B1-%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D9%86%DB%92.95947/page-2