مجھے اک نظم کہنی تھی

محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2010 7:22 صبح
’’مجھے اک نظم کہنی تھی‘‘ یہ نام ہے میری نظموں کے مجموعے کا۔
چاہتا ہوں کہ اس میں سے ایک ایک نظم محفل کے خوش ذوق قارئین کی خدمت میں پیش کرتا جاؤں۔ میری راہ نمائی کیجئے گا۔
ابتداء کے طور پر دو شعر پیشِ خدمت ہیں:
کرچی کرچی ہونے کادکھ اپنی جگہ
پتھر جو برسے، کس سے منسوب کروں
میری زباں سے پھوٹے ہیں سو، میرے ہیں
زہریلے کانٹے کس سے منسوب کروں
فقط: محمد یعقوب آسی
محمد وارث — مارچ 6، 2010 7:54 صبح
خوبصورت خیال ہے آسی صاحب، لاجواب۔
امید ہے اپنا کلام یہاں پوسٹ کرتے رہیں گے!
فرخ منظور — مارچ 6، 2010 8:59 صبح
بہت عمدہ آسی صاحب۔ مزید کلام کا انتظار رہے گا۔
جیہ — مارچ 6، 2010 10:09 صبح
بہت خوب۔
یہ شعر لاجواب ہے
میری زباں سے پھوٹے ہیں سو، میرے ہیں
زہریلے کانٹے کس سے منسوب کروں
فاتح — مارچ 6، 2010 11:27 صبح
بہت شکریہ آسی صاحب! آپ کی جانب سے مزید کلام عنایت ہونے کا انتظار رہے گا۔
مغزل — مارچ 6، 2010 12:49 شام
کیا کہنے آسی صاحب ، سبحان اللہ ، ۔
اور صاحب مکمل ارسال کیجے نا کیوں ترساتے ہیں ہم غریبوں کو۔
ایم اے راجا — مارچ 6، 2010 5:08 شام
کرچی کرچی ہونے کادکھ اپنی جگہ
پتھر جو برسے، کس سے منسوب کروں
میری زباں سے پھوٹے ہیں سو، میرے ہیں
زہریلے کانٹے کس سے منسوب کروں
واہ واہ کیا لاجواب خیال ہے، آسی صاحب بہت خوب مزید کا انتظار بھاری پڑ رہا ہے۔
مغزل — مارچ 6، 2010 7:49 شام
مگر میرا خیال مختلف ہے راجہ جی سے ۔
صالح افراد اور بزرگوں کا انتظار تو سعادت سے کم نہیں ۔
آنے کو کہہ گئے تھے نہ آئیں خدا کرے
کیا لطف آرہا ہے مجھے انتظار میں ۔
یہ شعر بھی قریباً اسی کیفیت کا آئنہ دار ہے ہر چند کہ یہاں محل نہیں۔
سخنور بھائی یا وارث صاحب اگر یہ نظم مکمل پیش کردیں تو لطف دوبالا ہوجائے ۔
ایم اے راجا — مارچ 7، 2010 11:37 صبح
سنا ہیکہ انتظار بلڈ پریشر ارو شگر کو بڑھاتا ہے، اسلیئے کہا تھا!!!!!!
محمد یعقوب آسی — مارچ 7، 2010 4:07 شام
احباب کا ممنون ہوں۔ میری نظمیں زیادہ تر ’طویل‘ کے زمرے میں آتی ہیں، الف عین صاحب کی خدمت میں کتاب ارسال کر دوں‌گا ایک دو دن میں‌، تاکہ وہ اس کو ان پیج سے یونی کوڈ میں ڈھال دیں۔ فی الوقت ایک بہت پہلے کی کہی ہوئی پنجابی غزل کے کچھ اشعار آپ کے حسنِ ذوق کی نذر کرتا ہوں:
آسی جی ہن کاہدے جھگڑے رہ گئے نیں
اگلے پچھلے سارے قرضے لہہ گئے نیں
توں توں میں میں کئی دناں توں نہیں ہوئی
لگدا اے کجھ وٹ دلاں وچ بہہ گئے نیں
میرے سجن کنے سچے نیں لوکو!
میرے منہ تے مینوں جھوٹھا کہہ گئے نیں​

شگوفہ: میں نے ایک محفل میں‌ یہ غزل پیش کی، یہ آخری شعر پڑھا تو ایک آواز آئی ’’ٹھیک کہہ گئے نیں‘‘۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 8، 2010 4:53 صبح
’’ادراک‘‘ از محمد یعقوب آسی
ادراک
وہ آدمی عجیب تھا
ملا تو جیسے اجنبی
رہا تو جیسے اجنبی
گیا تو جیسے اجنبی
عجیب تھا وہ آدمی
وہ آدمی عجیب تھا
عجیب کم نصیب تھا
نہ وہ کسی کا ہو سکا
نہ کوئی اس کا ہو سکا
رہا وہ قید اپنی ذات کے حصار میں سدا
جو ایک بے صدا جہاں کا شخص تھا
کسی سے اس نے دل کی بات کب کہی
کسی کے دل کی بات اس نے کب سنی
نہ اس کی زندگی کسی کے کام کی
نہ اس کی موت سے جہاں میں کچھ خلل
وہ اپنی ذات کے لئے بِتا رہا تھا زندگی
جو مر گیا تو کیا ہوا
نہ مر سکا تو کیا ہوا
جہانِ بے کراں میں بے شمار لوگ اور ہیں
کہ جن کے سارے روز و شب میں
ایک سا سکوت ہے
سکوت بھی عجیب سا
کہ جیسے موت کی صدا
کہ جس کے کان میں پڑی
جہاں سے وہ گزر گیا
وہ آدمی عجیب سا
وہ میرے جیسا آدمی

محمد یعقوب آسی
مئی 1998
محمد یعقوب آسی — مارچ 8، 2010 8:05 صبح
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے مدت کے پژمردہ تفکر کو لہو دینا تھا
صدیوں پر محیط اک عالمِ سکرات میں
مرتے ہوئے جذبوں کو
پھر سے زندگی کی ہاؤ ہو سے آشنا کرنا تھا
ہونٹوں پر لرزتے گنگ لفظوں کو
زباں دینی تھی
اشکوں کے اجالے سے
طلسمِ تیرگی کو توڑنا تھا
روشنی کو عام کرنا تھا
رگِ احساس کو پھر سے جِلا دینی تھی
آنکھوں میں بصارت کا بصیرت کا
کہربا خیز اِک سرمہ لگانا تھا
رگوں میں منجمد ہوتے لہو کو تاپ دینی تھی
سرِ مُو سے رگِ جاں تک
حیاتِ نو کی دھڑکن کو جگانا تھا
مشامِ جاں کو خوشبوئے حیاتِ جاوداں سے
آشنائی بھی دلانی تھی
ضمیرِ آدمیت کو
گرفتِ پنجہءِ عفریتِ سیمیں سے
رہائی بھی دلانی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے
دیوار و در سے ماورا
عرشِ بریں کے سائے میں
اک گھر بنانا تھا
تب و تابِ تمنا کا اجالا اُس میں بھرنا تھا
مجھے داغِ تمنا بھی میسر تھا
مگر شمس الضحیٰ کے اور میرے درمیاں
صدیوں سے چھایا تھا غمامِ غم
نظر تھی میری ژولیدہ تو سوچیں تھیں پراگندہ
خمارِ خود فراموشی سے
خود بھی جاگنا تھا
دوسروں کو بھی جگانا تھا
نگاہِ آشنائے ظلمتِ شب کو
شناسائے تب و تابِ سحر
ہونے کی سختی بھی تو سہنی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مرے افکار کو تجسیم کی قوت ملی
تو اِک نگاہِ دور بیں کو
وقت کی تصویر میں پنہاں
بدلتی رُت نظر آئی
مری سوچوں سے
کالک دھل گئی ساری
مجھے منزل دکھائی دے گئی
اُس گھر کی صورت جس کی دیواریں
اُسی عرشِ بریں کے سائے میں تعمیر ہونی تھیں
وہ جس کی چھت میں آویزاں
کئی شمس و قمر ہونے تھے
اُس کو آگہی کی عظمتوں کا
اِک درخشاں باب ہونا تھا
مرے جذبوں کو بازو مل گیا
دیبل کی مٹی سے
رگِ جاں میں لہو اخلاص کا دوڑا
نگاہِ مرد مومن نے ہوا کا رخ بدل ڈالا
فلک سے قدر کی شب میں
ہوئی نازل وہ برکت
جس پہ نازاں آدمیت تھی
بنے گھر کو بسانا کتنا مشکل ہے
مجھے معلوم ہی کب تھا
مجھے شمس و قمر سے جگمگاتا گھر ملا جب تو
مری ظلمت پسند آنکھوں میں
پتھر پڑ گئے ایسے
کہ اپنے آپ کی پہچان تک باقی نہ رہ پائی
گئی آنکھوں سے بینائی
مجھے اب روشنی سے خوف سا آنے لگا ہے
میں پریشاں ہوں
گماں پرور سماعت کے اشاروں پر
شبِ دیجور کو صبحِ مبیں کا نام دیتا ہوں
مگر بے چین رہتا ہوں
وہی مشکل جو پہلے تھی وہی پھر آ پڑی ہے
وقت کی منزل کڑی ہے
میں پریشاں ہوں
بنائے فکر میں لاوا سا کوئی کلبلاتا ہے
تو میرا وہ پہاڑ ایسا ارداہ ڈول جاتا ہے
مجھے
اک نظم کہنی تھی!؟
محمد یعقوب آسی
19 دسمبر 2005ء
ایم اے راجا — مارچ 8، 2010 10:01 صبح
لاجواب آسی صاحب بہت خوب واہ واہ
فاتح — مارچ 8، 2010 1:57 شام
سبحان اللہ! کیا ہی عمدہ نظمیں ہیں۔ بے حد نوازش قبلہ محمد یعقوب آسی صاحب۔
محمد وارث — مارچ 9، 2010 6:24 صبح
دونوں نظمیں خوبصورت ہیں آسی صاحب۔
لیکن 'مجھے اک نظم کہنی تھی' واقعی بہت خوبصورت غزل ہے اور بجا طور پر آپ نے اس کا عنوان اپنی کتاب کیلیے منتخب کیا ہے۔
بہت داد قبول کیجیئے محترم۔
ام نور العين — مارچ 9، 2010 12:24 شام
بنے گھر کو بسانا کتنا مشکل ہے
مجھے معلوم ہی کب تھا
مجھے شمس و قمر سے جگمگاتا گھر ملا جب تو
مری ظلمت پسند آنکھوں میں
پتھر پڑ گئے ایسے
کہ اپنے آپ کی پہچان تک باقی نہ رہ پائی
گئی آنکھوں سے بینائی
مجھے اب روشنی سے خوف سا آنے لگا ہے
بہت خوب عکاسی کی ہمارے حالات کی ۔ ماشاءاللہ ۔بہت عمدہ ۔
حسب عادت ایک سوال ہے ؟ عفریتِ سیمیں سے آپ کی کیا مراد ہے ؟
ایم اے راجا — مارچ 9، 2010 1:26 شام
بہت خوب ایک بار اور داد قبول ہو محترم آسی صاحب
مغزل — مارچ 12، 2010 7:06 شام
آسی صاحب رسید حاضر ہے ، فرصت سے پڑھتا ہوں ، ۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 3، 2010 2:03 شام
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے مدت کے پژمردہ تفکر کو لہو دینا تھا
صدیوں پر محیط اک عالمِ سکرات میں
مرتے ہوئے جذبوں کو
پھر سے زندگی کی ہاؤ ہو سے آشنا کرنا تھا
ہونٹوں پر لرزتے گنگ لفظوں کو
زباں دینی تھی
اشکوں کے اجالے سے
طلسمِ تیرگی کو توڑنا تھا
روشنی کو عام کرنا تھا
رگِ احساس کو پھر سے جِلا دینی تھی
آنکھوں میں بصارت کا بصیرت کا
کہربا خیز اِک سرمہ لگانا تھا
رگوں میں منجمد ہوتے لہو کو تاپ دینی تھی
سرِ مُو سے رگِ جاں تک
حیاتِ نو کی دھڑکن کو جگانا تھا
مشامِ جاں کو خوشبوئے حیاتِ جاوداں سے
آشنائی بھی دلانی تھی
ضمیرِ آدمیت کو
گرفتِ پنجہءِ عفریتِ سیمیں سے
رہائی بھی دلانی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے
دیوار و در سے ماورا
عرشِ بریں کے سائے میں
اک گھر بنانا تھا
تب و تابِ تمنا کا اجالا اُس میں بھرنا تھا
مجھے داغِ تمنا بھی میسر تھا
مگر شمس الضحیٰ کے اور میرے درمیاں
صدیوں سے چھایا تھا غمامِ غم
نظر تھی میری ذولیدہ تو سوچیں تھیں پراگندہ
خمارِ خود فراموشی سے
خود بھی جاگنا تھا
دوسروں کو بھی جگانا تھا
نگاہِ آشنائے ظلمتِ شب کو
شناسائے تب و تابِ سحر
ہونے کی سختی بھی تو سہنی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مرے افکار کو تجسیم کی قوت ملی
تو اِک نگاہِ دور بیں کو
وقت کی تصویر میں پنہاں
بدلتی رُت نظر آئی
مری سوچوں سے
کالک دھل گئی ساری
مجھے منزل دکھائی دے گئی
اُس گھر کی صورت جس کی دیواریں
اُسی عرشِ بریں کے سائے میں تعمیر ہونی تھیں
وہ جس کی چھت میں آویزاں
کئی شمس و قمر ہونے تھے
اُس کو آگہی کی عظمتوں کا
اِک درخشاں باب ہونا تھا
مرے جذبوں کو بازو مل گیا
دیبل کی مٹی سے
رگِ جاں میں لہو اخلاص کا دوڑا
نگاہِ مرد مومن نے ہوا کا رخ بدل ڈالا
فلک سے قدر کی شب میں
ہوئی نازل وہ برکت
جس پہ نازاں آدمیت تھی
بنے گھر کو بسانا کتنا مشکل ہے
مجھے معلوم ہی کب تھا
مجھے شمس و قمر سے جگمگاتا گھر ملا جب تو
مری ظلمت پسند آنکھوں میں
پتھر پڑ گئے ایسے
کہ اپنے آپ کی پہچان تک باقی نہ رہ پائی
گئی آنکھوں سے بینائی
مجھے اب روشنی سے خوف سا آنے لگا ہے
میں پریشاں ہوں
گماں پرور سماعت کے اشاروں پر
شبِ دیجور کو صبحِ مبیں کا نام دیتا ہوں
مگر بے چین رہتا ہوں
وہی مشکل جو پہلے تھی وہی پھر آ پڑی ہے
وقت کی منزل کڑی ہے
میں پریشاں ہوں
بنائے فکر میں لاوا سا کوئی کلبلاتا ہے
تو میرا وہ پہاڑ ایسا ارداہ ڈول جاتا ہے
مجھے
اک نظم کہنی تھی!؟
محمد یعقوب آسی
19 دسمبر 2005ء
محمد یعقوب آسی — ستمبر 3، 2010 2:10 شام
مشینی کتابت کی غلطی
ایک لفظ ”ذولیدہ“ لکھا گیا ہے، اسے ”ژولیدہ“ پڑھئے گا، بہت شکریہ۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%A7%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%DB%8C.28919/