ظاہر ہے حقیقی معنی تو فی البطن شاعر ہی ہے۔ یہ ریت نجانے کب سے ہے !! شاید غالب سے یا اس سے بھی پہلے کی ہے۔ کہ شعر سنو! خود ہی سمجھو اور کہو واہ واہ!! اسی میں خیر ہے کیوں کہ اگر نہ سمجھے تو بد ذوق ٹھہرے۔ اس لئے معاملہ یوں ہے کہ: شعر سن لیا؟ اب سوال نہیں کرنا۔ نہ جواب دینا۔ کیونکہ تم سمجھ گئے نا تمہی با ذوق ہو!

خیر بات دوسری جانب چلی گئی۔
شاعر نے در اصل محبوب کے حوالے سے لکھا کہ خلوت سے مراد محبوب موت لیتا ہے۔ اور وہ میری موت سے ہی محبت کرتا ہے۔ اسی لئے شاعر پہلے شعر میں سوال کر رہا ہے محبوب سے کہ بتاؤ آخر وہ کونسی خلوت ہے جس سے تمہیں محبت ہے؟ وہ خلوت آخر کہاں ہوگی؟ کب ہوگی؟ وغیرہ۔ پھر اگلے شعر میں جواب دیا ہے بعدِ مردن!!!!
اسے کہتے ہیں نقاد جن پر شاعروں کی دنیا قائم ہے
