ہادیہ — جنوری 1، 2017 5:30 شام
آپ ہی چلے جائیں۔ میں نے مزید بور نہیں ہونا:ڈی
نہیں۔ خواتین کو ہوتے ہیں۔ شاعر صرف ترجمانی کرتے ہیں۔
یہ آپ کو کس نے کہہ دیا؟
آپ ریسرچ کر رہے ہیں کیا؟
ابن رضا — جنوری 1، 2017 6:22 شام
واہ واہ بہت عمدہ کیا ہی کہنے. داد قبولیے
نوید ناظم — جنوری 1، 2017 6:50 شام
خوب است۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ!!
عمر سیف — جنوری 1، 2017 6:57 شام
بہت خوب راحیل
کاشفی — جنوری 1، 2017 8:06 شام
محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو
اے رات، اے فراق، خدارا! کوئی تو ہو
یہ بددعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا
کوئی تو ہو نصیب کا مارا، کوئی تو ہو!
تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار
اچھا ہے، ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو
سرکار، ہاتھ پاؤں تو سب دے گئے جواب
اس نامراد دل کا بھی چارا کوئی تو ہو
کیا ہجر کیا وصال، وہی عاشقوں کا حال
آخر قرار میں بھی بچارا کوئی تو ہو
راحیلؔ غم کے بعد خوشی بھی ملے مگر
اس بحرِ بے کراں کا کنارا کوئی تو ہو
راحیلؔ فاروق
۳۰ دسمبر، ۲۰۱۶ء
واہ جناب! بہت خوب۔۔
طاہر راجپوت ملتان — جنوری 3، 2017 5:56 شام
تعریفی کلمات کے حقدار ہیں حضور بلا شبہ اعلی تحریر رقم کی ہے لا جواااب
محمد ریحان قریشی — جنوری 6، 2017 5:20 شام
میں نے زیادہ غور کیے بغیر ہی پسندیدہ کا بٹن دبا دیا تھا۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ایسی اچھی غزل بہت عرصے بعد نطر سے گزری ہے۔
مطلع بہت پسند آیا۔ محشر، گھڑی ، رات ، فراق ، خدا کیا کہنے۔
مبارکباد قبول کیجیے۔
سرفرازاحمدسحر — جنوری 6، 2017 5:24 شام
محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو
اے رات، اے فراق، خدارا! کوئی تو ہو
یہ بددعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا
کوئی تو ہو نصیب کا مارا، کوئی تو ہو!
تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار
اچھا ہے، ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو
سرکار، ہاتھ پاؤں تو سب دے گئے جواب
اس نامراد دل کا بھی چارا کوئی تو ہو
کیا ہجر کیا وصال، وہی عاشقوں کا حال
آخر قرار میں بھی بچارا کوئی تو ہو
راحیلؔ غم کے بعد خوشی بھی ملے مگر
اس بحرِ بے کراں کا کنارا کوئی تو ہو
راحیلؔ فاروق
۳۰ دسمبر، ۲۰۱۶ء
بہت خوب
کاشف اسرار احمد — جنوری 7، 2017 9:37 صبح
یہ بددعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا
کوئی تو ہو نصیب کا مارا، کوئی تو ہو!
واہ۔
دعا ہے کہ اللہ آپ کے دکھی دل کی پکار سن لے !!
تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار
اچھا ہے، ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو
واہ۔ خوب تعلق نکالا ہے۔ لطف آ گیا !