ویسے ہماری مراد بالعموم اس قسم کی پراڈکٹس سے تھی۔ جو ڈاکٹر حضرات نسخے پر گھسیٹ کے پکڑا دیتے ہیں اور غریب آدمی اس کی قیمت سن کر ہی سر پکڑ لیتا ہے۔
احمد بھائی پکا کام کیا ہے جب آپ نظم لکھ رہے تھے تو یہی ٹن تھا آپ کے ذہن میں ...ورنہ مزدور پاؤچ تو لے ہی سکتا ہے اور آج کل اتنی زیادہ دیہاڑی ہے کے یہ PEDIASURE بھی لے سکتا ہے . . .
صحیح کہا احمد بھی اب بھی ہمارے طبقے میں اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہی مشکل ہے ..باقی عیاشی ( JUNK FOOD PHOBIA ) اور باقی تفریحات تو دور کی بات ہے۔ ۔
تو پھر ٹن کے بجائے پیڈیا شور لکھ دیتے احمد بھائی۔۔۔ ویسے غریبوں پر سوٹ بھی نہیں کرتے ایسے ٹن۔