آپ تینوں حضرات کے کلام سے جب سے شناسائی ہوئی ہے، بلکہ آشنائی کہنا چاہیے، مجھے گمان گزرنے لگا ہے کہ آپ لوگ گویا صوفیا کا کوئی حلقہ ہیں جو لطف کن لطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش کے مصداق مجھے جیسے ایروں غیروں کا دل رکھنے میں عار نہیں کرتے۔ یعنی آپ کی داد مجھے داد کم اور دان زیادہ معلوم ہوتی ہے۔
میرے لیے باعثِ صد افتخار ہے کہ خود اتنا پیارا لکھنے والے لوگ وقت نکال کر مجھے شاباشی دیتے ہیں۔
شکائت کا یہ انداز !!
یقین کیجئے اس انداز پر آپ کی قدرومنزلت دل میں اور بڑھ گئی۔ میری طرف سے دلی معذرت قبول کیجئے کہ بس ایک جملہ لکھ کر مراسلہ ختم کیا جبکہ میں خود بھی مزید لکھنا چاہتا تھا.
بھائی راحیل، بات یہ ہے کہ غربت میں آٹاگیلا ہے ۔ ناز و نعم سے پالا ہوا لیپ ٹاپ خراب ہوگیا اوپر سے اسمارٹ فون کو مذید اسمارٹر بنانے کا تجربہ بھی انہی دنوں میں مکانی سے دوچار ہو گیا. نتیجہ یہ ہوا دونوں کی طرف سے ایک ہی دن میں فراغت ہوگئی۔ فون کو الماری اور سم کو جیب میں رکھا. فون تو چپ کا چپ ہی رہا مگر سم جیب میں تنہائی سے بیزار ہو کر چِلّانے لگی اس کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک فون کا انتظام کیا مگر اس کی حثیت فاضل پہیے سے زیادہ نہیں اس میں اردو لکھنا ایک مصیبت ہے ۔ اس لئے فرضِ کفایہ سمجھتے ہوئے یہ تصور کر لیتے ہیں کہ یہ کمی کوئی نہ کوئی پوری کر لے گا۔ شاید دیگر احباب نے بھی یہی سوچ لیا ہو۔
ورنہ یقین کیجئے یہ کسی بھی دوست کو شکایت کا موقع نہ ملتا۔ اور میں اپنی ناقص رائے ضرور شامل کرتا۔ اب دیکھئے۔ کل ایک غزل ہوئی ہے مگر اسے موبائل سے ٹائپ کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ یہ بھی اگر آپ نے ہمارے دوستانہ جذبات کو ابھار نہ دیا ہوتا تو یہ بھی نہ لکھ پاتا