غزل مرا کمال غلط تھا، مری مثال غلط
کیا گیا ہے مرے غم پہ احتمال غلط غلط کہ کوئی غلط چال چل گیا ہوں میں
غلط کہ مجھ سے چلی ہے کسی نے چال غلط دکھائی دے گی ہمیں خاک شکلِ آئندہ
ہمارا ماضی غلط تھا، ہمارا حال غلط ہر ایک جھوٹ کی بنیاد سچ پہ ہوتی ہے
ترا جواب غلط تھا، مرا سوال غلط مرے مزاج میں شامل ہے تلخ روئی نوید
سو کٹ رہے ہیں شب و روز و ماہ و سال غلط (نوید صادق) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احباب کی آراء کا انتظار رہے گا۔
محمد وارث — اکتوبر 7، 2008 4:57 صبح
بہت اچھی غزل ہے نوید صاحب، لا جواب۔ داد قبول کیجیئے محترم!
آصف شفیع — اکتوبر 7، 2008 6:27 صبح
مرے مزاج میں شامل ہے تلخ روئی نوید
سو کٹ رہے ہیں شب و روز و ماہ و سال غلط نوید صاحب! ابھی تک تلخ روئی مزاج میں باقی ہے؟ اور غزلوں میں بھی!
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 7، 2008 7:21 صبح
بہت خوب بہت اچھی غزل ہے سر جی بہت شکریہ
فرخ منظور — اکتوبر 7، 2008 9:07 صبح
بہت اچھی غزل ہے نوید صاحب - آپ نے غلط بہت صحیح باندھا ہے -
الف عین — اکتوبر 7، 2008 11:48 صبح
واہ۔۔
غلط کہ کوئی غلط چال چل گیا ہوں میں
غلط کہ مجھ سے چلی ہے کسی نے چال غلط مرے مزاج میں شامل ہے تلخ روئی نوید
سو کٹ رہے ہیں شب و روز و ماہ و سال غلط وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں!!
شکریہ، بھائی! اور دفتر والے دوستوں کو بھی شکریہ اور میرا سلام کہہ دیں۔
ایم اے راجا — اکتوبر 7، 2008 12:59 شام
بہت خوب نوید بھائی بہت پیاری غزل کہی ہے واہ واہ،
لیکن لفظ تلخ روئی صحیح ہے یا اصل میں لفظ تلخ روی ہے، معلومات میں اضافہ چاہتا ہوں
نوید صادق — اکتوبر 7، 2008 1:10 شام
ترکیب سازی کا عمل ہے۔ اصل میں تو یہ دیکھنا ہے کہ "تلخ" اور "رُوئی" مل کر کیا معنی دے رہے ہیں۔
ویسے کیا معنی دے رہے ہیں؟
میں نے تو غزل رکھ دی چوک میں، اب قاری مطلب نکالے،
شاعر اپنے کلام کی وضاحت کرتا اچھا نہیں لگتا۔
فرخ منظور — اکتوبر 7، 2008 2:58 شام
نوید صاحب میں نے کبھی تلخ روئی سنا نہ تلخ روی - غالب نے ایک شعر میں تلخ نوائی باندھا ہے - یا پھر تلخ گوئی سنا ہے - اگر آپ تلخ روئی کے حوالے سے کسی کا شعر حوالتاً دے سکیں تو عنایت ہوگی - میری ناقص رائے میں تلخ روئی ایک مہمل لفظ ہے - اگر اس کے کچھ معنیٰ ہیں تو وہ بھی بتائیے گا کہ آپ نے کن معانی میں اسے باندھا ہے - بہت شکریہ!
ایم اے راجا — اکتوبر 7، 2008 5:20 شام
میرے محدود مطالعے کے مطابق تلخ روی / روئی، تلخ رو سے نکلا ہے، تلخ رو کے معنی ہیں تلخ رویہ، سو نوید صاحب نے اپنے مزاج کے تلخ روئیے کا ذکر کیا ہے، یعنی تلخیِ مزاج کا ( حالانکہ ہیں نہیں) جسکی وجہ سے انکے دن غلط گذر رہے ہیں۔ اصل میں میں نے تلخ روئی پہلے سنا یا پڑھا نہیں تھا تلخ روی پڑھا ہے سنا ہے اور استعمال بھی کیا ہے۔
اگر کوئی بندہ کسی سے تلخ رویہ رکھتا ہے تو یہ اسکی تلخ روی یا روئی کہلائے گی
میرے محدود مطالعے کے مطابق تلخ روی / روئی، تلخ رو سے نکلا ہے، تلخ رو کے معنی ہیں تلخ رویہ، سو نوید صاحب نے اپنے مزاج کے تلخ روئیے کا ذکر کیا ہے، یعنی تلخیِ مزاج کا ( حالانکہ ہیں نہیں) جسکی وجہ سے انکے دن غلط گذر رہے ہیں۔ اصل میں میں نے تلخ روئی پہلے سنا یا پڑھا نہیں تھا تلخ روی پڑھا ہے سنا ہے اور استعمال بھی کیا ہے۔
اگر کوئی بندہ کسی سے تلخ رویہ رکھتا ہے تو یہ اسکی تلخ روی یا روئی کہلائے گی
تلخ روی یا تلخ روئی لغت میں موجود نہیں صرف تلخ رو موجود ہے - اگر نوید صاحب نے کوئی اپنا مرکب لفظ ایجاد کیا ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا -
ایم اے راجا — اکتوبر 7، 2008 5:59 شام
ہم اسے یوں استعمال کر سکتے ہیں کہ، آپکی تلخ روی/ روئی کی وجہ سے لوگ آپ سے ناراض رہتے ہیں،
آپ اپنی تلخ روی/روئی کی وجہ سے کسی کو اچھا دوست نہیں بنا سکتے۔
معنی ایک ہی ہیں، اصل میں میں نے تلخ روی تو سنا تھا مگرتلخ روئی نہیں سنا تھا۔
تلخ رو کی معنی تلخ طبیعت ہو تی ہے، اور شاید تلخ روی کی معنی تلخ رویہ ہوتا ہے، یہ تلخ رویہ سے نکلا ہے شاید۔
ہم اسے یوں استعمال کر سکتے ہیں کہ، آپکی تلخ روی/ روئی کی وجہ سے لوگ آپ سے ناراض رہتے ہیں،
آپ اپنی تلخ روی/روئی کی وجہ سے کسی کو اچھا دوست نہیں بنا سکتے۔
معنی ایک ہی ہیں، اصل میں میں نے تلخ روی تو سنا تھا مگرتلخ روئی نہیں سنا تھا۔
تلخ رو کی معنی تلخ طبیعت ہو تی ہے، اور شاید تلخ روی کی معنی تلخ رویہ ہوتا ہے، یہ تلخ رویہ سے نکلا ہے شاید۔
نہیں بھائی تلخ رو دو الفاظ کا مرکب ہے تلخ اور رُو - تلخ کا مطلب کڑوا یا بدذائقہ اور رُو کا مطلب چہرہ ہوتا ہے جیسے "آب رو" ایک مرکب ہے - لہٰذا تلخ رو کا مطلب ہوا جو چہرے سے سخت مزاج کا آدمی معلوم ہو لہٰذا تلخ روی یا تلخ روئی کا رویہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی رویہ لفظ سے کوئی تعلق ہے -
نہیں بھائی تلخ رو دو الفاظ کا مرکب ہے تلخ اور رُو - تلخ کا مطلب کڑوا یا بدذائقہ اور رُو کا مطلب چہرہ ہوتا ہے جیسے "آب رو" ایک مرکب ہے - لہٰذا تلخ رو کا مطلب ہوا جو چہرے سے سخت مزاج کا آدمی معلوم ہو لہٰذا تلخ روی یا تلخ روئی کا رویہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی رویہ لفظ سے کوئی تعلق ہے -
تلخ رو کا مطلب سخت مزاج چہرہ رکھنے والا، تو اب تلخ روی یا تلخ روئی کا مطلب کیا ہوا؟
الف عین — اکتوبر 8، 2008 5:45 صبح
میں نے بھی غور نہیں کیا تھا لیکن نوید راجا کی بات میں دم ہے۔ یہاں جب آپ ’مرے مزاج میں شامل ہے‘ کہہ رہے ہیں تو یہاں تلخ روی کا محل ہی ہے، تلخ روئی کا نہیں۔ کیا خیال ہے دوسرے احباب کا؟
ایم اے راجا — اکتوبر 8، 2008 9:30 صبح
سر کیا ہی اچھا ہو کہ پہلے ہم تلخ روی کے معنی ڈھونڈ لیں کیوں کہ نوید صاحب نے بات کی ہے مزاج کی تو چہرے کا مزاج سے کیا تعلق، میں سمجھتا ہوں یہاں تلخ روی استعمال ہونا چاہئیے اور اسکا مطلب تلخ رویہ ہونا چاہئیے۔
محمد وارث — اکتوبر 8، 2008 10:00 صبح
میرے خیال میں تو بہت خوبصورت شعر ہے، یعنی شاعر کہنا چاہ رہا ہے کہ ہر وقت تلخ چہرہ یا بیزار پن میرے مزاج میں شامل ہو چکا ہے، (حالانکہ اصلی مزاج ایسا نہیں ہے) اسلیئے میرے شب و روز و ماہ و سال غلط گزر رہے ہیں کہ لوگ مجھے تلخ مزاج سمجھتے ہیں (کم از کم مجھے تو یہی سمجھ آ رہا ہے اور اس لیئے اچھا بھی لگ رہا ہے ) مرے مزاج میں شامل ہے تلخ روئی نوید
سو کٹ رہے ہیں شب و روز و ماہ و سال غلط