غزل میں اشعار کی تعداد طاق کے بجائے جفت ہے، یہ ادراک ہمیں غزل "لکھوانے" کے ایک سال بعد ہوا۔
مگر آپ نے تو ہماری غزل کا ردیف ہی آدھا کر دیا۔
چاکلیٹ نہیں چھوڑتے؟ چھوڑتے کیا ہیں؟
اجی کچھ بھی نہیں چھوڑتے۔۔۔

یہ دوسرے شعر کو ذرا ٹھہر ٹھہر کے، تھم تھم کے، اٹک اٹک کے اہل لاہور کی طرح پڑھیے ردیف پورا ہو جائے گا۔
تو اب ہمارے ساتھ با آواز بلند دہرائیے۔۔۔
کیا شے وقار۔۔۔۔ و توقیر۔۔۔ اجی تنویر نہیں وتوقیر!
جی دوبارہ۔۔۔
کیا شے وقار۔۔۔۔ و توقیر۔۔۔۔ و تفاخر۔۔۔۔
اور کیا۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔ یہ پرچم!
اب پورا ہوا ردیف کہ نہیں؟
اصل میں لتا جی کا وہ گیت سن رہے ہیں جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ کبھی خوشی کبھی غم نہ جدا ہوں گے ہم۔ ہم کو ایسی عظیم ہستی سے اس صریح جھوٹ کی توقع نہ تھی کہ ہم کبھی لتا جی سے ملے ہی نہیں تو ایں جدائی چہ معنی دارد؟

فرما تو وہ اور بھی بہت کچھ رہی ہیں کہ ہم ان کی سانسوں میں اور جیون سایہ اور پوجا جانے کیا کچھ لیکن ہم جلدی کسی پر اعتبار تھوڑا ہی کر لیتے ہیں

بس اس واسطے تان کے زیر اثر شعر کا ردیف بھی کچھ زیادہ کھینچ دیا ہو تو معذرت خواہ ہیں
