Wajih Bukhari — فروری 6، 2020 12:56 شام
رائے زنی ہر شخص کا حق ہے۔ اور ہر شخص کی رائے بھی ایک جیسی ہو یہ ممکن نہیں۔ اس حقیقت کو کشادہ دلی سے تسلیم کرنا چاہیے۔ البتہ کسی رائے کے رد و قبول کا مکمل اختیار رائے لینے والے پر ہے۔
جی بالکل درست فرمایا۔
رائے حاصل کرنا خصوصا تنقیدی رائے جو کہ تعمیری تنقید ہو میرے لئے مددگار ثابت ہوئی ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے دوست
راحل صاحب فرماتے ہیں کہ اس محفل میں رائے دینا یا تنقید کرنے کا رواج عام ہونا چاہئے۔ اور راحل صاحب اپنی صائب رائے سے نوازتے بھی رہتے ہیں۔ مجھے ان کی اس بات سے اتفاق ہے۔
Wajih Bukhari — فروری 6، 2020 1:03 شام
اسی طرح کی بات اقبال نے بھی اس آخری شعر میں کی
"لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دل ناصُبور رہتا ہے
مہ و ستارہ، مثالِ شرارہ یک دو نفَس
میٔ خودی کا اَبد تک سُرور رہتا ہے
فرشتہ موت کا چھُوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے!"
شکیل احمد خان23 — فروری 24، 2020 4:14 صبح
کیا کیمیا گری ہے عناصر کا ارتباط!
بُنتا ہے آب و گِل سے حسیں جامۂِ حیات
بے جان جسمِ خاک نے پائی ہے زندگی
ذرّوں کے امتزاج سے ہوتے ہیں معجزات!
ہر عضو شاہکار ہے ذوقِ جمال کا
اس نازنیں بدن کو ہے زیبا غرورِ ذات
مدت سے ارتقا کا سفر کر رہا تھا جسم
اب جا کے اِس میں ذہن کی پیدا ہوئیں صفات
جب ذہن مل گیا تو ہوئی جستجو شروع
کیا رازِ زندگی ہے؟ بنی کیوں ہے کائنات؟
انجام اپنا سوچتا ہے ذہن بار بار
سائنس جواب دے گی اسے یا کہ دینیات؟
جتنا بھی ناگوار ہو مرنا ہے ایک دن
کرنا پڑے گا پار کبھی یہ پلِ صراط!
گر ذہن روشنی ہے چراغِ دماغ کی
معدوم ہو گی روشنی بجھتے دیے کا ساتھ
کیوں ہولناک موت کا منظر ہے نفس کو
مرنے کے بعد ذہن بچے گا نہ نفسیات
گر ذہن مثلِ شمع ہے اور طاق ہے دماغ
پھر جسم کی فنا سے نہیں ذہن کی ممات
تاریکیوں میں گور کی بس جسم قید ہے
آئے گی ذہن پر نہ کبھی یہ اندھیری رات
اب ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے موت سے
مرقد میں ہونگے ذہن سے خالی بدن کے ہاتھ
مرنے کا خوف ذہن پہ اتنا ہے کیوں سوار
ڈرنے کی اس میں کون سی اتنی بڑی ہے بات!
--۔ -۔-۔ ۔--۔ -۔-
غزل کی عام روش سے ہٹ کر اور علوم کی کتنی ہی کرنوں کو بٹ کر جب ایسی خوبصورت غزل کہی جائے گی تو داد تو پائے گی،شاباش وجیہ بُخاری صاحب شاد باش!!
جاسم محمد — فروری 24، 2020 8:04 صبح
اردو میں کیمیا گر اور کیمیا دان میں سے کونسا زیادہ مستعمل ہے؟ نیز کیا دونوں کا ایک ہی مطلب ہے؟
عرفان سعید
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 24، 2020 8:06 صبح
اردو میں کیمیا گر اور کیمیا دان میں سے کونسا زیادہ مستعمل ہے؟ نیز کیا دونوں کا ایک ہی مطلب ہے؟
عرفان سعید
دونوں ہی مستعمل ہیں اور الگ الگ سیاق کے مطابق استعمال کئے جاتے ہیں۔
جاسم محمد — فروری 24، 2020 8:09 صبح
دونوں ہی مستعمل ہیں اور الگ الگ سیاق کے مطابق استعمال کئے جاتے ہیں۔
کیمیادان سائنسی و تکنیکی اصطلاح ہے۔
جبکہ کیمیا گر شاعری و تخیل کی پرواز کیلئے استعمال ہوتی ہے شاید۔
Wajih Bukhari — فروری 24، 2020 9:09 صبح
غزل کی عام روش سے ہٹ کر اور علوم کی کتنی ہی کرنوں کو بٹ کر جب ایسی خوبصورت غزل کہی جائے گی تو داد تو پائے گی،شاباش وجیہ بُخاری صاحب شاد باش!!
بہت مہربانی ہے جناب کی۔ غالبا آپ نے سکندر کی تصویر یہاں لگائی ہے۔
Wajih Bukhari — فروری 24، 2020 9:10 صبح
دونوں ہی مستعمل ہیں اور الگ الگ سیاق کے مطابق استعمال کئے جاتے ہیں۔
صحیح فرمایا
Wajih Bukhari — فروری 24، 2020 9:13 صبح
کیمیادان سائنسی و تکنیکی اصطلاح ہے۔
جبکہ کیمیا گر شاعری و تخیل کی پرواز کیلئے استعمال ہوتی ہے شاید۔
بالکل جناب۔ ایسی ہی ناچیز کی بھی رائے ہے۔ میں نے کیمیا گری یہاں پرکرشمہ سازی نیز لفظ کی رعایت لیتے ہوئے سائینسی کیمیا کے لئے استعمال کیا تھا۔
سید عاطف علی — فروری 24، 2020 9:23 صبح
کیمیادان سائنسی و تکنیکی اصطلاح ہے۔
جبکہ کیمیا گر شاعری و تخیل کی پرواز کیلئے استعمال ہوتی ہے شاید۔
کیمیا دان ۔ صرف علم کیمیا کا جاننے والا ہو تا ہے ۔
جب کہ کیمیا گر علم کیمیا کی مدد سے اشیاء تیار بھی کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ کیمیا دان بھی ہوگا۔
جاسم محمد — فروری 24، 2020 10:23 صبح
جب کہ کیمیا گر علم کیمیا کی مدد سے اشیاء تیار بھی کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ کیمیا دان بھی ہوگا۔
اس تعریف کے حساب سے
عرفان سعید کیمیا دان ہی نہیں، کیمیا گر بھی ہیں
