میری ایک غزل تری نسبتوں کا نشاں چاہیے

سید عاطف علی — اگست 7، 2014 11:48 شام
حالیہ مشاعرے کے لیے کہی گئی میری غزل

تری نسبتوں کا نشاں چاہیے
جبیں کو یہی آستاں چاہیے
مجھے ایک ایسا جہاں چاہیے
اثر جس میں ہو وہ فغاں چاہیے
مَحّبت کی ارزاں دکاں چاہیے
مگر جنس اس میں گراں چاہیے
نہ سمجھا کوئی آنسوؤں کو مرے
مجھے مجھ سااک ترجماں چاہیے
میں لوح و قلم کا تو منکر نہیں
مگر آج تیر و کماں چاہیے
مرے ہی محافظ کریں مجھ کو قید
تو مجھ کو بھی تیغ و سناں چاہیے
قبا سرخ ہو تو عَلَم کیوں سفید؟
اب اس پر بھی خوں کا نشاں چاہیے
خرد نے مسخّر کیا یہ جہاں
مگر دل کو سوزِ نہاں چاہیے
جبیں وقفِ جبرِ رسومِ سجود
اِسے روبرو لامکاں چاہیے
سنبھلتا نہیں رازِ ہستی کا بار
مجھے اک امیں رازداں چاہیے
جوئے شیر و تیشہ ؤ کوہِ گراں!
مجھے سخت تر، امتحاں چاہیے
مری انجمن میں اگر تو نہ ہو!
ترے نام کا میہماں چاہیے
مری شہر بدری پہ راضی نہیں
اسے تو بس اک میری جاں چاہیے
ہر اک پر ہویدا نہیں ہےیہ راز
دل ِ زارِ آشفتگاں چاہیے
سمجھتا ہوں تیرا اشارہ مگر
بتا تجھ کو کیا میری جاں چاہیے​
محمد وارث — اگست 8، 2014 6:45 صبح
خوب غزل ہے قبلہ سیّد صاحب
نایاب — اگست 8، 2014 6:48 صبح
واہہہہہہہہہہ
بہت خوب کہی ہے غزل
ڈھیروں دعاؤں بھری داد
واسطی خٹک — اگست 8، 2014 8:46 شام
ﻣﺮﯼ ﺷﮩﺮ ﺑﺪﺭﯼ ﭘﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﮎ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ ﭼﺎﮨﯿﮯ
ظالم کہیں کا
ابن رضا — اگست 8، 2014 9:01 شام
یہ لفظوں کی جادوگری آپ کو
نہ رکھنی تھی ہم سے نہاں چاہیے
الف عین — اگست 9، 2014 3:50 صبح
یہ لفظوں کی جادوگری آپ کو
نہ رکھنی تھی ہم سے نہاں چاہیے
یہاں تو ردیف ہی بے معنی ہو گئی ہے!!!
باقی غزل خوب ہے ماشاء اللہ
ابن رضا — اگست 9، 2014 6:44 صبح
یہاں تو ردیف ہی بے معنی ہو گئی ہے!!!
باقی غزل خوب ہے ماشاء اللہ
استاد جی یہ تو تعریفی تک بندی تھی محض
سید عاطف علی — جنوری 12، 2015 8:33 صبح
خوب غزل ہے قبلہ سیّد صاحب
بہت شکریہ وارث بھائی۔
محمد حفیظ الرحمٰن — جنوری 12، 2015 10:52 صبح
بہت خوب عاطف صاحب۔ عمدہ غزل ہے۔ بہت سی داد۔
محمداحمد — جنوری 15، 2015 11:16 صبح
بہت خوب عاطف بھائی ماشاءاللہ۔
خوش رہیے۔
سید عاطف علی — جولائی 5، 2015 12:27 صبح
بہت شکریہ ۔
محمد حفیظ الرحمٰن صاحب۔ آداب
ادب دوست — جولائی 5، 2015 12:50 صبح
سید عاطف علی بھائی بہت خوب
یہ شعر خاص طور سے اچھا لگا
سنبھلتا نہیں رازِ ہستی کا بار
مجھے اک امیں رازداں چاہیے
بے الف اذان — جولائی 7، 2015 1:08 شام
واہ واہ واہ !
ندیم مراد — جولائی 7، 2015 9:35 شام
شاندار
سید عاطف علی — جولائی 7، 2015 10:30 شام
سید عاطف علی بھائی بہت خوب
یہ شعر خاص طور سے اچھا لگا
آداب و امتنان دوست ۔
سید عاطف علی — جولائی 7، 2015 10:31 شام
شکریہ وآداب بے الف آذان صاحب۔
سید عاطف علی — جولائی 7، 2015 10:31 شام
شکریہ ندیم صاحب
جاسمن — جولائی 12، 2025 7:42 شام
بہت خوب!
پیارے اشعار۔
خورشیداحمدخورشید — جولائی 12، 2025 7:53 شام

نہ سمجھا کوئی آنسوؤں کو مرے
مجھے مجھ سااک ترجماں چاہیے
سنبھلتا نہیں رازِ ہستی کا بار
مجھے اک امیں رازداں چاہیے
ہر اک پر ہویدا نہیں ہےیہ راز
دل ِ زارِ آشفتگاں چاہیے
استادِ محترم لاجواب غزل پر ڈھیروں داد!
سید عاطف علی — جولائی 13، 2025 5:39 صبح
بہت خوب!
پیارے اشعار۔
شکریہ جاسمن۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%D9%86%D8%B3%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92.76798/