محمد وارث — مئی 5، 2008 3:49 شام
کس کافر کو حضور "آوازِ دوست" میں کجی اور عیب نظر آ سکتا ہے، کیوں جہنم میں کھینچتے ہیں برادرم۔
رہی بات بہتری کی تو حضور اس بات کی سب سے عمدہ مثالیں غالب اور فیض ہیں۔ غالب نے اپنی غزلہا چھانٹ ڈالیں اور فیض کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر وقت اپنے کہے ہوئے کلام کے بارے میں سوچتا اور اسے بدلتا رہتا تھا، یہاں تک کہ اسکے ایک انگریز پروفیسر دوست نے جب اسکے کلام کا انگریزی ترجمہ کیا تو دوسرے ایڈیشن میں لکھا کہ چونکہ فیض نے اپنی عادت کے مطابق کلام میں تبدیلیاں کر دی تھیں سو مجھے بھی ترجمہ بدلنا پڑا۔میری انتہائی ذاتی رائے میں، حسنِ مطلع میں آپ نے دو انتہائی بڑے قافیوں "حجاب" اور "شباب" کو ایک مکالمے میں کھپا دیا حالانکہ ان سے ایک جاندار مطلع یا دو انتہائی اچھے شعر "برآمد" ہو سکتے تھے 
فرخ منظور — مئی 6، 2008 1:26 شام
محمد وارث — مئی 6، 2008 3:27 شام
قبلہ وارث صاحب، میں جب بھی کوئی اپنا شعر آپ کو سناؤں تو اسے آوازِ دوست نہیں آوازِ دشمن سمجھا کریں-
جی بہتر، لیکن قبلہ پھر آپ مجھے سنائیں گے کیسے 
فرخ منظور — مئی 6، 2008 3:35 شام
جی بہتر، لیکن قبلہ پھر آپ مجھے سنائیں گے کیسے
حضور آپ کو تو کھری کھری سننے کی عادت ہے تو میری بھی سن لیا کریں -

محمد وارث — مئی 6، 2008 3:59 شام
حضور آپ کو تو کھری کھری سننے کی عادت ہے تو میری بھی سن لیا کریں -
وائے بدنصیبی، قبلہ آپ سمجھتے ہی نہیں وہ بھی تو "دوست" ہی کی ہیں۔ 
فرخ منظور — مئی 7، 2008 12:43 شام
وائے بدنصیبی، قبلہ آپ سمجھتے ہی نہیں وہ بھی تو "دوست" ہی کی ہیں۔
مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا کہ ایک صاحبزادے اپنے والد بزرگوار کی پٹائی کر رہے تھے -تو یہ دیکھ کر محلے والوں نے کہا کہ بیٹا تمہارا باپ تمہارے لئے قبلہ اور کعبہ کی جگہ ہیں تم اسے کیوں مار رہے ہو - تو ان صاحبزادے نے کہا کہ کبھی کبھی قبلہ اور کعبہ کی مرمت بھی ہونی چاہئے -

خرم شہزاد خرم — مئی 7، 2008 1:13 شام
قبلہ خرم شہزاد خرم صاحب، فرخ صاحب نے محفل پر "دعوٰیِ سخنوری" کر رکھا ہے اور انکی غزلیں اس دعوے پر دلیل ہیں 
جی سر جی آپ نے درست فرمایا لیکن ہم تو ایے دعوے نہیں کر رہے ہیں ہم تو ابھی سیکھ رہے ہیں
محمد وارث — مئی 7، 2008 1:24 شام
محمد وارث — مئی 7، 2008 1:28 شام
جی سر جی آپ نے درست فرمایا لیکن ہم تو ایے دعوے نہیں کر رہے ہیں ہم تو ابھی سیکھ رہے ہیں
اور یہ آپ کی صحیح سمت میں پیش رفتی کی دلیل ہے۔ 
فرخ منظور — مئی 7، 2008 1:34 شام
خرم شہزاد خرم — مئی 7، 2008 1:41 شام
اور یہ آپ کی صحیح سمت میں پیش رفتی کی دلیل ہے۔
جی بہت شکریہ یہ سب تو آپ کی وجہ سے ہے ورنہ میںاور راجہ پتہ نہیں کون سے صحرا کی خاک چھان رہے ہوتے آج کل پتہ نہیں کیا بات ہے کچھ لکھنے نہیںہو رہا ہے اور وقت بھی نہیں ملتا ویسے میںکوشش بھی نہیںکر رہا ہوں کیوں کے جب لکھنے ہوتا ہے تو پھر رک نہیںسکتا کیا کہتے ہیں آپ
محمد وارث — مئی 7، 2008 2:02 شام
فکر نہ کریں میں آپ کو اس خول میں نہیں جانے دوں گا میرے کہنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ دوستوں کی کوتاہیوں اور کجیوں کی نشاندہی کرنا ہی میرے نزدیک اصل دوستی ہے - اوردشمنی وہ جس میں کوتاہیوں کی نشاندہی نہ ہو -
یہ آپ کا فلسفہ ہو سکتا ہے جس سے مجھے قطعاً اتفاق نہیں 
محمد وارث — مئی 7، 2008 2:06 شام
جی بہت شکریہ یہ سب تو آپ کی وجہ سے ہے ورنہ میںاور راجہ پتہ نہیں کون سے صحرا کی خاک چھان رہے ہوتے آج کل پتہ نہیں کیا بات ہے کچھ لکھنے نہیںہو رہا ہے اور وقت بھی نہیں ملتا ویسے میںکوشش بھی نہیںکر رہا ہوں کیوں کے جب لکھنے ہوتا ہے تو پھر رک نہیںسکتا کیا کہتے ہیں آپ
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں 
خرم شہزاد خرم — مئی 7، 2008 2:16 شام
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
لیکن میںاداس نہیںہوں اور نا ہی سردیوں کی شامیں ہیں

پھر ایسا کیوں

مغزل — مئی 7، 2008 3:07 شام
[FONT="Urdu_Umad_Nastaliq"]
جی بہت شکریہ یہ سب تو آپ کی وجہ سے ہے ورنہ میںاور راجہ پتہ نہیں کون سے صحرا کی خاک چھان رہے ہوتے آج کل پتہ نہیں کیا بات ہے کچھ لکھنے نہیںہو رہا ہے اور وقت بھی نہیں ملتا ویسے میںکوشش بھی نہیںکر رہا ہوں کیوں کے جب لکھنے ہوتا ہے تو پھر رک نہیںسکتا کیا کہتے ہیں آپ
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور۔۔۔[/FONT]
محمد وارث — مئی 7، 2008 3:53 شام
لیکن میںاداس نہیںہوں اور نا ہی سردیوں کی شامیں ہیں

پھر ایسا کیوں
آپ نہیں مانتے محترم
وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے
مکاں کیا شے ہے؟ اندازِ بیاں ہے
خضر کیوں کر بتائے، کیا بتائے
اگر ماہی کہے، دریا کہاں ہے(اقبال)
خرم شہزاد خرم — مئی 8، 2008 5:21 صبح
آپ نہیں مانتے محترم
وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے
مکاں کیا شے ہے؟ اندازِ بیاں ہے
خضر کیوں کر بتائے، کیا بتائے
اگر ماہی کہے، دریا کہاں ہے(اقبال)
چلے مان لیتے ہیں سر جی
زرقا مفتی — مئی 8، 2008 9:05 شام
فرخ صاحب
بہت دلکش غزل ہے
داد قبول کیجئے
فرخ منظور — مئی 19، 2008 9:48 صبح
بہت شکریہ زرقا صاحبہ! معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے آج ہی آپ کا پیغام دیکھا اسی لئے شکریہ ادا کرنے میں اتنی دیر ہوگئی - امید ہے اسے روا رکھیں گی -

محمداحمد — مئی 19، 2008 10:34 صبح
بے طلب ہم کو جو کرے سیراب
ایسا دریا کہاں، سحاب کہاں
مکتبِ عشق "مِیں" گیا ہی نہیں
تجھ سے ملنے کی مجھ میں تاب کہاں
بہت خوب سخنور صاحب،
نذرانہء تحسین حاضرِ خدمت ہے۔۔۔ قبول کیجے۔
مخلص
محمد احمد