میری غزل - جلا ہوں عمر بھر سوزِ نہاں میں

محمد وارث — جولائی 27، 2007 10:15 صبح
یہ لیجئے جناب میری تک بندی حاضر ہے لیکن آپ تو سننے کے منتظر ہیں اور یہ پڑھنا پڑے گی;) کسی وقت اگر ممکن ہوا تو کسی مشاعَرہ کی ویڈیو یو ٹیوب پر بھی رکھ دوں گا لیکن اچھا خاصا وقت طلب کام ہے یہ لہٰذا اسی پر اکتفا کریں:grin:
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=7671

بہت شکریہ جناب بشیر فاتح صاحب، آپ کے کلام سے ہم مستفید ہوگئے ہیں اور اب ہل من مزید ۔۔۔۔۔
یہ تو بہت ہی خوب ہوگا حضرت اگر آپ اپنے مشاعرے کی ویڈیو مہیا کردیں تو اس بہانے آپ کا "دیدار" :) بھی ہوجائے گا۔
اور ایک بات اور قبلہ، اپنا تفصیلی تعارف بھی کروادیں، یہ نہ ہو کہ ہم ناواقفیت میں ہی آپ سے اعلٰی حضرت کی شان میں گستاخیاں کرتے رہیں اور بعد میں پچھتانا پڑے۔ ;)
۔
shayar777 — اکتوبر 6، 2007 9:32 صبح
کچھ مسرت مزید ھو جائے
اس بہانے سے عید ھو جائے
عید ملنے جو آپ آ جائیں
ہماری بھی عید عید ھو جائے
جاسمن — مارچ 1، 2016 4:51 شام
مکان اک مفلسوں کو دیتے واعظ
محل سو سو جو بخشو لا مکاں میں
بہت خوب!
صائمہ شاہ — مارچ 1، 2016 4:55 شام
بہت عمدہ وارث
آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو قابلیت رکھتے ہوئے بھی اس کا اعتراف نہیں کرتے مگر آپ کی قابلیت کی مداح ہوں ۔ بہت سی داد
محمد تابش صدیقی — مارچ 1، 2016 5:25 شام
بہت خوب وارث بھائی۔
جلا ہوں عمر بھر سوزِ نہاں میں
رہا ہوں مثلِ گل میں اس جہاں میں
کیا نازک شعر کہا ہے۔
بکھرتا پھول مہکا اس ادا سے
کلی کا دل بھی دھڑکا گلسِتاں میں
ویسے غزلوں میں آج تک جتنا واعظ کی مٹی پلید ہوتے دیکھی ہے، کسی دن واعظوں نے غزل پر فتویٰ جاری کر دینا ہے۔
مکان اک مفلسوں کو دیتے واعظ
محل سو سو جو بخشو لا مکاں میں
حق
یوں تو سامان سارے ہیں سفر کے
امیر اک کی کمی ہے کارواں میں
کیا خوبصورت خیال لائے ہیں
پرندوں سے ہے سیکھی رمز پیاری
نہیں ہے جمع کچھ بھی آشیاں میں

بہت عمدہ وارث بھائی
اور شکریہ جاسمن بہن کا، جو محفل کی پاتال سے خزانے ڈھونڈ نکالتی ہیں۔
محمد وارث — مارچ 1، 2016 6:28 شام
شکریہ جاسمن صاحبہ، نوازش آپ کی۔
بہت عمدہ وارث
آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو قابلیت رکھتے ہوئے بھی اس کا اعتراف نہیں کرتے مگر آپ کی قابلیت کی مداح ہوں ۔ بہت سی داد
بہت شکریہ صائمہ، یہ محض آپ کا حسنِ نظر ہے ورنہ میں اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہوں :)
بہت خوب وارث بھائی۔
کیا نازک شعر کہا ہے۔
ویسے غزلوں میں آج تک جتنا واعظ کی مٹی پلید ہوتے دیکھی ہے، کسی دن واعظوں نے غزل پر فتویٰ جاری کر دینا ہے۔
حق
کیا خوبصورت خیال لائے ہیں
بہت عمدہ وارث بھائی
اور شکریہ جاسمن بہن کا، جو محفل کی پاتال سے خزانے ڈھونڈ نکالتی ہیں۔
نوازش آپ کی صدیقی صاحب، ذرہ نوازی ہے آپ کی۔
اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں قطعا باک نہیں ہے کہ اس غزل کے ایک آدھ شعر میں غلطیاں تھیں، سو وہ شعر ہی نکال دیا ہے :) یقینا مزید غلطیاں اور بھرتی کے اشعار بھی ہونگے۔دراصل یہ بالکل ہی ابتدائی غزل ہے، اور میں خود اسے بھول چکا تھا، شرم تو آ ہی رہی ہے لیکن وہ دن بھی کہ جب یہ نام نہاد غز ل کہی تھی، بہت شدت سے یاد آ گئے :)
جاسمن — مارچ 2، 2016 5:14 صبح
کیا سناؤں کہ اس عہد میں شاعر تو ہیں ‌لیکن قاری و سامع عنقا ہو چکے ہیں اور بس وہی بننے کی کوشش میں ہوں۔
ہاہاہاہا۔
کافی عرصے سے یہی سوچتی تھی ۔ اتنے سامع نہیں جتنے شعراء ہیں۔
فاتح — مارچ 2، 2016 7:37 شام
اس لڑی کو زندہ کرنے کےلیے شکریہ۔ اس کے مراسلوں کو از سر نو پڑھ کے قند مکرر کا لطف آ گیا۔وارث بھائی سے آغاز محبت کا دور تھا یہ ۔ :)
اور محب علوی سے بھی پینگیں بڑھ رہی تھیں محبت کی :)
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 1:50 صبح
دراصل یہ بالکل ہی ابتدائی غزل ہے، اور میں خود اسے بھول چکا تھا، شرم تو آ ہی رہی ہے لیکن وہ دن بھی کہ جب یہ نام نہاد غز ل کہی تھی، بہت شدت سے یاد آ گئے
واہ! بہت خوب وارث بھائی ۔ بہت عمدہ!
وارث بھائی میری رائے میں ابتدائی زمانے کے شعر بہت سچے ہوتے ہیں ۔ تکنیکی باریکیوں سے قطعِ نظر ، ان اشعار کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ ہر شعر کے دامن میں کیا کیا کہانیاں سی ہوتی ہیں ۔ جب کبھی پڑھنے بیٹھیں تو لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام والی خواہش شدت سے جاگ اٹھتی ہے۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 3، 2016 2:25 صبح
ہاہاہاہا۔
کافی عرصے سے یہی سوچتی تھی ۔ اتنے سامع نہیں جتنے شعراء ہیں۔
جو سامع بن کر رہنا چاہتا ہے، اسے لوگ زبردستی شاعر بنانے پر تلے ہوتے ہیں. :p
محمد وارث — مارچ 3، 2016 3:06 صبح
واہ! بہت خوب وارث بھائی ۔ بہت عمدہ!
وارث بھائی میری رائے میں ابتدائی زمانے کے شعر بہت سچے ہوتے ہیں ۔ تکنیکی باریکیوں سے قطعِ نظر ، ان اشعار کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ ہر شعر کے دامن میں کیا کیا کہانیاں سی ہوتی ہیں ۔ جب کبھی پڑھنے بیٹھیں تو لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام والی خواہش شدت سے جاگ اٹھتی ہے۔
بالکل درست فرما رہے ہیں، ع - اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے :)
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2016 6:58 صبح
مکان اک مفلسوں کو دیتے واعظ
محل سو سو جو بخشو لا مکاں میں

یوں تو سامان سارے ہیں سفر کے
امیر اک کی کمی ہے کارواں میں

بہت ہی خوبصورت اشعار۔۔۔۔ کیا کہنے وارث بھائی۔۔۔ اعلی
محمد وارث — مارچ 4، 2016 8:31 صبح
بہت ہی خوبصورت اشعار۔۔۔۔ کیا کہنے وارث بھائی۔۔۔ اعلی
نوازش آپ کی برادرم۔
لاریب مرزا — فروری 14، 2018 2:38 شام
اسد اب چھوڑ دل کا حال کہنا
ہے رکھا کیا تری اس داستاں میں
واہ، بہت خوب!!
محمد وارث — فروری 15، 2018 3:31 صبح
اسد اب چھوڑ دل کا حال کہنا
ہے رکھا کیا تری اس داستاں میں
واہ، بہت خوب!!
شکریہ لاریب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%D9%84%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D8%B2%D9%90-%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.7405/page-2