میری پہلی رباعی

محمد وارث — جولائی 7، 2007 4:56 شام
معزز اراکینِ محفل، آپکی خدمت میں اپنی پہلی رباعی پیش کر رہا ہوں، امید ہے اپنی رائے سے نوازیں‌ گے.
بکھرے ہوئے پھولوں کی کہانی سُن لے
ہے چار دنوں کی زندِگانی سُن لے
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
کرتا ہے خراب کیوں جوانی، سُن لے
شاکرالقادری — جولائی 7، 2007 5:38 شام
بہت خوب جناب بہت خوب
F@rzana — جولائی 7، 2007 5:41 شام
بہت خوب، واہ
محمد وارث — جولائی 7، 2007 5:45 شام
بہت خوب جناب بہت خوب

بہت شکریہ جناب شاکر القادری صاحب.
یقین مانیے آپ کی داد نے سیروں خون بڑھا دیا میرا.
نوازش آپکی.
محمد وارث — جولائی 7، 2007 5:50 شام

بہت شکریہ آپ کا.
مجھے لگتا ہے کہ آج رات نیند نہیں‌ آئے گی، کہ آپ جیسی ماہر اور اعلٰی ذوق کی حامل شاعرہ سے داد مل گئی ہے.
نوازش آپکی.
جیہ — جولائی 7، 2007 5:51 شام
معزز اراکینِ محفل، آپکی خدمت میں اپنی پہلی رباعی پیش کر رہا ہوں، امید ہے اپنی رائے سے نوازیں‌ گے.
بکھرے ہوئے پھولوں کی کہانی سُن لے
ہے چار دنوں کی زندِگانی سُن لے
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
کرتا ہے خراب کیوں جوانی، سُن لے

وارث بہت اچھی رباعی ہے. مگر یہ مصرعہ سمجھ میں نہیں آیا.
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
ہم نے تو سنا تھا کہ لوگ جوانی وقف عشق کر دیتے ہیں . اور پیری میں میں بقول غالب
دمِ واپسیں بر سر راہ ہے
عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے
:eek:
محمد وارث — جولائی 7، 2007 5:55 شام
وارث بہت اچھی رباعی ہے. مگر یہ مصرعہ سمجھ میں نہیں آیا.
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
ہم نے تو سنا تھا کہ لوگ جوانی وقف عشق کر دیتے ہیں . اور پیری میں میں بقول غالب
دمِ واپسیں بر سر راہ ہے
عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے
:eek:

بہت شکریہ آپ کا.
آپ نے بالکل صحیح مقام سے پکڑا ہے اس رباعی کو، کہ جوانی کو وقف عشق کرنے والوں کے بارے میں‌ اب صرف سنا ہی جاتا ہے، اور اسی چیز کی کمی ہے شاید میری اپنی زندگی میں‌ بھی.
جیہ — جولائی 7، 2007 5:58 شام
یعنی آپ کا مطلب ہے بقول غالب
ننگِ پیری ہے جوانی میری :)
محمد وارث — جولائی 7، 2007 6:05 شام
یعنی آپ کا مطلب ہے بقول غالب
ننگِ پیری ہے جوانی میری :)

جی ہاں‌ شاید، لیکن اسی شعر کا مصرع اولٰی بھی تو سامنے رکھیں
کر دیا ضعف نے عاجز غالب
اور اللہ کا شکر ہے کہ میری ابھی یہ سٹیج نہیں ہے :)
جیہ — جولائی 7، 2007 6:08 شام
وہ تو ٹھیک ہے مگر اللہ کرے آپ پر وہ مقام نہ آئے
عشق نے غالب نکما کردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
محمد وارث — جولائی 7، 2007 6:13 شام
وہ تو ٹھیک ہے مگر اللہ کرے آپ پر وہ مقام نہ آئے
عشق نے غالب نکما کردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

یہ بھی لگتا ہے غالب کا بڑھاپے کا شعر ہے ورنہ دیکھیے گا ذرا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا
جیہ — جولائی 7، 2007 6:21 شام
مگر اسی نے تو کہا تھا جوانی میں
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
محمد وارث — جولائی 7، 2007 6:34 شام
اچھا واقعی، تو پھر یہ شعر لڑکپن کا لگتا ہے
دھمکی میں‌ مر گیا جو نہ بابِ نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب گارِ مرد تھا
جیہ — جولائی 7، 2007 6:41 شام
بالکل لڑکپن کا شعر ہے کیوں کہ یہ نسخہ حمیدیہ میں موجود ہے جو 1828 میں چھپی تھی
ڈاکٹر عباس — جولائی 7، 2007 6:48 شام
آپ دونوں کی شاعرانہ نوک جھونک بہت دلچسپ ہے
جیہ — جولائی 7، 2007 6:56 شام
سسر جی اب آپ سے کیا کہوں بقول غالب
غیر کو یارب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
محمد وارث — جولائی 7، 2007 7:10 شام
بالکل لڑکپن کا شعر ہے کیوں کہ یہ نسخہ حمیدیہ میں موجود ہے جو 1828 میں چھپی تھی

ویسے جتنی قبلہ نے عمر پائی، اس لحاظ سے پچیس، تیس برس کی عمر لڑکپن ہی بنتی ہے :)
ایک قتیلِ غالب ہیں پروفیسر Frances Pritchett
انہوں‌ نے بہت خوب کام کیا ہے کہ غالب پہ، نہ صرف غالب کی شرحیں‌ اکھٹی کر دی ہیں بلکہ ہر غزل کی تاریخ بھی مستند حوالوں‌ سے بیان کر دی ہے. اور غالب کے دیوان کی بحور بھی بیان کردی ہیں. یقینا بہت سارے احباب نے یہ کام دیکھا ہوگا.
http://www.columbia.edu/itc/mealac/pritchett/00ghalib/index.html
ایک اور تھے قتیلِ غالب، شیخ محمد اکرام صاحب، "کوثر" سیریز والے، انہوں‌ نے ایک دیوانِ غالب مرتب کیا ہوا ہے "ارمغانِ غالب" روایتی ترتیب کی بجائے تاریخی ترتیب سے. واہ، واہ کیسے کیسے عشاق ہیں غالب کے .....
گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جاویں‌ گے کیا
محمد وارث — جولائی 7، 2007 7:16 شام
آپ دونوں کی شاعرانہ نوک جھونک بہت دلچسپ ہے

ڈاکٹر صاحب، نوک جھونک کہاں، بقولِ مرشدی
ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطر
خاک میں‌ عشاق کی غبار نہیں‌ ہے
جیہ — جولائی 7، 2007 7:57 شام
ویسے جتنی قبلہ نے عمر پائی، اس لحاظ سے پچیس، تیس برس کی عمر لڑکپن ہی بنتی ہے :)
ایک قتیلِ غالب ہیں پروفیسر Frances Pritchett
انہوں‌ نے بہت خوب کام کیا ہے کہ غالب پہ، نہ صرف غالب کی شرحیں‌ اکھٹی کر دی ہیں بلکہ ہر غزل کی تاریخ بھی مستند حوالوں‌ سے بیان کر دی ہے. اور غالب کے دیوان کی بحور بھی بیان کردی ہیں. یقینا بہت سارے احباب نے یہ کام دیکھا ہوگا.
http://www.columbia.edu/itc/mealac/pritchett/00ghalib/index.html
ایک اور تھے قتیلِ غالب، شیخ محمد اکرام صاحب، "کوثر" سیریز والے، انہوں‌ نے ایک دیوانِ غالب مرتب کیا ہوا ہے "ارمغانِ غالب" روایتی ترتیب کی بجائے تاریخی ترتیب سے. واہ، واہ کیسے کیسے عشاق ہیں غالب کے .....
گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جاویں‌ گے کیا

یہ سائٹ میں نے دیکھی ہے سرسری، اب غور سے دیکھوں گی.
شیخ محد اکرام کی حیات غالب میرے پاس ہے مگر اس دیوان کے بارے میں اب سنا جو اس نے مرتب کیا ہے. ویسے ان کی بہترین کتاب تو آب کوثر، موج کوثر اور رود کوثر سیریز ہے. میرے پاس ہیں تینوں،
وارث آپ نے انیس ناگی کی یہ کتاب پڑھی ہے؟ غالب ایک شاعر، ایک اداکار.. میری رائے تو یہ ہے کہ اس نے منفی ذہن نے یہ کتاب لکھی ہے. آپ کی کیا رائے ہے؟
فہیم — جولائی 7، 2007 8:18 شام
ویسے غالب صاحب نے کتنی عمر پائی تھی
اور ایک اندازے کے مطابق کتنے شعر کہے ہونگے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B9%DB%8C.7266/