خوب غزل ہے سید صاحب قبلہ، لاجواب
افسوس جو اشارہ آپ نے کیا وہ میرے لیے کافی ثابت نہ ہوا۔یہ مصرع اسی طرح رواں ہے جیسے آپ نے فرمایا سو اسی طرح کیے دیتا ہوں اور نقارہء خدا کی تائید کرکے مامون ہونے میں عافیت جانتا ہوں ۔
اور اپنی تقدیرات و احساسات کو محبوس کیے دیتاہوں ، اگر چہ اس میں ایک قدرے قدیم شعری اسلوب کا رنگ مجھے محسوس ہوتا ہے جو مجھے پسند آتا ہے۔
اس غزل میں لیکن چونکہ شستہ و سلیس انداز اختیار کیا ہے سو یہی ٹھیک بھی لگتا ہے۔
اعجاز بھائ۔ بجا فرمایا ، ذکر کردہ شعر میں کچھ اور شعروں کی طرح نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔اس کی کئی طرح ترتیب بن رہی تھی ۔ایک شاید یہ بھی تھی ۔ یہ کیسی رہے گی ؟
امید کی کرن جو بچی تھی شب فراق
آخر بنی وہ شمعِ شبستان آرزو