میں جانتی ہوں کہ ہوں ناگزیر اس کے لئے

جیا راؤ — اگست 28، 2008 8:17 صبح
وہ مجھ کو چھوڑ کے جائے تو کوئی بات بنے
کبھی نہ لوٹ کے آئے تو کوئی بات بنے
مرے لئے تو وہ روتا رہا ہے برسوں ہی
ہاں آج مجھ کو رلائے تو کوئی بات بنے
میں اپنے بارے میں سوچوں تو خود کو نہ پاؤں
یوں مجھ سے مجھ کو چرائے تو کوئی بات بنے
میں روٹھ جاؤں گر اس سے تو بے وفا نہ کہے
وہ مر کے مجھ کو منائے تو کوئی بات بنے
میں جس سے ہنس کے نہ بولوں وہ اس کو چھوڑ چلے
یوں میرے ناز اٹھائے تو کوئی بات بنے
میں جانتی ہوں کہ ہوں ناگزیر اس کے لئے
وہ بار بار بتائے تو کوئی بات بنے
جیا نجانے کہ ہے ہجر اور بسمل کیا
وہ آج مجھ کو بتائے تو کوئی بات بنے
فاروقی — اگست 28، 2008 8:25 صبح
ذرا اک اور غزل ہو جائے تو کوئی بات بنے
شمشاد — اگست 28، 2008 8:33 صبح
جیا جی بہت اچھی غزل کہی ہے آپ نے۔ میری طرف سے مبارک قبول کریں۔
اس کا پوسٹ مارٹم تو استاتذہ کرام ہی کریں گے، لیکن مجھے بہت پسند آئی ہے۔
جیا راؤ — اگست 28، 2008 8:58 صبح
ذرا اک اور غزل ہو جائے تو کوئی بات بنے

دو چار آپ بھی لکھ جائیں تو کوئی بات بنے
:):)
محمداحمد — اگست 28، 2008 8:59 صبح
میں اپنے بارے میں سوچوں تو خود کو نہ پاؤں
یوں مجھ سے مجھ کو چرائے تو کوئی بات بنے
میں روٹھ جاؤں گر اس سے تو بے وفا نہ کہے
وہ مر کے مجھ کو منائے تو کوئی بات بنے
میں جانتی ہوں کہ ہوں ناگزیر اس کے لئے
وہ بار بار بتائے تو کوئی بات بنے

جیا صاحبہ
خوب جم کے شرطیں‌ لگائیں ہیں آپ نے ۔ :grin:
مذاق بر طرف غزل بہت اچھی ہے اور سب ہی اشعار خوب ہیں۔ میری جانب سے داد قبول کیجے۔
خوش رہیے!
مخلص
محمد احمد
جیا راؤ — اگست 28، 2008 8:59 صبح
جیا جی بہت اچھی غزل کہی ہے آپ نے۔ میری طرف سے مبارک قبول کریں۔
اس کا پوسٹ مارٹم تو استاتذہ کرام ہی کریں گے، لیکن مجھے بہت پسند آئی ہے۔

آپ کو اچھی لگی، ہمیں بھی اچھی لگی۔:grin:
شکریہ جناب۔
ہمیں بھی اعجاز انکل کا انتظار ہے۔:)
جیا راؤ — اگست 28، 2008 9:03 صبح
میں اپنے بارے میں سوچوں تو خود کو نہ پاؤں
یوں مجھ سے مجھ کو چرائے تو کوئی بات بنے
میں روٹھ جاؤں گر اس سے تو بے وفا نہ کہے
وہ مر کے مجھ کو منائے تو کوئی بات بنے
میں جانتی ہوں کہ ہوں ناگزیر اس کے لئے
وہ بار بار بتائے تو کوئی بات بنے

جیا صاحبہ
خوب جم کے شرطیں‌ لگائیں ہیں آپ نے ۔ :grin:
مذاق بر طرف غزل بہت اچھی ہے اور سب ہی اشعار خوب ہیں۔ میری جانب سے داد قبول کیجے۔
خوش رہیے!
مخلص
محمد احمد

کیا ہے کہ ہماری شاعری میں 'خواہ مخواہ' کا ناز پایا جاتا ہے جس سے ہم خود پریشان ہیں۔:grin:
غزل کی پسندیدگی کا شکریہ :)
محمد وارث — اگست 28، 2008 9:19 صبح
واہ واہ بہت اچھی غزل ہے آپ کی جیا راؤ، لا جواب۔
جیا راؤ — اگست 28، 2008 9:24 صبح
شکریہ وارث جی۔:)
ابوشامل — اگست 28، 2008 12:20 شام
جیا غزل تو بہت ہی اعلٰی ہے۔
میں جانتی ہوں کہ ہوں ناگزیر اس کے لئے
وہ بار بار بتائے تو کوئی بات بنے
مندرجہ بالا شعر سےاندازہ ہو رہا ہے کہ امجد اسلام امجد کی (حال ہی میں یہاں پیش کردہ) آزاد نظم کو آپ نے خوب سمجھا ہے :)
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ !!
مغزل — اگست 28، 2008 1:14 شام
رسید حاضر ہے ۔۔ باقی آئندہ ملاقات میں
حسن علوی — اگست 28، 2008 1:24 شام
بہت خوبصورت کلام ھے۔
پڑھ کر اچھا لگا اور تعجب بھی کہ اتنے سارے تقاضے کرنا کہاں کا انصاف ھے:grin:
بہت شکریہ
زھرا علوی — اگست 28، 2008 1:42 شام
واہ جیا پڑھ کر مزہ ا گیا۔۔۔
بہت زبردست ۔۔۔
۔۔:):):)
جیا راؤ — اگست 28، 2008 2:00 شام
جیا غزل تو بہت ہی اعلٰی ہے۔
مندرجہ بالا شعر سےاندازہ ہو رہا ہے کہ امجد اسلام امجد کی (حال ہی میں یہاں پیش کردہ) آزاد نظم کو آپ نے خوب سمجھا ہے :)
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ !!

نظم ہم نے حال میں پیش کی ہے اور یہ غزل کوئی ڈیڑھ سال پرانی ہے۔:grin:
ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اور امجد اسلام امجد ہم خیال ہوئے، شاید اسی لئے وہ ہمیں اس قدر پسند بھی ہیں۔:)
جیا راؤ — اگست 28، 2008 2:05 شام
رسید حاضر ہے ۔۔ باقی آئندہ ملاقات میں

دیکھتے ہیں آپ کب شرفِ ملاقات بخشتے ہیں۔:grin:
جیا راؤ — اگست 28، 2008 2:07 شام
بہت خوبصورت کلام ھے۔
پڑھ کر اچھا لگا اور تعجب بھی کہ اتنے سارے تقاضے کرنا کہاں کا انصاف ھے:grin:
بہت شکریہ

انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا
یا رب ! میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں
(جیا راؤ)

:grin::grin:
جیا راؤ — اگست 28، 2008 2:08 شام
واہ جیا پڑھ کر مزہ ا گیا۔۔۔
بہت زبردست ۔۔۔
۔۔:):):)

شکریہ زہرا جی۔:)
محسن حجازی — اگست 28، 2008 2:39 شام
ہم کو لگتا ہے کہ آپ سال بھر کا کلام اکٹھا کہہ لیتی ہیں :grin: :grin:
جیا راؤ — اگست 28، 2008 2:53 شام
سرا سر الزام ہے ہم پر ذخیرہ اندوزی کا۔:(
سعود الحسن — اگست 28، 2008 2:57 شام
دو چار آپ بھی لکھ جائیں تو کوئی بات بنے
:):)

جناب لکھا تو آپ نے غضب کا ہے، خاص کر خیال مجھے پسند آیا، آپ کے اشعار میں زبردست خوداعتمادی ہے جو مشکل سے ملتی ہے، مبارک ہو۔
چیلنج تو آپ نے فاروقی کو دیا تھا، لیکن دل پر ہم نے لے لیا اور آپ ہی کے وزن میں یہ تک بندی کردی، ملاحظہ ہو ، آمید ہے ناراض نہ ہونگیں، اگر ہوں تو بتا دیجیے گا، میں اپنی ُپوسٹ فوراً ہٹالوں گا۔
وہ مجھ کو چھوڑ کے جائے تو کوئی بات بنے
کبھی نہ لوٹ کے آئے تو کوئی بات بنے

جانے کی بات نہ کر تو کوئی بات بنے
آنسو میرے چراے تو کوئی بات بنے

مرے لئے تو وہ روتا رہا ہے برسوں ہی
ہاں آج مجھ کو رلائے تو کوئی بات بنے

میری بےبسی ہر ہنسا ہے برسوں
کبھی مجھے ہنساے تو کوئی بات بنے

میں اپنے بارے میں سوچوں تو خود کو نہ پاؤں
یوں مجھ سے مجھ کو چرائے تو کوئی بات بنے

میری نظر میں بس تو ہی تو
جو نظر نہ چراے تو کوئی بات بنے

میں روٹھ جاؤں گر اس سے تو بے وفا نہ کہے
وہ مر کے مجھ کو منائے تو کوئی بات بنے

میرا مرگ اور تو ناشاد ہو
اٹھ نہ جاوں جو کوئی بات بنے

میں جس سے ہنس کے نہ بولوں وہ اس کو چھوڑ چلے
یوں میرے ناز اٹھائے تو کوئی بات بنے

ہر راستہ میں تیرے کہے پہ چھوڑ دوں
جو تو راہ دیکھاے تو کوئی بات بنے

میں جانتی ہوں کہ ہوں ناگزیر اس کے لئے
وہ بار بار بتائے تو کوئی بات بنے

تو کہے تو اقرار کے صحیفے اتار دوں
پر ایک نگاہ میں سمجھ جاے تو کوئی بات بنے

جیا نجانے کہ ہے ہجر اور بسمل کیا
وہ آج مجھ کو بتائے تو کوئی بات بنے

وصل کی نہ میں نے کبھی طلب کی
جو تو ہجر میں نہ جاے تو کوئی بات بنے

ایک بار پھر معزرت
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%8C-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%81-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%86%D8%A7%DA%AF%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.14660/