میں ہوں وہ آنکھ جسے خونِ جگر لے ڈوبے

راحیل فاروق — مارچ 21، 2016 1:24 شام
میں ہوں وہ آنکھ جسے خونِ جگر لے ڈوبے
میں وہ نالہ ہوں جسے اس کا اثر لے ڈوبے
میں ہوں وہ رات ستارے جسے گہرا کر دیں
میں ہوں وہ بزم جسے رقصِ شرر لے ڈوبے
وہ مئےِ تند ہوں میں جس سے جگر چِر جائے
میں وہ دریا ہوں جو اپنا ہی گہر لے ڈوبے
وہ صنم میں نے تراشے کہ خدا چونک اٹھے
میں وہ آزر ہوں جسے مشقِ ہنر لے ڈوبے
گرد کو بھی نہ پہنچ سکتے تھے رہزن جس کی
اسے منزل سے بھی آگے کے سفر لے ڈوبے
وہ جو پھرتے تھے خبر تیرگیوں کی لیتے
اِدھر آئے تو کئی چاند اِدھر لے ڈوبے
کیسے خاموش اندھیروں میں چھپے بیٹھے ہیں
ایسے اندھیر کہ امیدِ سحر لے ڈوبے
ابنِ آدم کی تو بو تک نہ رہی گلیوں میں
میری بستی کو خداؤں کے یہ گھر لے ڈوبے​

نام لیواؤں کو اپنے کبھی خلوت میں پرکھ
اس تماشے کو یہی شعبدہ گر لے ڈوبے
شیخ صاحب نے تو مقتل میں جھکا لی گردن
سرکشوں ہی کے یہ سر حرمتِ سر لے ڈوبے
میرے ہم راز نے کیا خوب کہا تھا راحیلؔ
تجھے ممکن ہے یہی ذوقِ نظر لے ڈوبے
راحیلؔ فاروق​

ماخوذ: زار
فاتح — مارچ 21، 2016 1:40 شام
مطلع تا مقطع تمام اشعار خوب ہیں۔ اس خوبصورت تخلیق پر مبارک باد راحیل صاحب۔
اس مصرع میں شاید ٹائپو ہے۔دیکھ لیجیے گا:
وہ جو پھرتے تھے خبر تیرگیوں کی لیے

اور یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ اندھیرا کی نون تو اعلانیہ نہیں بلکہ غنہ ہوتی ہے جو وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ کیا لفظ اندھیر میں ایسا نہیں؟
ایسے اندھیر کہ امیدِ سحر لے ڈوبے
راحیل فاروق — مارچ 21، 2016 1:51 شام
مطلع تا مقطع تمام اشعار خوب ہیں۔ اس خوبصورت تخلیق پر مبارک باد راحیل صاحب۔
آپ کی داد سے حوصلہ بڑھتا ہے، بھائی۔ بہت شکریہ۔
اس مصرع میں شاید ٹائپو ہے۔
بجا۔ درست کر دیا ہے۔
اور یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ اندھیرا کی نون تو اعلانیہ نہیں بلکہ غنہ ہوتی ہے جو وزن میں شمار نہیں ہوتی۔ کیا لفظ اندھیر میں ایسا نہیں؟
اندھیرا بمعنی تاریکی میں نون غنہ ہی ہے۔ لیکن اندھیر بمعنی ظلم میں نون کا اعلان فصیح ہے۔
نظائر:
ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
(غالبؔ)
اس آفتاب بن یاں اندھیر ہو رہا ہے
دن بھی سیاہ اپنے جوں راتیں کالیاں ہیں
(میرؔ)​
ظہیراحمدظہیر — مارچ 21، 2016 2:30 شام
راحیل بھائی ! ابھی تک جھوم رہا ہوں پڑھ پڑھ کر !!! کیا خوبصورت غزل ہے !!! زندہ باد!!! سلامت رہیں ، تا قیامت رہیں !
ابنِ آدم کی تو بو تک نہ رہی گلیوں میں
میری بستی کو خداؤں کے یہ گھر لے ڈوبے
واہ واہ واہ!!! سلامت رہیں ، تا قیامت رہیں !
یہ بتایئے کہ زار برقی کتاب کی صورت میں موجود ہے؟! یعنی جسے ڈاؤنلوڈ کیا جاسکے۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 21، 2016 2:38 شام
راحیل بھائی کمال کر دیا ہے. بہت عمدہ. کیا جاندار غزل کہی ہے.
میں ہوں وہ آنکھ جسے خونِ جگر لے ڈوبے
میں وہ نالہ ہوں جسے اس کا اثر لے ڈوبے
میں ہوں وہ رات ستارے جسے گہرا کر دیں
میں ہوں وہ بزم جسے رقصِ شرر لے ڈوبے
وہ مئےِ تند ہوں میں جس سے جگر چِر جائے
میں وہ دریا ہوں جو اپنا ہی گہر لے ڈوبے
وہ صنم میں نے تراشے کہ خدا چونک اٹھے
میں وہ آزر ہوں جسے مشقِ ہنر لے ڈوبے
گرد کو بھی نہ پہنچ سکتے تھے رہزن جس کی
اسے منزل سے بھی آگے کے سفر لے ڈوبے
وہ جو پھرتے تھے خبر تیرگیوں کی لیتے
اِدھر آئے تو کئی چاند اِدھر لے ڈوبے
کیسے خاموش اندھیروں میں چھپے بیٹھے ہیں
ایسے اندھیر کہ امیدِ سحر لے ڈوبے
ابنِ آدم کی تو بو تک نہ رہی گلیوں میں
میری بستی کو خداؤں کے یہ گھر لے ڈوبے​

نام لیواؤں کو اپنے کبھی خلوت میں پرکھ
اس تماشے کو یہی شعبدہ گر لے ڈوبے
شیخ صاحب نے تو مقتل میں جھکا لی گردن
سرکشوں ہی کے یہ سر حرمتِ سر لے ڈوبے
میرے ہم راز نے کیا خوب کہا تھا راحیلؔ
تجھے ممکن ہے یہی ذوقِ نظر لے ڈوبے
راحیلؔ فاروق​

ماخوذ: زار
بہت خوب
باباجی — مارچ 21، 2016 2:42 شام
واہ واہ راحیل بھائی بہت خوب
وہ صنم میں نے تراشے کہ خدا چونک اٹھے
میں وہ آزر ہوں جسے مشقِ ہنر لے ڈوبے
مریم افتخار — مارچ 21، 2016 3:48 شام
زبردست ! :applause:
نمرہ — مارچ 21، 2016 3:49 شام
میں ہوں وہ رات ستارے جسے گہرا کر دیں!!!!
ہادیہ — مارچ 21، 2016 3:54 شام
بہت خوب(y)
ابن رضا — مارچ 21، 2016 4:36 شام
نام لیواؤں کو اپنے کبھی خلوت میں پرکھ
اس تماشے کو یہی شعبدہ گر لے ڈوبے
واہ واہ واہ کیا خوب چوٹ کی ہے حضور بہت ہی اعلیٰ سبھی شعر ہی لاجواب ہیں۔ کمال کیف کا سماں طاری ہے ۔ بہت سی داد حاضر ہے۔
جاسمن — مارچ 21، 2016 5:09 شام
اتنی حسین۔۔۔اتنی حسین۔۔۔۔۔اتنی حسین
سارے کے سارے اشعار ایک سے بڑھ کے ایک ہیں۔
بہت خوب!
ڈھیروں ڈھیروں ڈھیروں داد۔
بہت ہی خوبصورت خیال ہیں۔۔۔۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔۔۔۔۔
یاز — مارچ 21، 2016 5:22 شام
بہت ہی خوب راحیل بھائی۔ کمال کی غزل کہی ایک بار پھر۔
یوسف سلطان — مارچ 21، 2016 6:00 شام
میں ہوں وہ آنکھ جسے خونِ جگر لے ڈوبے
میں وہ نالہ ہوں جسے اس کا اثر لے ڈوبے
میں ہوں وہ رات ستارے جسے گہرا کر دیں
میں ہوں وہ بزم جسے رقصِ شرر لے ڈوبے
وہ مئےِ تند ہوں میں جس سے جگر چِر جائے
میں وہ دریا ہوں جو اپنا ہی گہر لے ڈوبے
وہ صنم میں نے تراشے کہ خدا چونک اٹھے
میں وہ آزر ہوں جسے مشقِ ہنر لے ڈوبے
گرد کو بھی نہ پہنچ سکتے تھے رہزن جس کی
اسے منزل سے بھی آگے کے سفر لے ڈوبے
وہ جو پھرتے تھے خبر تیرگیوں کی لیتے
اِدھر آئے تو کئی چاند اِدھر لے ڈوبے
کیسے خاموش اندھیروں میں چھپے بیٹھے ہیں
ایسے اندھیر کہ امیدِ سحر لے ڈوبے
ابنِ آدم کی تو بو تک نہ رہی گلیوں میں
میری بستی کو خداؤں کے یہ گھر لے ڈوبے​

نام لیواؤں کو اپنے کبھی خلوت میں پرکھ
اس تماشے کو یہی شعبدہ گر لے ڈوبے
شیخ صاحب نے تو مقتل میں جھکا لی گردن
سرکشوں ہی کے یہ سر حرمتِ سر لے ڈوبے
میرے ہم راز نے کیا خوب کہا تھا راحیلؔ
تجھے ممکن ہے یہی ذوقِ نظر لے ڈوبے
راحیلؔ فاروق​

ماخوذ: زار
بہت خوب !
محمد ساجد رضا — مارچ 21، 2016 6:15 شام
بہت خوب جناب راحیل صاحب
کاشف اختر — مارچ 21، 2016 6:45 شام
بہت اعلی. واہ واہ راحیل بھائی!
راحیل فاروق — مارچ 22، 2016 10:26 صبح
تمام احباب کا پسند فرمانے پر شکر گزار ہوں۔ جزاکم اللہ خیر!
یہ بتایئے کہ زار برقی کتاب کی صورت میں موجود ہے؟! یعنی جسے ڈاؤنلوڈ کیا جاسکے۔
قبلہ، میں نے اس کا ایک پی ڈی ایف بنایا تھا جو مجھ سمیت کسی کو پسند نہیں آیا۔ مل گیا تو آپ کو بھیج دوں گا۔ ورنہ بزمِ اردو لائبریری پر یہ آن لائن پڑھی جا سکتی ہے۔
ویسے یہ غزل زار میں اس صورت میں نہیں ہے۔ اس کے شروع کے کافی اشعار کل شامل کیے ہیں۔
ملک عدنان احمد — مارچ 22، 2016 10:59 صبح
وہ مئےِ تند ہوں میں جس سے جگر چِر جائے
میں وہ دریا ہوں جو اپنا ہی گہر لے ڈوبے
وہ صنم میں نے تراشے کہ خدا چونک اٹھے
میں وہ آزر ہوں جسے مشقِ ہنر لے ڈوبے
لاجواب۔ بہت ہی شاندار۔۔
(y)
سلمان دانش جی — مارچ 23، 2016 10:23 صبح
خوب ہے صاحب!!
قرۃالعین اعوان — مارچ 23، 2016 12:23 شام
ابنِ آدم کی تو بو تک نہ رہی گلیوں میں
میری بستی کو خداؤں کے یہ گھر لے ڈوبے
نہایت عمدہ!!
راحیل فاروق — مارچ 23، 2016 6:16 شام
شکریہ، بھائی۔
ابنِ آدم کی تو بو تک نہ رہی گلیوں میں
میری بستی کو خداؤں کے یہ گھر لے ڈوبے
نہایت عمدہ!!
یہ شعر مجھے بھی اچھا لگتا ہے۔ پسند فرمانے پر شکرگزار ہوں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%88%DB%81-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE-%D8%AC%D8%B3%DB%92-%D8%AE%D9%88%D9%86%D9%90-%D8%AC%DA%AF%D8%B1-%D9%84%DB%92-%DA%88%D9%88%D8%A8%DB%92.88782/