گفتگو سمیٹ دی گئی ہے جو اس بات پر ختم ہوئی کہ ایسی بعض صورتیں ماضی میں دستیاب ہیں مگر بہت شاذ ہیں سو ان سے گریز بہتر ہے حالانکہ میں نے یہ پڑھ رکھا تھا کہ
رشید حسن خان نے لکھا ہے کہ :
*”اعلان یا اخفا سے متعلق اصل معیار ذوقِ سلیم ہوگا۔ مصرعے کی روانی اور اس کا آہنگ اگر اخفا کا متقاضی ہو تو وہی صحیح ہے۔ اور اگر اعلان کا طالب ہو تو وہی درست ہے۔ لفظ مفرد ہو یا مرکب، کچھ فرق نہیں پڑتا“*
[زبان اور قواعد - صفحہ 288]
اور پھر نصیر ترابی صاحب کا یہ کلیہ کہ
”فارسی و عربی میں چونکہ "ن" بغیر نقطے کے مستعمل نہیں، یعنی "نون غُنّہ" نہیں ہوتا، لہٰذا بعض اساتذہ کے نزدیک اضافت کے ساتھ نون کا اعلان بھی جائز سمجھا گیا ہے. مثلاً غالب کا یہ مصرع
*؏" نافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے"*
شعریات ۔ صفحہ نمبر 167 - پیرا ماؤنٹ پبلشنگ انٹر پرائز، کراچی، پاکستان]
اور پھر اسی تحریر سے ایک مزید ٹکڑا
(شاعر کے لیے جہاں تک ممکن ہو، بغیر ترکیب نون غُنّہ کا اعلان کرے. گو اعلان نہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں، لیکن فصاحت اعلان ہی میں ہے“*)
[دورِ شاعری ۔ صفحہ نمبر 158 - ناشر : سید حسن اکمال، سیکرٹری "انجمن محافظِ اردو" لکھنؤ]
اب بتائیں میرے لیے کیا حکم ہے کیا میں مسلک شافعی درست ہونے کے با وجود مسلک حنفی ہے اختیار کروں