محمداحمد — دسمبر 19، 2008 8:24 صبح
کیا خوبصورت نظم ہے احمد صاحب، بہت خوب، لا جواب!
بہت نوازش وارث بھائی،
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
محمداحمد — دسمبر 19، 2008 8:27 صبح
اچھی نظم ہے، اور عام انسان کا عام رویہ بہت اچھی طرح بیان کرتی ہے.
’نہ ‘ اور ’کہ ‘کے اس استعمال کے بارے میں وارث اور میں عدم اتفاق کے لئے متفق ہیں.
بہت شکریہ اعجاز عبید صاحب کہ آپ نے اس نظم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس معمولی کاوش کو سراہا۔
اور جب آپ اور وارث بھائی اس معاملے میں متفق ہو جائیںگے تو مجھے بھی اتفاق کرنے میں آسانی ہوگی۔

بے حد ممنون ہوں۔
مغزل — دسمبر 19، 2008 12:07 شام
احمد مزید تازہ کلام بھی پیش کرو نا ۔۔ شنید ہے کہ تازہ غزل کہی ہے
محمداحمد — دسمبر 20، 2008 10:40 صبح
سبحان اللہ محمد احمد صاحب۔
انسانی رویوں خصوصاً اہلیان کراچی کی بے حسی پر بہت خوب کلام کہا ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
فہد بھائی،
تبصرہ اور پزیرائی کے لئے بے حد ممنون ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ اس ملک کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا دے اور سب پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے درد کا درماں بھی۔
محمد بلال اعظم — جنوری 27، 2013 1:33 شام
احمد بھائی
سبحان اللہ
آپ تو روز نئے دھماکے کرتے ہیں اپنی شاعری کے۔
نیرنگ خیال — جنوری 27، 2013 2:29 شام
کیا خوب نظم ہے
محمداحمد بھائی۔ بہت ساری داد قبول فرمائیں۔ زبردست۔۔۔
ہمارے رویوں کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔
جاسمن — مارچ 7، 2016 6:08 صبح
اجتماعی بے حسی جس طرح بڑھ رہی ہے۔ یہ نظم اس کی بالکل درست عکاسی کرتی ہے۔شاعر لوگوں کے دکھ بھی محسوس کرتا ہے اور اِن دکھوں پہ عام لوگوں کے بے حس روّیوں پہ بہت غمگین ہے۔ اور یہی غم اِس نظم میں قاری کو محسوس ہو رہا ہے۔
اللہ ہمیں اپنے جیسے انسانوں کا دُکھ محسوس کرنے اور دوسروں کو آسانیاں دینے کی توفیق دے۔آمین!
ابن رضا — مارچ 7، 2016 3:10 شام
واہ کتنے بےحس نکلے آپ احمد بھائی۔ بہت لاجواب بے حسی ہے


بہت خوب