محمداحمد — جولائی 23، 2014 7:24 صبح
دوکان رمضان
(تضمین)
تحائف شو میں رمضاں کے، بلا تمہید ہی برسے
بڑھا کر ہاتھ جھپٹو، مانگ لو کچھ التجا کرکے
"لیاقت" کا تو کوئی کام ہی کیا شو میں "عامر" کے
کوئز شو ہے مگر تحفہ ملے گا رقص بھی کرکے
یہ دل میں ٹھان لو کہ لے مریں گے اک نہ اک بائک
"فہد" کے شو سے مل جائے، بھلے "جمشید "کے در سے
"تلو" کا ایک ڈبہ کار تک لے جا بھی سکتا ہے
اگر مکھن نہیں تو گھی لگاؤ خوب بھر بھر کے
اگر بائک نہیں تو ایک دو کُرتے ہی مل جائیں
ذرا دستِ سوال اونچا اُٹھاؤ ، دستِ بر تر سے
تقاضہ وقت کا سمجھو کہ عزت آنی جانی ہے
بچا کر عزتِ نفس اب کوئی کیوں ہر گھڑی ترسے
تجارت کی زکواۃ اب دے رہے ہیں تاجر و زرگر
رکھو پاؤں میں اینکر کے ،اُتارو پگڑیاں سر سے
میں کُڑھتا ہوں کہ میرے لوگ ایسے ہو گئے کیونکر
"حمیّت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے"
محمد احمدؔ
منیب احمد فاتح — جولائی 23، 2014 1:46 شام
مزہ آ گیا پڑھ کے، نہایت حسب حال۔۔ لیاقت کا تو کوئی کام ہی کیا شو میں عامر کے، ہاہاہا!!
محمداحمد — جولائی 24، 2014 6:38 صبح
مزہ آ گیا پڑھ کے، نہایت حسب حال۔۔ لیاقت کا تو کوئی کام ہی کیا شو میں عامر کے، ہاہاہا!!
بہت شکریہ منیب بھائی ۔۔۔۔!
بس اتنے دنوں سے یہ پروگرامز دیکھ دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس طرح اپنے آپ کو گرا کر چیزیں مانگنے میں ذرا بھی شرم نہیں آتی انہیں۔ پھر یہ بھی نہیں کہ کوئی غریب غرباء لوگ ہوں۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ ہوتے ہیں جو وہاں آکر گڑگڑاتے ہیں اور التجائیں شروع کر دیتے ہیں۔
بہت حیرت ہوتی ہے۔
نیرنگ خیال — جولائی 24، 2014 10:42 صبح
اگر بائک نہیں تو ایک دو کُرتے ہی مل جائیں
ذرا دستِ سوال اونچا اُٹھاؤ ، دستِ بر تر سے
تقاضہ وقت کا سمجھو کہ عزت آنی جانی ہے
بچا کر عزتِ نفس اب کوئی کیوں ہر گھڑی ترسے
ہاہاہاہاااا۔۔۔۔ بہترین۔۔۔ احمد بھائی۔۔ شاندار۔۔۔
اوشو — جولائی 24، 2014 10:54 صبح
بہت اعلیٰ
محمداحمد جی
جیتے رہیں
محمداحمد — جولائی 24، 2014 11:21 صبح
اگر بائک نہیں تو ایک دو کُرتے ہی مل جائیں
ذرا دستِ سوال اونچا اُٹھاؤ ، دستِ بر تر سے
تقاضہ وقت کا سمجھو کہ عزت آنی جانی ہے
بچا کر عزتِ نفس اب کوئی کیوں ہر گھڑی ترسے
ہاہاہاہاااا۔۔۔۔ بہترین۔۔۔ احمد بھائی۔۔ شاندار۔۔۔
آداب عرض ہے بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ملائکہ — جولائی 24، 2014 11:23 صبح
بہت زبردست لکھی ہے

محمداحمد — جولائی 24، 2014 11:28 صبح
بہت اعلیٰ
محمداحمد جی
جیتے رہیں
بہت شکریہ اوشو بھائی
خوش رہیے۔

نجمان — جولائی 24، 2014 12:14 شام
حمیت نام تھا جس کا۔۔۔۔وہ تو واقعی چلی گئی ، افسوس
محمداحمد — جولائی 24، 2014 4:48 شام
بہت زبردست لکھی ہے
بہت شکریہ ملائکہ

خوش رہیے۔

ابن رضا — جولائی 24، 2014 4:58 شام
لاجواب! بہت ہی خوب کہا جو کہا
محمداحمد — جولائی 24، 2014 5:07 شام
حمیت نام تھا جس کا۔۔۔۔وہ تو واقعی چلی گئی ، افسوس
واقعی ۔۔۔۔!
یہ محفل میں آپ کا پہلا مراسلہ ہے، سو آپ کو یہیں پر خوش آمدید کہے دیتے ہیں۔

جب اگلی بار محفل میں آنا ہو تو محفل میں اپنا تعارف بھی کروائیں اور جب جب فرصت ہو محفل میں آتی رہیے۔
محمداحمد — جولائی 24، 2014 5:41 شام
لاجواب! بہت ہی خوب کہا جو کہا
بہت شکریہ ابنِ رضا بھائی ۔

محمد تابش صدیقی — جنوری 29، 2016 7:23 شام
دوکان رمضان
(تضمین)
تحائف شو میں رمضاں کے، بلا تمہید ہی برسے
بڑھا کر ہاتھ جھپٹو، مانگ لو کچھ التجا کرکے
"لیاقت" کا تو کوئی کام ہی کیا شو میں "عامر" کے
کوئز شو ہے مگر تحفہ ملے گا رقص بھی کرکے
یہ دل میں ٹھان لو کہ لے مریں گے اک نہ اک بائک
"فہد" کے شو سے مل جائے، بھلے "جمشید "کے در سے
"تلو" کا ایک ڈبہ کار تک لے جا بھی سکتا ہے
اگر مکھن نہیں تو گھی لگاؤ خوب بھر بھر کے
اگر بائک نہیں تو ایک دو کُرتے ہی مل جائیں
ذرا دستِ سوال اونچا اُٹھاؤ ، دستِ بر تر سے
تقاضہ وقت کا سمجھو کہ عزت آنی جانی ہے
بچا کر عزتِ نفس اب کوئی کیوں ہر گھڑی ترسے
تجارت کی زکواۃ اب دے رہے ہیں تاجر و زرگر
رکھو پاؤں میں اینکر کے ،اُتارو پگڑیاں سر سے
میں کُڑھتا ہوں کہ میرے لوگ ایسے ہو گئے کیونکر
"حمیّت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے"
محمد احمدؔ
واہ واہ احمد بھائی، کیا منظر کشی کی ہے۔
مزا آ گیا۔
سارہ خان — جنوری 30، 2016 6:34 صبح
واہ واہ لا جواب ۔۔۔ عنوان بھی زبردست دکان رمضان ۔

محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 30، 2016 6:49 صبح
مزے دار مزے دار
کامران عاشر — جنوری 30، 2016 7:12 صبح
بہت خوب ، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بڑے نامور علما ایسے پروگرامز میں شرکت کرتے ہیں اور کھیل تماشہ دیکھ کے محظوظ ہوتے ہیں
جاسمن — فروری 22، 2016 3:25 شام
بہت خوب! زبر دست تصویر کشی کی ہے۔ اور کیا خوب تجزیہ ہے۔
یوسف سلطان — فروری 22، 2016 3:46 شام
بہت خوب !
محمد تابش صدیقی — جون 23، 2016 9:35 صبح
آج اچانک ہی یہ نظم یاد آ گئی. اور ہمارا میڈیا اس نظم کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی کوشش کرتا رہے گا.