جی ہاں وہاں سے ایک دو بار ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھے ایسا لگا تھا کہ اس میں سے الفاِ کو تلاش کرنا مشکل ہو گا دوسرا یہ کہ ڈاؤن لوڈ بھی نہیں ہو پا رہی تھی ۔ شاید میرے 'سلو' انٹرنیٹ کنکشن کی وجہ سے ۔
غزل ظہیر بھائی ماشاء اللہ اچھی ہے سرسری سی پڑھی ہے دراصل میرا مطالعہ بالکل بھی نہیں ہے سو مشکل تراکیب وغیرہ سے میں کتراتا ہوں اور جب تک ہر شعر مکمل طرح سے سمجھ نہ جاؤں تبصرہ بھی نہیں کرتا ۔ لیکن الحمد للہ میں آپ اور دوسرے سب دوستوں کی غزلیں وغیرہ پڑھتا ہوں یہاں تک کہ راحیل فاروق بھائی کے ذاتی بلاگ پر بھی چلا جاتا ہوں ۔ نعوذ باللہ پہلے ہی مصرع میں مجھے 'اتار' کے بعد 'کر' یا 'کے' جیسے لفظ کی کمی محسوس ہو رہی ہے ۔
یہ لغات ایک دفعہ ڈاؤنلوڈ ہوجائیں تو پھر آف لائن استعمال کرنا بالکل مشکل نہیں ۔
مطالعہ کے بارے میں آپ نے بالکل درست کہا ۔ اس کے بغیر تو گاڑی نہیں چلتی۔ میری ناقص رائے میں تو کلاسیک کا مطالعہ کئے بغیر سنجیدہ ادب تخلیق کرنے کا تصور ہی نہیں جاسکتا ۔ بالخصوص شاعر کے لئے زبان کا آنا ازحد ضروری ہے ۔ اور زبان صرف ادب عالیہ کے مطالعہ سے آتی ہے۔
جہاں تک پہلے مصرع کا تعلق ہے یہ لسانی لحاظ سے بالکل فصیح ہے۔ اس میں ایک روز مرہ کا استعمال ہے ۔
عظیم بھائی آپ نے شاید اس طرح کے جملے اہلِ زبان سےسنے یا کہیں پڑھے ہوں: جیسے ہی اُن کی آمد کی خبر آئی میں تو سب کچھ چھوڑ فوراً ملنے چلا گیا ۔
آپ کی علالت کا سن کر اماں جان فوراً مصلیٰ بچھا نماز پر کھڑی ہوگئیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔