سید عاطف علی — مارچ 26، 2014 6:01 صبح
یہ کوئی اسپیشل زحاف لے کر آئے ہیں ابن رضا بھائی۔
غالباا ابن رضا بھائی کی مراد اس موزونیت سے تھی۔
شکریہ اور بہت آداب جنابِ جَ نِ من ۔۔۔اگر یہی مراد واقعی تھی تو پھر "جَ نِ من" سے بہتر ہے کہ ۔جنابِ دلِ من ۔ کہہ لیا جائے۔

ثامر شعور — مارچ 27، 2014 2:29 شام
بہت عمدہ غزل ہے عاطف صاحب۔ ہر شعر لاجواب ہے۔
اسکندر و پرویز تو ویرانے میں گم تھے
پر تربتِ درویش پہ میلے کا سماں تھا
آپ کے اس شعر سے ٖفاتح بھائی کا یہ شعر یاد آگیا
عالم ہے ہُو کا قبرِ سکندر کے آس پاس
مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس
سید عاطف علی — مارچ 27، 2014 3:57 شام
بہت شکریہ اور آداب و سپاس
ثامر شعور بھائی۔۔ پذیرائی پر ممنون ہوں۔۔
فاتح صاحب کے شعر کے کیا کہنے واہ ۔اور آپ نے بھی خوب تماثل ڈھونڈا۔

نوید رزاق بٹ — مارچ 31، 2014 9:21 شام
اسکندر و پرویز تو ویرانے میں گم تھے
پر تربتِ درویش پہ میلے کا سماں تھا
سبحان اللہ، عمدہ کلام۔
سید عاطف علی — مارچ 31، 2014 9:35 شام
شکریہ اور آداب ۔بٹ صاحب

سید شہزاد ناصر — اپریل 7، 2014 11:14 صبح
بہت خوب

تفصیلی تبصرہ ذرا فرصت کا متقاضی ہے
شام کو ذرا ہاتھ کھول کر تبصرہ کروں گا
مطلب آستینیں چڑھا کر

سید شہزاد ناصر — اپریل 7، 2014 5:11 شام
کسی طور سے بھی پہلی کاوش معلوم نہیں ہوتی
وسعت الفاظ کا یہ عالم
خداکی پناہ
تلفیظ کے کیا ہی کہنے
لطف آ گیا پڑھ کر
ایک چیز کٹھک گئی
ممکن ہے میری کم فہمی ہو
نومیدئ عالم ہوئی مہمیز جنوں کو
اوپر سے مہر بان کفِ کوزہ گراں تھا
سرخ کشیدہ لفظ یقیناََ پیمانہِ اوزان کے مطابق ہو گا
مگر اس ایک لفظ نے غزل کا حسن متاثر کیا
امید ہے کہ یہ چھوٹی سی تنقید ناگوار نہیں گزرے گی
اللہ کرے زور قلم زیادہ
سید عاطف علی — اپریل 7، 2014 7:11 شام
شہزاد بھائی ۔آپ کی پرخلوص پذیرائی پر میں ازحد ممنون ہوں جو میری اس کاوش کو بخشی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو خون سیروں غور و فکر میں جلا ہے وہ آپ احباب جیسے فیاض قدردانوں سے منوں بڑھ گیاہے۔جہاں تک آپ کی نشان دہی کا تعلق ہے تو پہلے میں نے ۔۔۔اوپر سے۔۔۔ کی جگہ ۔۔۔اور اس پہ۔۔۔ کا استعمال کیا تھا ۔۔۔ لیکن پھر خیال آیا ۔۔۔اوپر سے ۔۔۔ کر دینے کا کیونکہ اوپر سے کا استعمال ذرا محاوراتی اسلوب محل کے مطابق لگا ۔۔۔ یعنی کہ ایک تو جنوں کو اس دنیائے دوں سے نومیدی نے ہوا دی ۔۔۔ اور ۔۔۔اوپر سے۔۔۔ رہی سہی کسر کوزہ گروں کی صحبت اور مہر بانیوں نے پوری کردی۔۔۔
ایک مرتبہ پھر بہت آداب و امتنان۔
فاتح — اپریل 19، 2014 1:33 شام
واہ واہ خوبصورت غزل ہے
سید عاطف علی — اپریل 20، 2014 7:09 صبح
آپ کی پذیرائی ہمارا سرمایہ ہے۔بہت شکریہ و آداب فاتح بھائی-