پھر ایک غزل. ”نیم بسمل چھوڑ کر جاتے ہو تم افسوس ہے“

ابوشامل — اگست 30، 2012 8:39 صبح
شکریہ جناب۔ بزرگوں کی رائے پڑھنے کا ایک الگ ہی مزا ہوتا ہے۔ :)
یہ ”بزرگ“ آپ نے مذاقاً کہا ہے نا؟ :)
محمد بلال اعظم — اگست 30، 2012 8:54 صبح
آہا
لاجواب
بہت خوب
مزمل شیخ بسمل — اگست 30، 2012 9:42 صبح
یہ ”بزرگ“ آپ نے مذاقاً کہا ہے نا؟ :)
ارے نہیں حضرت. بزرگوں سے مذاق کرنے کی جرات کہاں ہے مجھ ناتواں میں. :)
مزمل شیخ بسمل — اگست 30، 2012 9:43 صبح
آہا
لاجواب
بہت خوب

شکرن بلال. :)
ابوشامل — اگست 30، 2012 10:23 صبح
ارے نہیں حضرت. بزرگوں سے مذاق کرنے کی جرات کہاں ہے مجھ ناتواں میں. :)
ہاہاہا۔۔۔ لاجواب کر دیا
سید ذیشان — اگست 30، 2012 5:32 شام
اچھی غزل ہے مزمل۔ داد قبول کیجئے!
عاطف بٹ — اگست 30، 2012 5:49 شام
بہت خوب
مزمل شیخ بسمل — اگست 30، 2012 6:35 شام
اچھی غزل ہے مزمل۔ داد قبول کیجئے!
بہت شکریہ بڑے بھائی۔ :)

شکریہ حضور۔ :)
مزمل شیخ بسمل — اگست 30، 2012 6:38 شام
بہت شکریہ استاد شاکرالقادری صاحب کا پسندیدگی کے لئے۔ :)
شاکرالقادری — اگست 30، 2012 7:06 شام
ارے نہیں حضرت. بزرگوں سے مذاق کرنے کی جرات کہاں ہے مجھ ناتواں میں. :)
بزرگوں میں بھی ایک بچہ پوشیدہ ہوتا ہے اور مجھے تو اب بھی کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ کوئی بزرگ، جہاندیدہ، گھاگ قسم کا شاعر یہاں ایک نوجوان کا اوتار لگائے ہم سب بوڑھوں سے مذاق کر رہا ہے بچہ بن کر :)
مزمل شیخ بسمل — اگست 30، 2012 7:17 شام
بزرگوں میں بھی ایک بچہ پوشیدہ ہوتا ہے اور مجھے تو اب بھی کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ کوئی بزرگ، جہاندیدہ، گھاگ قسم کا شاعر یہاں ایک نوجوان کا اوتار لگائے ہم سب بوڑھوں سے مذاق کر رہا ہے بچہ بن کر :)

استاد جی یہ تو آپ نے مجھے اپنی اوقات سے بھی بڑھا دیا اب۔ یہ حقیقت ہے کہ عام طور پر جب کسی محفل میں شرکت ہو تو کلاسیکی شاعر ہونے کا مجھ ناچیز کو خطاب ملتا ہے۔ لیکن میں اسے کوئی نام دینے سے قاصر ہوں کے صرف تخیل کے یلغار کو لفظوں میں پیش کر دیتا ہوں۔ لیکن بات تو یہی ہے کہ کمسن، نادان، اور نا تجربہ کار شاعر ہوں۔:)
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 16، 2012 11:40 صبح
فاتح
الف عین — ستمبر 17، 2012 3:40 صبح
اب دیکھ رہا ہوں، اچھی غزل ہے بسمل۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 17، 2012 8:18 صبح
اب دیکھ رہا ہوں، اچھی غزل ہے بسمل۔

بہت شکریہ استاد جی۔ آپ کا پسند کرنا باعثِ مسرت ہے مجھ ناقص العقل کے لئے۔ :)
طارق شاہ — ستمبر 18، 2012 3:21 صبح
آئی جب بلبل چمن پر نغمہ گانے کے لئے
دستِ برگِ گل اٹھے تالی بجانے کے لئے
ابروئے خم دار انکے خوں بہانے کے لئے
اور دزدیدہ نظر ہے دل چرانے کے لئے
آنکھ دی تو دی مجھے آنسو بہانے کے لئے
یا الٰہی دل دیا تو غم اٹھانے کے لئے
اب جمے گا رنگ اب گل پر بہار آجائے گی
آگئی بلبل چمن پر چہچہانے کے لئے
میں سمجھتا ہوں کے یہ بھی اک جفا کرتے ہو تم
غیر سے ملتے ہو میرا دل دکھانے کے لئے
نیم بسمل چھوڑ کر جاتے ہو تم افسوس ہے
سخت جاں کو کم سنی کے دن گنانے کے لئے
ہے پسینہ گل پے اے بلبل تری فریاد سے
کہتے ہیں اہلِ چمن شبنم چھپانے کے لئے
انکے کشتے بن کے بلبل چونچ میں لے لینگے گل
تربتوں پر گل وہ لائیں تو چڑھانے کے لئے
شام ہوتی ہے چلو گھر جاؤ اٹھو رو چکے
قبر پر کیوں آگئے ٹسوے بہانے کے لئے
بار خاموشی کا بسمؔل سے کب اٹھے گا بتوں
ڈھونڈلو مزدور کوئی بوجھ اٹھانے کے لئے

بسمل صاحب! بستگی میں تعقید کا خیال رکھیں، کوشش کریں کہ جملوں میں الفاظ کی ترتیب روزمرہ کی طرح ہی ہوں !
چند اشعار پر اپنی رائے دے رہا ہوں، دیکھ لیجئے گا
۔۔۔۔۔۔۔
آئی جب بلبل چمن پر نغمہ گانے کے لئے
دستِ برگِ گل اٹھے تالی بجانے کے لئے
کو یوں کرنا درست ہوگا :
جب چمن میں آئی بلبل نغمے گانے کے لئے
دستِ برگ وگُل اُٹھے تالی بجانے کے لئے
یوں اس لئے کہ "چمن پرنغمے گانا "! مفہومِ جُداگانہ دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابروئے خم دار انکے خوں بہانے کے لئے
اور دزدیدہ نظر ہے دل چرانے کے لئے
کچھ اس طرح بہتر ہوگا :
تھی لڑی گیسو کی رُخ پر ، دل لُبھانے کے لئے
اور غضب دُزدیدہ نظریں، دل چُرانے کے لئے
(خم دار ابروئیں بمثلِ کمان ہیں۔ ازخود تیر نہیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھ دی تو دی مجھے آنسو بہانے کے لئے
یا الٰہی دل دیا تو غم اٹھانے کے لئے
کچھ ایسا خوب ہوگا کہ:
دیں مجھے آنکھیں فقط آنسو بہانے کے لئے!
اورمِلا رب سے ہے دل بھی، غم اٹھانے کے لئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کے یہ بھی اک جفا کرتے ہو تم
غیر سے ملتے ہو میرا دل دکھانے کے لئے
یوں درست ہوگا کہ:
میں سمجھتا ہوں! نہیں الفت بجز میرے، مگر
غیر سے مِلتے ہو تم مجھ کو ستانے کے لئے
۔۔۔۔۔
سرسری دیکھنے سے جو باتیں یا صورت ذہن میں آئیں وہ لکھ دیں ہیں ، آپ غور کرینگے تو شاید اچھا لکھ لینگے
داد میری آپ کے اس خوب خیالی پر، بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 26، 2014 12:32 صبح
دھاگے کے عنوان اور آپ کے تخلص سے ایک شعر یاد آیا
نیم بسمل چھوڑ کر جاتا ہے اے قاتل کہاں
کام پورا کر کہ باقی اک رگِ جاں اور ہے
پتہ نہیں کس کا ہے، جاننے میں کچھ مدد کیجئے گا؟
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 26، 2014 8:07 صبح
دھاگے کے عنوان اور آپ کے تخلص سے ایک شعر یاد آیا
نیم بسمل چھوڑ کر جاتا ہے اے قاتل کہاں
کام پورا کر کہ باقی اک رگِ جاں اور ہے
پتہ نہیں کس کا ہے، جاننے میں کچھ مدد کیجئے گا؟

یہ شعر میں نے بھی سن تو ہے البتہ شاعر کا نام میرے علم میں بھی نہیں ہے۔ افسوس!!
سید عاطف علی — اکتوبر 26، 2014 8:57 صبح
آج نظر پڑی اس غزل پر ۔ بہت خوب مزمل بھائی۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 26، 2014 9:47 صبح
یہ شعر میں نے بھی سن تو ہے البتہ شاعر کا نام میرے علم میں بھی نہیں ہے۔ افسوس!!
کوئی بات نہیں، تلاش کرتے ہیں، توجہ کے لئے ممنون ہوں۔
عینی مروت — اکتوبر 26، 2014 4:49 شام

بار خاموشی کا بسمؔل سے کب اٹھے گا بتوں
ڈھونڈلو مزدور کوئی بوجھ اٹھانے کے لئے
وااااااہ۔۔۔لاجواب شعر
پوری غزل شاندار ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%E2%80%9D%D9%86%DB%8C%D9%85-%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91-%DA%A9%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88-%D8%AA%D9%85-%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3-%DB%81%DB%92%E2%80%9C.53871/page-2