چار اشعار سخن ورانِ محفل کی نذر

الف عین — جون 7، 2008 5:43 شام
زہرا! یوں ہی ہم سرشاری میں رہتے ہیں، تم تو بھئ بے ہوش ہی کرنے پر تلی ہو!!!
زھرا علوی — جون 7، 2008 6:01 شام
اسی لیے کہ میں جانتی ہوں آپ بہت ہوشمند ہیں۔۔۔۔:):):):)
مغزل — اگست 7، 2008 6:36 صبح
بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں

کیا بات ہے بابا جانی۔۔ مزا آگیا ۔۔ کھیتوں کی بل کھاتی پگڈنڈیوں کی طرح بحر۔۔۔
اور اس پر سلاست ، بلاغت و فصاحت ۔۔۔ شعری قالب میں جوں کوزہ میں سمندر
مجھے امید ہے کہ میرے تاخیر سے آنے کو صرفِ نظر کیجئے گا۔
داد دینے کو سزاوار نہیں کہ ۔۔ میری کم علمی اور بے مائیگی آڑے آتی ہے۔
سو صمیمِ قلب سے دعا کہ مالک آپ کو باصحت و عافیت عمرِ خضر عطا فرمائے
آپ کو تازہ دم رکھے کہ آپ ایسی بہت نابغہ روزگار ہستیاں ہم سے اٹھ چکی ہیں
نتیجے میں نئی نسل کو خلا کا سامنا ہے۔
آپ سے گزارش کہ اپنے دیگر کلام سے مستفیذ فرمائیں۔
والسلام
مغزل — جون 6، 2009 10:28 صبح
بابا جانی میں یہ مراسلہ آج پھر دیکھے کو آیا ہوں ، کہ کہیں ’’ انتظار میں سوکھ تو نہیں گیا ‘‘
وہ کیا ہے افضل خان (کبیر والا ، پاکستان) کا شعر کہ :
یہ پتھر ہے آدمی تھا کبھی
اس کو کہتے ہیں انتظار میاں
آصف شفیع — جون 7، 2009 4:57 صبح
بہت اچھے اشعار ہیں۔ شکریہ شیئر کرنے کیلیے۔
عمران شناور — جون 8، 2009 5:37 صبح
واہ اعجاز صاحب۔ بہت خوب اشعار ہیں۔ شکریہ
الف عین — جون 8، 2009 8:05 صبح
شکریہ آصف اور عمران
انیس فاروقی — جون 8، 2009 2:18 شام
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
!!

بہت ہی عمدہ کلام پیش کیا، داد قبول ہو، خاص کر یہ مصرعہ پڑھ کر نہ جانے کیوں‌اپنے حکمراں یاد آ گئے۔
مغزل — جون 9، 2009 7:05 صبح
حکمران تو ہر ایسے موقع پر یاد آتے ہی ہیں‌، ان سے مفر تو ہے نہیں
جاسمن — دسمبر 22، 2015 11:13 صبح
بہت پیارے اشعار ہیں۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 3:01 شام
بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں

بہت خوبصورت !!! اعجاز بھائی ! کیا آج کل شعر گوئی ترک کی ہوئی ہے ؟ کچھ تازہ عنایت کیجئے ۔
الف عین — دسمبر 22، 2015 7:44 شام
تقریباً ترک ہی ہو گئی ہے تین چار سال سے تو ایک شعر بھی نہیں کہا گیا۔ غالباً یہی آخری اشعار تھے!
نمرہ — جولائی 5، 2019 6:56 شام
یہ زمین ادھار لی ہے شعر کہنے کے لیے، بشکریہ استاد محترم
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 5، 2019 7:03 شام
سبحان اللہ ۔
استادم محترم بہت اعلی اشعار تخلیق فرمائے۔
بافقیہ — جولائی 17، 2019 9:04 صبح
تقریباً ترک ہی ہو گئی ہے تین چار سال سے تو ایک شعر بھی نہیں کہا گیا۔ غالباً یہی آخری اشعار تھے!
ہائے محرومی۔:cry:
سید احسان — جولائی 17، 2019 9:39 صبح
جناب محترم۔
آپ کے اشعار پڑھنے سے بھی علم کی فراوانی میسر آتی ہے ۔۔ بہت مزا آیا اشعار پڑھ کر۔۔
سیما علی — اپریل 16، 2024 6:50 شام
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں
استاد محترم !|!!!
پروردگار آپکو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔۔آمین
کسقدر خوبصورت شعر ہے ۔بے حد کمال !!ہماری ڈھیروں داد و تحسین آپکی خدمت میں ۔۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ آپکو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے ۔آمین۔
الف عین — اپریل 16، 2024 10:44 شام
استاد محترم !|!!!
پروردگار آپکو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔۔آمین
کسقدر خوبصورت شعر ہے ۔بے حد کمال !!ہماری ڈھیروں داد و تحسین آپکی خدمت میں ۔۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ آپکو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے ۔آمین۔
پرانے پرانے دھاگے کھنگال رہی ہیں سیما علی
مزے کی بات یہ ہے کہ جو شعر اکثر احباب کو پسند آیا، اس میں ٹائپو تھی! اصل مصرع میں "لیکن" نہیں،" کب کی" ہے، جس کی تصحیح بعد میں کی ہے لیکن بوجوہ تدوین نہیں کی اصل مراسلے میں
مقبول — اپریل 17، 2024 1:28 صبح
کل شام ایک مصرع یوں ہی ہو گیا
مگر ہم ہیں کہ غالب کی طرف داری میں رہتے ہیں۔
اس کا استعمال تو کسی شعر میں نہیں ہو سکا۔ لیکن رات اور آج صبح یہ چار اشعار وارد ہو گئے ہیں:
ہزاروں خواب ہیں جو دن کی ہشیاری میں رہتے ہیں
مگر ہم ہیں کہ راتوں کی طرف داری میں رہتے ہیں
بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں
یوں یہ مسلسل غزل کہی جا سکتی ہے کہ ہر شعر قومِ مسلم کے المیے کی نشان دہی کرتا ہے!!
سر ، میں بہت زیادہ داد دینا چاہتا ہوں مگر میرا لیول اتنا نہیں کہ آپ کو داد بھی دے سکوں
سیما علی — اپریل 17، 2024 5:14 صبح
مزے کی بات یہ ہے کہ جو شعر اکثر احباب کو پسند آیا، اس میں ٹائپو تھی!
سر ہمیں تو آپ نظر آتے ہیں اپنے ہر ہر لفظ میں دکھائی دتیت ہیں ۔۔کیسی ٹائیپو ۔۔اور کہاں ہم ۔۔
آج ہم نے اپنی اماں کی بولی میں آپ سے بات کی ہے اماں بہت خوبصورت پوربی بولتی تھیں ۔۔آپ سے انسیت ہمیں محمود آباد اور علی گڑھ یونیورسٹی کی وجہ سے بہت زیادہ ہے ۔۔سلامت رہیے !آمین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%D8%AE%D9%86-%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B0%D8%B1.12824/page-2