کبھی جو ہم فراغت میں (غزل)

نوشین فاطمہ عبدالحق — جولائی 31، 2015 12:55 شام
قافیہ نہیں تو غزل نہیں کیونکہ قافیہ غزل کے لیے لازم ہے۔ ان ابیات کے قوافی میں روی اگرچہ "ے" ہے تاہم ماقبل حروف کی حرکات بھی قابلِ اعتناء ہے۔ جیسے سریلے میں ے ساکن ہے اور ر مکسور ہے۔ اس کے ساتھ اسی قبیل کے لفظ قافیہ کیے جائیں گے جیسے قبیلے۔ پتیلے۔ ڈھیلے۔ ٹیلے۔ حیلے۔ سجیلے جبکہ اکیلے کاف مفتوح ہے۔ اسی طرح جھمیلے جھولے وغیرہ یہاں قافیہ نہیں ہونگے۔ شاید استاد جی کا اشارہ اس طرف ہے۔
روی کا اور ماقبلہ کی حرکت کا اتحاد ضروری ہے ۔
یہاں تمام قوافی میں روی "ے" ما قبلہ مکسور ۔
حتی کہ ل سے پچھلا حرف بھی ہر قافیے میں ساکن ہے ۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو غلطی یہ نہیں ، کچھ اور ہے ۔
ابن رضا — اگست 1، 2015 7:47 صبح
لیکن سر!
"ے" روی ہے تو تمام قوافی میں "ے" سے پہلے "ل" مکسور ہی ہے ۔
سر نہیں سراسر۔۔۔ یعنی مبتدی کہہ لیں۔ شاید مطلع میں کچھ قید شاعرکی اپنی لگائی ہوئی ہوتی ہے۔ تاہم شیخ صاحب یقنا" صراحت سے اشکال دور فرما سکتے ہیں
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2015 8:01 صبح
قوافی درست ہیں۔ لیکن حرف روی ے نہیں بلکہ لام ہے۔ ے حرف وصل کے طور پر آیا ہے۔
یہ اصول ہے کہ جب حرف روی متحرک ہو جائے تو ماقبل کی حرکت کا مطابق ہونا ضروری نہیں۔ تاہم مطابقت مستحسن ضرور ہے۔ یہ اپنے اپنے جمالیاتی ذوق پر منحصر ہے کہ آپ کتنا قید رکھنا "چاہتے" ہیں خود کو۔
اور یہ قادر الکلامی پر منحصر ہے کہ آپ کتنا قید "رکھ سکتے" ہیں خود کو۔
آداب۔
ابن رضا — اگست 1، 2015 8:07 صبح
قوافی درست ہیں۔ لیکن حرف روی ے نہیں بلکہ لام ہے۔ ے حرف وصل کے طور پر آیا ہے۔
یہ اصول ہے کہ جب حرف روی متحرک ہو جائے تو ماقبل کی حرکت کا مطابق ہونا ضروری نہیں۔ تاہم مطابقت مستحسن ضرور ہے۔ یہ اپنے اپنے جمالیاتی ذوق پر منحصر ہے کہ آپ کتنا قید رکھنا "چاہتے" ہیں خود کو۔
اور یہ قادر الکلامی پر منحصر ہے کہ آپ کتنا قید "رکھ سکتے" ہیں خود کو۔
آداب۔
شکریہ شیخ صاحب اب حرفِ روی لام ہے اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ کیا اکیل اور سریل اصلی حالت ہے ؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2015 9:12 صبح
شکریہ شیخ صاحب اب حرفِ روی لام ہے اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ کیا اکیل اور سریل اصلی حالت ہے ؟
جی یہاں ایک بات سمجھ لیجیے۔
کسی بھی غزل کے قوافی میں جو روی ہوتا ہے در حقیقت وہ اس کا لفظی روی نہیں بلکہ غزل کا مجموعی روی ہوتا ہے۔
اکیلا میں اکیل اور سریلا میں سریل کے آگے جو الف ہے در حقیقت وہ روی صرف اپنی غیر ندائی اور مفرد حالت میں ہوسکتا ہے۔ اگر متغیر ہوا تو لام کو روی مانا جائے گا۔ جیسے اکیلا اور عنقا کو قافیہ کریں تو الف روی مانا جائے گا۔کیونکہ عنقا میں الف اصلی ہے۔ اب لازم ہے اگر لفظ متغیر ہوا تو الف نے ویسے ہی ختم ہوجانا ہے۔ جیسے اکیلی اور اکیلے میں۔ اس لیے الف کو بطور اصلی روی نہیں مانا جاسکتا۔
نوشین فاطمہ عبدالحق — اگست 1، 2015 9:26 صبح
قوافی درست ہیں۔ لیکن حرف روی ے نہیں بلکہ لام ہے۔ ے حرف وصل کے طور پر آیا ہے۔
یہ اصول ہے کہ جب حرف روی متحرک ہو جائے تو ماقبل کی حرکت کا مطابق ہونا ضروری نہیں۔ تاہم مطابقت مستحسن ضرور ہے۔ یہ اپنے اپنے جمالیاتی ذوق پر منحصر ہے کہ آپ کتنا قید رکھنا "چاہتے" ہیں خود کو۔
اور یہ قادر الکلامی پر منحصر ہے کہ آپ کتنا قید "رکھ سکتے" ہیں خود کو۔
آداب۔
شکریہ سر !
:)
الف عین — اگست 2، 2015 2:22 صبح
عزیزی مزمل شیخ بسمل۔ پھر بھی ’جھولے‘ قافیے کی وضاحت نہیں ہوتی!!!
میں استادِ فن تو نہیں، اس لئے ماہر عروض جیسے بسمل کی بات ماننی پڑتی ہے، لیکن اصل پوچھو تو ماننے کو جی نہیں چاہتا!
توصیف یوسف مغل — اگست 2، 2015 2:32 صبح
واہ بہت خوب
مزمل شیخ بسمل — اگست 2، 2015 9:34 صبح
عزیزی مزمل شیخ بسمل۔ پھر بھی ’جھولے‘ قافیے کی وضاحت نہیں ہوتی!!!
میں استادِ فن تو نہیں، اس لئے ماہر عروض جیسے بسمل کی بات ماننی پڑتی ہے، لیکن اصل پوچھو تو ماننے کو جی نہیں چاہتا!

استاد جی کی بات درست ہے۔ اس لیے میں عرض کرچکا ہوں کہ اصولی طور پر تو اس قافیہ میں کوئی پریشانی نہیں۔ البتہ مستحسن یہی ہے کہ بچا جائے۔
نمرہ — اگست 2، 2015 10:00 صبح
بہت پیاری تصویر کشی کی ہے آپ نے :):)
نوشین فاطمہ عبدالحق — اگست 2، 2015 7:12 شام
بہت پیاری تصویر کشی کی ہے آپ نے :):)
شکریہ !
:)
اسامہ جمشید — اگست 3، 2015 9:27 صبح
بہت خوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%D9%88-%DB%81%D9%85-%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%BA%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%BA%D8%B2%D9%84.83643/page-2