کس قدر ہے مزا جوانی میں

محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 9:19 شام
مطلع کمزور لگ رہا ہے۔ شاید معنوی تکرار کی وجہ سے؟
’”اے خدیجہ‘‘ والا شعر۔
شعر میں ایک عنصر ’’تاثر‘‘ ہوتا ہے۔
ہم شعر کہتے ہیں اپنی بات کو بنانے سنوارنے سجانے کے لئے۔ سو، ہماری کوشش کا حاصل اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر ہمیں سوچنا پڑے گا۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 9:28 شام
۔۔۔ اسی طرح اگر اردو میں حضرتِ خدیجہ ؓ کو اے خدیجہ کہہ دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ ! کیونکہ اردو میں لفظ ’’یا ‘‘ کا متبادل لفظ ’’اے‘‘ ہی ہے۔۔۔ !​

اصل مسئلہ یہ نہیں ہے، جناب متلاشی صاحب۔ اندازِ تخاطب اور پیرایۂ اظہار کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے تو اس سے شعر سنورتا ہے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 10، 2013 9:33 شام
بہت آداب۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 11، 2013 3:00 صبح
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 11، 2013 3:05 صبح
وہ بات جو نایاب نے کی تھی
اے خدیجہ! ہمیں بتادو کچھ
کیسے تھے مصطفیٰ جوانی میں

انہوں نے کہا:
اس مصرع پر جانے کیوں عجب سا لگا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔؟​

یہی تاثر رات بھر میرے ساتھ چِپکا رہا، کہ کچھ نہ کچھ کمی ہے ضرور! اس سے قطع نظر کہ عربی میں تخاطب کیا ہے، اور اردو میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ میں شاید اِس سے بھی زیادہ عجیب بات کرنے لگا ہوں، مگر یہ وہ بات ہے جو میرے دل سے اٹھتی ہے:۔
’’یار، کوئی اپنی ماں کو ایسے مخاطب کرتا ہے؟‘‘
نایاب
محمد اسامہ سَرسَری
متلاشی
الف عین — مارچ 11، 2013 3:33 صبح
مجھے بھی ’اے خدیجہ‘ میں کوئی مسئلہ محسوس نہیں ہوا۔ البتہ میں کسی بھی تخلیق کو آسی بھائی کی باریک بیں نظروں سے نہیں دیکھتا۔ ویسے بھی وہ نظریں میرے پاس کہاں!!
نایاب — مارچ 11، 2013 5:14 صبح
وہ بات جو نایاب نے کی تھی
انہوں نے کہا:
یہی تاثر رات بھر میرے ساتھ چِپکا رہا، کہ کچھ نہ کچھ کمی ہے ضرور! اس سے قطع نظر کہ عربی میں تخاطب کیا ہے، اور اردو میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ میں شاید اِس سے بھی زیادہ عجیب بات کرنے لگا ہوں، مگر یہ وہ بات ہے جو میرے دل سے اٹھتی ہے:۔
’’یار، کوئی اپنی ماں کو ایسے مخاطب کرتا ہے؟‘‘
نایاب
محمد اسامہ سَرسَری
متلاشی
بلاشبہ استاد استاد ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور علم کی تقسیم کرتے لگی لپٹی نہیں رکھتا ۔
بہت شکریہ استاد محترم ۔ سدا سلامت رہیں آمین
امجد علی راجا — مارچ 11، 2013 6:25 صبح
بہت خوب اسامہ بھیا! خوبصورت کلام ہے، اس اساتذہ کی اصلاح کے بعد تو باکامل کلام ہو جائے گا۔ داد قبول فرمائیئے
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 11، 2013 8:06 صبح
بہت خوب اسامہ بھیا! خوبصورت کلام ہے، اس اساتذہ کی اصلاح کے بعد تو باکامل کلام ہو جائے گا۔ داد قبول فرمائیئے
پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ بھائی!
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 11، 2013 4:13 شام
محترم جناب محمد یعقوب آسی صاحبۙ!​
آنجناب کی تصحیح کے بعد اب یہ حاضرِ خدمت ہے:​
کس قدر ہے مزا جوانی میں
سوچتا ہی رہا جوانی میں
کتنی ہمت کی بات ہے یارو!
رب کی حمد و ثنا جوانی میں

حشر میں یہ سوال بھی ہوگا
کیا کیا تھا بتا جوانی میں
رحم کر مولیٰ! مر رہے ہیں لوگ
ملک میں جابجا جوانی میں
بابا جی! یہ کمال ہوتا ، گر
یاد آتا خدا جوانی میں

داہرو! قصہ بھول مت جانا
فاتحِ سندھ کا جوانی میں
اب بڑھاپے میں سوچتے ہیں یہی
کیا لیا ، کیا دیا جوانی میں
سَرسَری خوب یاد آتا ہے
کیا غزل لکھ گیا جوانی میں
محمد یعقوب آسی — مارچ 11، 2013 7:41 شام
چلئے، کچھ بہتری ہوئی، مزید پھر سہی۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 14، 2013 10:24 شام
ایڈمن صاحب! اس دھاگے کو ”اصلاح سخن“ والے دھاگوں میں شامل کردیں۔
ابن سعید — مارچ 14، 2013 10:37 شام
ایڈمن صاحب! اس دھاگے کو ”اصلاح سخن“ والے دھاگوں میں شامل کردیں۔
اس دھاگے کا پہلا پیغام رپورٹ کر کے یہی بات کہتے تو کوئی بھی متعلقہ مدیر اس پر عمل کر سکتا تھا۔ :)
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 14، 2013 10:49 شام
اس دھاگے کا پہلا پیغام رپورٹ کر کے یہی بات کہتے تو کوئی بھی متعلقہ مدیر اس پر عمل کر سکتا تھا۔ :)

:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D8%B3-%D9%82%D8%AF%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%B2%D8%A7-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA.60899/page-2