کہیں سنیں گے تو بھیدی بھی گھر کے نکلیں گے!

راحیل فاروق — مارچ 16، 2016 10:50 صبح
کسے خبر تھی یہ تیور ہنر کے نکلیں گے
ہمی پہ قرض ہمارے جگر کے نکلیں گے
مچل رہے ہیں جو ارمان ایک مدت سے
ستم ظریف گنہگار کر کے نکلیں گے
گراں ہے نرخ بہت نعرۂ انالحق کا
گلی گلی سے خریدار سر کے نکلیں گے
اصولِ عشق میں گویا یہ بات شامل ہے
اِدھر سے ہو کے دَلِدّر اُدھر کے نکلیں گے
غبارِ خاطر و گردِ سفر کو بیٹھنے دو
ہم انتظار کریں گے، ٹھہر کے نکلیں گے
ہوئے ہیں عشق میں راحیلؔ خانماں برباد
کہیں سنیں گے تو بھیدی بھی گھر کے نکلیں گے
راحیلؔ فاروق
مشمولہ: زار
یاز — مارچ 16، 2016 10:57 صبح
بہت عمدہ راحیل بھائی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 11:30 صبح
بہت خوب راحیل بھائی۔ کیا کہنے۔
گراں ہے نرخ بہت نعرۂ انالحق کا
گلی گلی سے خریدار سر کے نکلیں گے
اُف
غبارِ خاطر و گردِ سفر کو بیٹھنے دو
ہم انتظار کریں گے، ٹھہر کے نکلیں گے
خوب
الف عین — مارچ 17، 2016 3:07 صبح
واہ واہ، ’سمت‘ کے لئے بھی دیا کرو بھائی۔
ابن رضا — مارچ 17، 2016 3:50 صبح
واہ واہ لاجواب کلام ہے جناب۔ داد قبول کیجیے
راحیل فاروق — مارچ 17، 2016 3:06 شام
بہت عمدہ راحیل بھائی۔
:):):)
بہت خوب راحیل بھائی۔ کیا کہنے۔
:redheart:
قبول ہے۔ :sneaky:
واہ واہ، ’سمت‘ کے لئے بھی دیا کرو بھائی۔
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا؟​
سبھی کچھ آپ کا ہے، قبلہ۔ جو پسند فرمائیں۔ جو حکم فرمائیں۔
محمدظہیر — مارچ 17، 2016 4:02 شام
بہت عمدہ جناب
یوسف سلطان — مارچ 17، 2016 5:33 شام
گراں ہے نرخ بہت نعرۂ انالحق کا
گلی گلی سے خریدار سر کے نکلیں گے
اصولِ عشق میں گویا یہ بات شامل ہے
اِدھر سے ہو کے دَلِدّر اُدھر کے نکلیں گے
بہت خوب !
حمیرا عدنان — مارچ 17، 2016 5:59 شام
راحیل بھائی بہت عمدہ :)
محمد وارث — مارچ 18، 2016 5:52 صبح
کیا کہنے راحیل صاحب، لاجواب۔
فاتح — مارچ 18، 2016 5:59 صبح
واہ واہ واہ بہت خوب راحیل صاحب۔ یہ شعر تو کمال ہے
گراں ہے نرخ بہت نعرۂ انالحق کا
گلی گلی سے خریدار سر کے نکلیں گے
جاسمن — مارچ 18، 2016 6:29 صبح
اصولِ عشق میں گویا یہ بات شامل ہے
اِدھر سے ہو کے دَلِدّر اُدھر کے نکلیں گے
واہ بہت خوب!
بہت خوب!
دلدر لفظ ہماری پنجابی میں بہت بولا جاتا ہے۔ میں نے شاید اردو شاعری میں پہلی بار پڑھا ہے۔ بہت خوبصورت سے استعمال کیا ہے۔ خوبصورت غزل ہے بلاشبہ۔۔۔۔داد قبول کریں۔
عباس اعوان — مارچ 18، 2016 6:56 صبح
کیا خوبصورت غزل کہی ہے۔
بہت خوب۔
لطف آیا پڑھ کر۔ بہت بہت شکریہ۔
:)
راحیل فاروق — مارچ 19، 2016 12:42 شام
شکریہ، بھائی۔
آپ کی محبت، یوسف بھائی۔
راحیل بھائی بہت عمدہ :)
شکریہ، بہن۔ آج کل غائب ہیں کہیں؟
کیا کہنے راحیل صاحب، لاجواب۔
زہے نصیب۔ نا خدائے عروض کی تھپکی۔ خوشی سے مر نہ جائیں ہم!
واہ واہ واہ بہت خوب راحیل صاحب۔
میرے لیے فخر اور ناز کا مقام ہے کہ اتنے قادرالکلام شخص کو میرا کہا پسند آیا۔
بہت خوب!
دلدر لفظ ہماری پنجابی میں بہت بولا جاتا ہے۔ میں نے شاید اردو شاعری میں پہلی بار پڑھا ہے۔ بہت خوبصورت سے استعمال کیا ہے۔ خوبصورت غزل ہے بلاشبہ۔۔۔۔داد قبول کریں۔
شکریہ، آپا۔ اتفاق کی بات ہے میں نے یہ لفظ پنجابی میں کبھی نہیں سنا۔ کلاسیکی اردو کے نمونوں میں البتہ دیکھا ہے۔
لطف آیا پڑھ کر۔ بہت بہت شکریہ۔
آپ کا ممنون ہوں، عباس بھائی۔ اور سچ پوچھیں تو آپ سے ملاقات کی تمنا تب سے حسرت میں بدل گئی ہے جب سے معلوم ہوا ہے کہ آپ تصویر نہیں کھنچواتے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایسا دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے۔ یا رخِ زیبا پر داڑھی ہوتی ہے یا نقاب۔ اور قسم سے ہمارا اشتیاق دونوں صورتوں میں ایک سا بڑھتا ہے۔ خدا وہ دن کرےمجھ پر جو یہ بھی دیکھ لوں وہ بھی!
نور وجدان — مارچ 19، 2016 3:09 شام
گراں ہے نرخ بہت نعرۂ انالحق کا
گلی گلی سے خریدار سر کے نکلیں گے

خوب
جاسمن — مارچ 20، 2016 6:43 صبح
شکریہ، آپا۔ اتفاق کی بات ہے میں نے یہ لفظ پنجابی میں کبھی نہیں سنا۔ کلاسیکی اردو کے نمونوں میں البتہ دیکھا ہے۔
امی جان کہتی ہیں۔ دلدر دور ہو گئے۔
جب سے معلوم ہوا ہے کہ آپ تصویر نہیں کھنچواتے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایسا دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے۔ یا رخِ زیبا پر داڑھی ہوتی ہے یا نقاب۔ اور قسم سے ہمارا اشتیاق دونوں صورتوں میں ایک سا بڑھتا ہے
ہاہاہاہاہاہا
ظہیراحمدظہیر — مارچ 21، 2016 3:12 صبح
سبحان اللہ سبحان اللہ راحیل بھائی !! راحیل بھائی !! کیا بات ہے ! بہت خوب!!
گراں ہے نرخ بہت نعرۂ انالحق کا
گلی گلی سے خریدار سر کے نکلیں گے

غبارِ خاطر و گردِ سفر کو بیٹھنے دو
ہم انتظار کریں گے، ٹھہر کے نکلیں گے

دوسرے شعر کے لئے بہت داد !! بہت اچھا ہے !
بہت اعلیٰ غزل ہے! کیا زبان ہے اور کیا اسلوب!!! لطف آگیا۔ بہت داد آپ کے لئے ۔ اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ !
ایک چھوٹی سی بات یہ کہ ’’دلدر نکلنا‘‘ کچھ کھٹک رہا ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے ۔ یہ محاورہ کہیں ایجادِ بندہ تو نہیں ؟!:)
کاشف اختر — مارچ 21، 2016 6:50 شام
بہت خوب! زبردست غزل ہے واہ!
مدیحہ گیلانی — مارچ 25، 2016 12:34 شام
غبارِ خاطر و گردِ سفر کو بیٹھنے دو
ہم انتظار کریں گے، ٹھہر کے نکلیں گے
واہ بہت خوب غزل ہے لاجواب !
راحیل فاروق — مارچ 25، 2016 12:40 شام
بہت شکریہ، آپا۔
بہت خوب! زبردست غزل ہے واہ!
کاشف بھائی، آپ کو پسند آئی تو محنت کھری ہوئی۔
سبحان اللہ سبحان اللہ راحیل بھائی !! راحیل بھائی !! کیا بات ہے ! بہت خوب!!
اچھے شاعروں سے داد پا کر جو خون بڑھتا ہے اس کا آپ کو پتا ہی ہو گا۔ اور کیا کہوں؟
ایک چھوٹی سی بات یہ کہ ’’دلدر نکلنا‘‘ کچھ کھٹک رہا ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے ۔ یہ محاورہ کہیں ایجادِ بندہ تو نہیں ؟!:)
بحرالفصاحت میں دلدر نکالنا تو موجود ہے۔ ایجادِ بندہ صرف اس قدر ہے کہ میں نے متعدی کو لازم کر لیا ہے۔
امی جان کہتی ہیں۔ دلدر دور ہو گئے۔
یہ اسی کلاسیکی محاورے کا ایک روپ ہے۔
اصل میں دلدر کا مفہوم افلاس و نکبت سے لے کر نحوست تک کو محیط ہے۔ بحر الفصاحت کے مطابق ہندو دیوالی کی صبح کو رات کا کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے اس پر ایک پرانا چراغ جلا دیتے ہیں اور اس رسم کو دافعِ بلیات خیال کرتے ہیں۔ یہ رسم دلدر نکالنا کہلاتی ہے۔ باقی طرز ہائے اظہار از قسم دلدر دور ہونا، دلدر بھاگنا، دلدر پار ہونا، دلدر جانا وغیرہ سادہ طور پر نحوست یا ابتلا کے دور ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%D9%86%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92-%D8%AA%D9%88-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92.88672/