گم گشتہ کشتیوں کو درکار ہے کنارا (نظم)

نوشین فاطمہ عبدالحق — جون 13، 2015 4:49 صبح
گم گشتہ کشتیوں کو درکار ہے کنارا
تاریک شب میں اپنا مشکل ہے اب گزارہ
قطبی ستارے دے اب کوئی صحیح اشارہ
باطل کے تیز بپھرے طوفاں نے ہم کو مارا
پہچان کب تھی ہم کو رہبر سے راہزن کی
اک فرد بے عمل کو تھا نا خدا پکارا
گو لٹ چکے ہیں ہم اب سب کچھ گنوا چکے پر
ایمان کا خسارہ ہم کو نہیں گوارا
ہم روشنی کی خاطر جگنو پکڑ کے لائے
جیسے کہ ڈوبتے کو تنکے کا ہو سہارا
احسان ہم پہ کر دیں سیدھا جو راستہ ہے
رہبر اسی کی جانب اب لے چلیں خدارا۔
فاروق احمد بھٹی — جون 13، 2015 4:58 صبح
ہم روشنی کی خاطر جگنو پکڑ کے لائے
جیسے کہ ڈوبتے کو تنکے کا ہو سہارا
ارے واہ کیا کہنے بہت خوب۔۔
نظام الدین — جون 13، 2015 11:28 صبح
پہچان کب تھی ہم کو رہبر سے راہزن کی
اک فرد بے عمل کو تھا نا خدا پکارا
بہت خوب
نوشین فاطمہ عبدالحق — جون 15، 2015 5:44 صبح
ارے واہ کیا کہنے بہت خوب۔۔
:)
یہ آپ کی ہی ہمت ہے میری بےتکی تک بندیوں کو ناصرف پڑھتے ہیں بلکہ وہ آپ کو پسند بھی آ جاتی ہیں۔
خیر
شکریہ
:)
نوشین فاطمہ عبدالحق — جون 15، 2015 5:44 صبح
شکریہ۔
ادب دوست — جون 15، 2015 6:48 صبح
بہت خوب ،
یہ اشعار خاص طور سے پسند آئے۔
گو لٹ چکے ہیں ہم اب سب کچھ گنوا چکے پر
ایمان کا خسارہ ہم کو نہیں گوارا
کیا کہنے ۔۔ ذہن میں کئی ایک واقعے اسی حوالے سے تازہ ہو گئے خاص طور سے جگر صاحب کا مئے نوشی کے دوران نعت کی فرمائش والا۔۔۔
ہم روشنی کی خاطر جگنو پکڑ کے لائے
جیسے کہ ڈوبتے کو تنکے کا ہو سہارا
نوشین فاطمہ عبدالحق — جون 15، 2015 8:01 صبح
بہت خوب ،
یہ اشعار خاص طور سے پسند آئے۔
کیا کہنے ۔۔ ذہن میں کئی ایک واقعے اسی حوالے سے تازہ ہو گئے خاص طور سے جگر صاحب کا مئے نوشی کے دوران نعت کی فرمائش والا۔۔۔
:)
ندیم مراد — جولائی 7، 2015 10:20 شام
یہ ہی تو مسعلہ ہے رہبر نہیں ہے کوﺉ
اور ہےاگر کہیں تو یارب کر آشکارہ
ندیم مراد — جولائی 7، 2015 10:21 شام
:great:
الف عین — جولائی 9، 2015 12:33 صبح
یہ تو غزل لگ رہی ہے!!!
نوشین فاطمہ عبدالحق — جولائی 9، 2015 2:13 صبح
یہ تو غزل لگ رہی ہے!!!

سر ! میں مبتدئین میں شمار ہوتی ہوں ۔ عروضی پیچیدگیوں سے علم القافیہ ، اوزان و بحور ، زحافات اور کچھ ابتدائی معلومات سے واقف ہوں ۔
غزل اور نظم میں بنیادی فرق صحیح طرح نہیں سمجھ پائی ۔
اتنا جانتی ہو کہ غزل وہ شعری تصنیف ہوتی ہے جس میں "عورت" سے یا "عورت" کے متعلق گفتگو ہو ۔ اور غزل کا ہر شعر انفرادی شناخت رکھتا ہے ۔ اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے ۔ اپنا مطلب واضح کرنے کے لیے دوسرے اشعار پہ انحصار نہیں کرتا ۔ جبکہ نظم کے اشعار شروع سے آخر تک باہمی ربط میں ہوتے ہیں ۔ ایک موضوع شروع کیا تو آخر تک اسے ہی لے کر چلے ۔
اگر آپ غزل اور نظم میں بنیادی فرق کی وضاحت کر دیں جس سے مجھے ان دو اصناف کی شناخت میں دشواری نہ ہو تو نوازش ہوگی ۔
ابن رضا — جولائی 9، 2015 6:33 صبح
غزل نظم کی ہی ایک صنف ہے۔ کسی نظم کو غزل کہنے کے لیے مذکور باتوں کے علاوہ سب سے ضروری چیز زمین یعنی بحر قافیہ و ردیف ہے۔ اس کے علاوہ غزل کا پہلا شعر مثنوی نظم کی طرح ہم قافیہ و ردیف ہوتا ہے۔ اسے مطلع کہا جاتا ہے۔ باقی تمام اشعار میں عموما" ہر شعر کے مصرع ء ثانی میں قافیہ و ردیف کا خیال رکھا جاتا ہے تاہم ردیف اختیاری ہے۔ آخری شعر میں عموما" شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ عصرِ حاضر کی غزل کا دامن بہت وسیع ہو چکا ہے اس میں ہر طرح کی طبع آزمائی کی جاچکی ہے اب یہ صرف عورتوں کے ناز و ادا تک محدود نہیں رہی۔
نوشین فاطمہ عبدالحق — جولائی 9، 2015 12:30 شام
غزل نظم کی ہی ایک صنف ہے۔ کسی نظم کو غزل کہنے کے لیے مذکور باتوں کے علاوہ سب سے ضروری چیز زمین یعنی بحر قافیہ و ردیف ہے۔ اس کے علاوہ غزل کا پہلا شعر مثنوی نظم کی طرح ہم قافیہ و ردیف ہوتا ہے۔ اسے مطلع کہا جاتا ہے۔ باقی تمام اشعار میں عموما" ہر شعر کے مصرع ء ثانی میں قافیہ و ردیف کا خیال رکھا جاتا ہے تاہم ردیف اختیاری ہے۔ آخری شعر میں عموما" شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ عصرِ حاضر کی غزل کا دامن بہت وسیع ہو چکا ہے اس میں ہر طرح کی طبع آزمائی کی جاچکی ہے اب یہ صرف عورتوں کے ناز و ادا تک محدود نہیں رہی۔

مشکور ہوں محترم !
نایاب — جولائی 9، 2015 9:04 شام
واہہہہہہہہہ
بہت خوب کہی ہے نظم ہے یا کہ غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم روشنی کی خاطر جگنو پکڑ کے لائے
جیسے کہ ڈوبتے کو تنکے کا ہو سہارا
بہت سی دعاؤں بھری داد
ندیم مراد — جولائی 9، 2015 9:31 شام
میرے خیال میں استاد محترم کی داد تکنیکی طرف چلی گﺉ شاﺉد وہ کہ رہے ہیں کہ ہے تو نظم مگر اس میں غزل کا سا تغزل موجود ہے یہ ایک کمپلیمینٹ ہے تنقید نہیں، اسے غزل مسلسل بھی کہ سکتے ہیں،
وللہ اعلم
نوشین فاطمہ عبدالحق — جولائی 9، 2015 10:33 شام
واہہہہہہہہہ
بہت خوب کہی ہے نظم ہے یا کہ غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم روشنی کی خاطر جگنو پکڑ کے لائے
جیسے کہ ڈوبتے کو تنکے کا ہو سہارا
بہت سی دعاؤں بھری داد
شکریہ سسٹر !
خوش رہیں ۔
نوشین فاطمہ عبدالحق — جولائی 9، 2015 10:35 شام
ہ
میرے خیال میں استاد محترم کی داد تکنیکی طرف چلی گﺉ شاﺉد وہ کہ رہے ہیں کہ ہے تو نظم مگر اس میں غزل کا سا تغزل موجود ہے یہ ایک کمپلیمینٹ ہے تنقید نہیں، اسے غزل مسلسل بھی کہ سکتے ہیں،
وللہ اعلم
ہے تو سوچنے والی بات ۔
اب اس کا جواب سر خود ہی دے سکتے ہیں ۔
نایاب — جولائی 9، 2015 10:38 شام
شکریہ سسٹر !
خوش رہیں ۔
یہ جو تصویر میرے اوتار میں ہے بلاشک آپ کی سسٹر کہلا سکتی ہے ۔ محترم بٹیا جی
بہت دعائیں
نوشین فاطمہ عبدالحق — جولائی 9، 2015 10:40 شام
یہ جو تصویر میرے اوتار میں ہے بلاشک آپ کی سسٹر کہلا سکتی ہے ۔ محترم بٹیا جی
بہت دعائیں

"مس" کہہ لیا کروں گی آئندہ ۔
:)
نایاب — جولائی 9، 2015 10:43 شام
"مس" کہہ لیا کروں گی آئندہ ۔
:)
افففففففففف
توبہ
مس جی تو بہت کان پکڑواتی رہی ہیں ۔ اور آپ مجھے ہی " مس " کہنے کا ارادہ کر رہی ہیں ۔۔۔
نایاب کہہ لیں بھائی کہہ لیں لالہ کہہ لیں انکل کہہ لیں مگر " مس " نہ کہیئے گا ۔۔۔۔
بہت دعائیں سدا ہنسیں مسکرائیں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%AF%D9%85-%DA%AF%D8%B4%D8%AA%DB%81-%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92-%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D9%85.82726/