مانی عباسی — ستمبر 2، 2018 1:53 شام
واہ۔ لفظ لفظ سچائی اور عمدہ انداز۔ بہت خوب۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
شکریہ
مانی عباسی — ستمبر 2، 2018 1:53 شام
مانی عباسی — ستمبر 2، 2018 1:56 شام
بہت خوبصورت لکھا ہے محترمی!
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں نے یہ کلام پہلے کہاں پڑھا ہے. گوگل کرنے پر بھی اب نہیں ملا. کیا اس میں کوئی مصرعہ مستعار ہے یا یہ آپ کا کافی پرانا کلام ہے جو شئیر ہو چکا ہے یا کیا وجہ ہے؟ بہت سٹرونگلی محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بہت پہلے پڑھا ہے.
شکریہ۔۔اردو محفل کے مشاعرے میں پیش کی تھی ادھر پڑھی ہو گی
م حمزہ — ستمبر 2، 2018 2:01 شام
عوض قرضوں کے حرمت قوم کی بیچی نہ جاتی تھی
جسے اب فائدہ کہتے ہیں وہ نقصان ہوتا تھا
وکالت کفر کی کرتے نہ تھے ابلاغ والے تب
قلم کاروں کی سچائی پہ سب کو مان ہوتا تھا
کیا بات ہے!شاندار۔ ماضی اور حال کا ایسا تقابلہ کہ زندہ ضمیر انسان تھرا اُٹھے۔ جزاک اللہ۔
جاسمن — ستمبر 2، 2018 4:17 شام
مانی عباسی — ستمبر 2، 2018 8:50 شام
کیا بات ہے!شاندار۔ ماضی اور حال کا ایسا تقابلہ کہ زندہ ضمیر انسان تھرا اُٹھے۔ جزاک اللہ۔
بہت شکریہ جناب
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 6، 2018 3:59 شام
اوپر مطلع ، نیچے مطلع ، بیچ میں چار اشعار
کیا بات ہے میرے یار!



مانی عباسی — ستمبر 6، 2018 7:20 شام
اوپر مطلع ، نیچے مطلع ، بیچ میں چار اشعار
کیا بات ہے میرے یار!


نوازش جناب