ہم سے یہ شمعِ شوق جلائی نہ جائے گی

الف عین — جولائی 12، 2019 11:04 صبح
خاک راکھ کے معنوں میں بھی مستعمل ہے
La Alma — جولائی 12، 2019 11:06 صبح
آتش " میں" سلگنے" کے بعد "خاک " نہیں بنتی " راکھ " بنتی ہے ...
دیکھئے -
سحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا
بنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے
بیدم شاہ وارثی
محمد وارث — جولائی 12، 2019 11:29 صبح
دیکھئے -
سحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا
بنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے
بیدم شاہ وارثی
جل بھی چُکے پروانے، ہو بھی چُکی رُسوائی
اب خاک اُڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی
شہزاد احمد مرحوم
:)
محمد وارث — جولائی 12، 2019 11:30 صبح
ہم سے یہ شمعِ شوق جلائی نہ جائے گی
اک بار جل اٹھی تو بجھائی نہ جائے گی
اے کاش روک لے کوئی صبحِ وصال کو
شامِ فراق ہم سے منائی نہ جائے گی
ہم آتشِ جفا میں سراپا سلگ چکے
اپنی ہی خاک آپ اڑائی نہ جائے گی
حرفِ غلط کی طرح ستم کو نہ سمجھیے
دل پر لگی لکیر مٹائی نہ جائے گی
یہ کیا کہ اہلِ درد کی آنکھیں بھی نم نہیں
اب داستانِ غم یہ سنائی نہ جائے گی
جس آہ کو ہو پاسِ ادب، ضبطِ گریہ کا
عرشِ بریں تلک وہ دہائی نہ جائے گی؟
سوچیں تو اس جہان میں مہرہ ہے آدمی
ایسی کہیں بساط بچھائی نہ جائے گی
ہم کو متاعِ عشق کے کھونے کا ڈر نہیں
اپنے کبھی یہ ہاتھ نہ آئی، نہ جائے گی
المٰی! حسیں ہیں یوں تو محبت کے دائرے
پھر گردشوں سے جان چھڑائی نہ جائے گی
غزل آپ کی عمدہ ہے، داد قبول فرمائیے۔
La Alma — جولائی 12، 2019 11:34 صبح
جل بھی چُکے پروانے، ہو بھی چُکی رُسوائی
اب خاک اُڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی
شہزاد احمد مرحوم
:)
اب تو استیاں بھی بہہ چکیں :)
La Alma — جولائی 12، 2019 11:34 صبح
غزل آپ کی عمدہ ہے، داد قبول فرمائیے۔
بہت نوازش!
صفی حیدر — جولائی 12، 2019 11:45 صبح
خاک راکھ کے معنوں میں بھی مستعمل ہے
بہت شکریہ سر ۔۔۔۔ میری معلومات میں اضافہ ہوا
صفی حیدر — جولائی 12، 2019 11:47 صبح
دیکھئے -
سحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا
بنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے
بیدم شاہ وارثی
واہ خوبصورت شعری مثال ۔۔۔۔۔ جزاک اللہ
سید سعد القاسمی — جولائی 12، 2019 3:33 شام
میں مسحور سا ہوں اس غزل کو پڑھنے کے بعد اس غزل کا ہر ایک شعر ادبیت سے بھرپور اور اعلی معیار کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے میں نے اس غزل کے ہر ہر شعر کو بار بار پڑھا اور اپنی قسمت پر فاخر ہوں کہ اللہ تبارک و تعلی نے مجھے ایسی محفل سے جڑنے کا موقع دیا جس میں اتنے اعلیٰ معیار کے ادباء موجود ہیں
La Alma — جولائی 12، 2019 5:32 شام
میں مسحور سا ہوں اس غزل کو پڑھنے کے بعد اس غزل کا ہر ایک شعر ادبیت سے بھرپور اور اعلی معیار کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے میں نے اس غزل کے ہر ہر شعر کو بار بار پڑھا اور اپنی قسمت پر فاخر ہوں کہ اللہ تبارک و تعلی نے مجھے ایسی محفل سے جڑنے کا موقع دیا جس میں اتنے اعلیٰ معیار کے ادباء موجود ہیں
یہ آپ کا بڑا پن ہے وگرنہ میں تو ادب کی ایک ادنٰی سی طالبہ ہوں ۔ حوصلہ افزائی کے لئے انتہائی شکر گزار ہوں ۔ خوش رہیے۔
محمداحمد — جولائی 17، 2019 8:45 صبح
ماشاءاللہ!
خوبصورت غزل ہے۔
ہر شعر لاجواب ہے۔
ظہیراحمدظہیر — اگست 24، 2019 5:42 صبح
واہ واہ واہ! بہت اعلیٰ ! کیا تغزل ہے! کیا بات ہے !! بہت خوب المیٰ صاحبہ!
حرفِ غلط کی طرح ستم کو نہ سمجھیے
دل پر لگی لکیر مٹائی نہ جائے گی
بہت ہی اچھا کہا ہے ! اس کی الگ سے داد! واہ واہ! سلامت رہئے !
فرحان محمد خان — اگست 26، 2019 10:54 صبح
عمدہ غزل داد قبول کیجیے
محمد نعیم وڑائچ — اگست 26، 2019 11:21 صبح
بہت خوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85-%D8%B3%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%B4%D9%85%D8%B9%D9%90-%D8%B4%D9%88%D9%82-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%DB%8C.107547/page-2