انھوں نے کہا، آپ نے مان لیا۔
بالفرض ہو بھی چکے ہوں، تو حالات کی ذمہ داری میں اہم حصہ انھی کا ہے۔
اور میں نہیں سمجھتا کہ ان معاشی حالات کا محض حکومت کی تبدیلی سے کوئی تعلق ہے۔ حکومت نہ بھی بدلی ہوتی، تو حالات کچھ مختلف نہ ہونے تھے۔
انھوں نے کہا، آپ نے مان لیا۔
نیوٹرل کو کسی شے میں قید کر رکھا ہے میں نے تابش بھائی۔ غور فرمائیے۔ یہ بات مجھے بھی درست لگتی ہے کہ حکومت نہ بدلی ہوتی تب بھی حالات شاید ایسے ہی ہونے تھے۔
وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
حالات حاضرہ کے عین مطابق
نو سو چوہے کھا کے بلی نیوٹرل ہوئی۔
لیکن علی بھائی ، سوال یہ ہے کہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل کہاں سے آئے گا؟ ملک کے پاس لیڈرشپ ہے نہیں ، سیاسی منظر نامے پر بچکانہ ذہنیت کے حامل خباثتدان بازیگری میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہر شخص صرف آج کا سوچ رہا ہے ، کل کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے؟ کیا اب تنگ آکر عوام اٹھ کھڑے ہونگے ، طوائف الملوکی شروع ہوجائے گی ؟! کراچی میں روز افزوں جرائم کی صورتحال کی جو خبریں آرہی ہیں وہ تو بہت تشویشناک ہیں؟ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ کیا اب وقت نہیں آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ، عدلیہ ، فوج ، بیوروکریٹس ، صحافی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز تمام فضولیات کو کچھ دیر کے لیے بھلا کر ایک گول میز کانفرنس کریں ۔ حقائق کا جائزہ لیں ، صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کریں اور ایک راستہ طے کریں ۔ عسکریہ اگر چاہے تو یہ کام کرسکتی ہے ۔ سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ، قومی سلامتی اور یکجہتی کا ایجنڈا منوانا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں ۔ فضول سیاستدانوں اور دیگر پلیئرز کی چھانٹی بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ان کے لیے ۔ یہ لوگ اب کس بات کا انتظار کررہے ہیں؟ کیا آگ جب ان کے گھروں تک پہنچے گی تو جاگیں گے؟ کیا لوگ انہیں مارنا شروع کریں گے تو یہ کچھ کریں گے؟ نمک حرامی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔
تابش بھائی ، جب ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو ، عدالتوں میں انصاف نہ ہو ، رشوت اور سفارش کے بغیر کوئی کام نہ ہوتا ہو تو معیشت کہاں سے ترقی کرے گی۔ کون انویسٹمنٹ کرے گا اور کون ترقیاتی منصوبے بنائے گا؟ معاشی بدحالی تو پھر دن بدن بڑھتی ہی جائے گی۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ مہنگائی اس وقت بوجوہ ایک عالمگیر مسئلہ بنتی جارہی ہے لیکن معیشت مستحکم اور ترقی پذیر ہو تو اس پر قابو پانا مشکل نہیں ۔ پڑوس میں بنگلہ دیش اور انڈیا بھی تو ہیں ، وہاں کی صورتحال تو ایسی نازک نظر نہیں آتی کہ جیسی ہمارے ہاں پیدا ہوچکی ہے؟ جو لوگ ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہونے دیتے وہی اس معاشی صورتحال کے بھی ذمہ دار ہیں ۔
یہ بلی نیوٹرل تو بہت پہلے سے ہوچکی ہے۔ اب تو تھیلے سے باہر آرہی ہے آہستہ آہستہ۔
ظہیر بھائی، اگر خدانخواستہ ملک ڈیفالٹ کر گیا تو یہ تب ضرور مل بیٹھیں گے اور عسکریہ ہی ان کو بٹھائے گی کیونکہ انہیں بہرحال اس ملک کوبچائے رکھنے کی تدابیر کرنا ہوتی ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بقا کا راز بھی اس ملک کی سلامتی کے ساتھ جڑا ہے، گو کہ میں اُن کے سیاسی رول کا سخت ناقد ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ملک کی بےسمتی میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ اور اگر کہیں سے قرض کی مے مل گئی تو یہ سب مل کر نہیں بیٹھیں گے اور سیاست بازی کا کاروبار خوب چمکے گا۔ دوسری جانب، جرائم کی شرح ضرور بڑھ گئی ہے اور سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے مگر میں اس کے باجود نا اُمید نہیں ہوں۔ اور یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اس ملک میں انقلاب دستک نہیں دے رہا ہے، تاہم انارکی کے آثار ضرور موجود ہیں۔ بصد معذرت عرض ہے کہ عوام اٹھ کھڑے ہوں گے مگر ان کے لیے ہی اٹھ کھڑے ہوں گے جو کہ منظرنامے پر موجود سیاست دان ہیں۔ یہ آپسی لڑائی مزید شدت اختیار کرے گی اور اگر واقعی ملک ڈیفالٹ کر گیا تو بہ امر مجبوری قومی حکومت یا نگران سیٹ اپ قائم کر دیا جائے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ نام نہاد نیوٹرلز ہر پارٹی سے ایسے افراد کی فہرست تلاش کر رہے ہیں جو کہ انتہائی برا وقت آنے پر نگران سیٹ اپ کا حصہ بنا دیے جائیں گے۔
نا امید تو میں بھی کبھی نہیں ہوتا ہوں ، علی وقار بھائی ! اور ویسے بھی امید برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ ہے بھی کیا؟ لیکن امید کی کوئی کرن تو کہیں سے نظر آئے ۔ کوئی توحوصلہ افزا خبر ہو۔
حوصلہ افزا خبریں ہیں ناں ظہیر صاحب: غریب کو روٹی تو مل ہی رہی ہے کچھ کو مانگ کر، کچھ چھین کر کھا رہے ہیں۔ روٹی کے ساتھ چھوٹا بڑا گوشت کھانے کا سوال تو خیر شاید بقر عید ہی پر پیدا ہوتا ہے لیکن چکن تو مل ہی رہا تھا، اب وہ بھی چھ سو روپے کلو ہو گیا تو کیاہوا غریب دال تو کھا ہی سکتا ہے، سنا ہے ملک میں دالوں کا وافر ذخیرہ پورے پندرہ دن کے لیے ابھی تک موجود ہے۔ اس کے بعد پیاز کے ساتھ روٹی کھائی جا سکتی ہے لیکن پیاز بھی تو سونے کے بھاؤ کو چھو رہا ہے سو ملک کا نمک تو ہم حلال کر ہی سکتے ہیں۔
یہاں جو زیادہ تر وزرائے اعظم بنے، وہ کب یہ چاہتے ہوں گے کہ انہیں ووٹ نہ ملیں، عوامی حمایت نہ ملے، یا وہ عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیں۔ اس ملک کو لُوٹ کر جو کھا رہے ہیں، ان میں اکثر و بیشتر سدا بہار وزیر و مشیر ہیں، جن کے کھابے لگے ہوئے ہیں، یا وہ ایلیٹ طبقہ جو ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہتا، خصوصاً بڑے بزنس مین اور پراپرٹی آئیکون، سب سے بڑھ کو تو نام نہاد نیوٹرلز۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں میں اپنے من پسند افراد کو شامل کرتی آئی ہے، یہ اشرافیہ کی وہ کلاس ہے جو ہرحکومت میں اپناحصہ وصول پاتی ہے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے کوئی وزیراعظم بہتر کارکردگی دکھانے سے قاصر رہے گا چاہے وہ کیسا بھی اہل کیوں نہ ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ وزرائے اعظم کا کوئی قصور نہ ہو، یہ بھی اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے اس ملک میں بھی اقتدار لینے پر تُل جاتے ہیں جس کے متعلق انہیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا انجام بھی کچھ اچھا شاید نہ ہو گا مگر میری نظر میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ مشکل فیصلے حکومت سے کرواتی ہے اور اگر حکومت ان کے کہے میں نہ ہو تو پھر وہ اپوزیشن کو اقتدار میں لانے کی ٰسازشوں ٰ میں مصروف ہو جاتی ہے یعنی کہ ان کے لیے آپشن ہمیشہ اوپن رہتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہیں سیاسی جماعتوں کی سپورٹ مل گئی ہے، اور اگر یہ سپورٹ نہ کرتے تو ان کے خلاف بھی کیسز کھل جاتے۔ اس لیے، یہ چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود اقتدار میں آ گئے۔ میرا تو اب بھی یہ خیال ہے کہ موجودہ اپوزیشن کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی گیم بن سکتی ہے،اگر آج موجودہ حکومت مشکل فیصلے (عوام پر مہنگائی بم گرانا مگر ایلیٹ کلاس سے صرفِ نظر کیے رکھنا) نہ کرے گی۔ یہ چکر یوں ہی چلتا رہے گا۔ جب تک عسکریہ اپنا قبلہ درست نہیں کرلیتی ہے تب تک اس ملک کا مستقبل زیادہ روشن نہیں۔ اگر انہیں کسی مرحلے پر اپنی غلطی کا واقعی احساس ہو گیا تو شاید بات بن بھی جائے۔ ملکی منظرنامے پر موجود سیاست دانوں سے معاملہ فہمی کی توقع عبث ہے۔
😟😟😟
میرا خیال ہے کہ بات اب بہت آگے تک بڑھ چکی ہے۔ الزام تراشی اور بلیم گیم تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے ۔ ہر برے عمل اور غلط قدم کی کوئی نہ کوئی توجیہہ بھی پیش کی جاسکتی ہے اور کی جاتی رہی ہے ۔ لیکن کیا یہ وقت ان لاحاصل باتوں کا ہے ؟! اس وقت تو فوری طور پر ترجیحات کو درست کرنے اور damage controlکے موڈ میں آنے کی ضرورت ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت قومی سالمیت کو خطرہ ہے۔ خاکم بدہن پاکستان کی شہ رگ پر حملہ ہورہا ہے۔
کیا بات کررہے ہیں آپ قبلہ ۔ بھوکے ننگے آدمی کو نماز روزے حج زکوٰۃ سے کیا واسطہ؟!
ظہیر بھائی، میرے خیال میں حافظ صاحب جب اس تنازع میں براہ راست الجھیں گے تو وہ بھی حاجی صاحب بن جائیں گے۔ ہنگامی صورت حال تب ہو گی جب پانی سر سے اونچا ہو جائے گا، اور ابھی بھی تمام تر مشکلات و مسائل کے باوصف وہ وقت نہیں آیا ہے، گو کہ لگتا ہے کہ یہ وقت زیادہ دوری پر نہیں۔ بصد معذرت اختلاف کی جسارت کروں گا کہ نیوٹرلز کو نیوٹرل ہی رہنا چاہیے کیونکہ ہم ان کی طرف سے کوئی اور تجربہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔ یہ سیاست دان بونے ہی سہی، ان کو ہی سیاسی منظرنامے پر رہنا چاہیے۔ خیر کی راہ نکلے گی جیسا کہ ہمیں اس کے آثار کراچی میں نظر آئے ہیں۔ جماعت اسلامی کو نظریاتی اختلاف رکھنے والوں نے بھی ووٹ دیے ہیں۔ میں بھی ان سے اختلاف رکھتا ہوں مگر ووٹ اسی کو ملنا چاہیے جو کہ اس کا حق دار ہے۔ ہم ہجوم سے قوم بن سکتے ہیں، اور بن جائیں گے، مگر نیوٹرلز کو اب فرنٹ فٹ پر نہیں آنا چاہیے الا یہ کہ ہم واقعی ڈیفالٹ کر جائیں۔ تب تو شاید یہ اُن کی آئینی ذمہ داری بن جائے۔ تب کی تب دیکھی جائے گی سر۔
میں کب کہہ رہا ہوں کہ وہ فرنٹ پر آئیں ۔ صفائی کا سارا کام پسِ پردہ ہوسکتا ہے ۔ مخالفین کو داخلِ زنداں کرنا یا دوسری دنیا میں بھیجنا جب ان لوگوں کے لیے آسان کام ہے تو یہی حربے جھاڑجھنکاڑ کو صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں اور یہ عین ثواب کا کام ہوگا۔ شاید اس سے ان کے پچھلے گناہ دھل جائیں ۔
سر اس کے لیے انہیں جو کچھ کرنا ہو گا، وہ ان سے نہ ہو پائے گا یعنی کہ پہلے اپنا گھر صاف کرنا ہو گا۔