سمجھیے کا تلفظ فعولن کے وزن پر ہے اور سمجھیے کا وزن فاعلن کے طور پر بھی ہوتا ہے. دونوں طرز سے جائز ہے؟
نور وجدان، صحیح رہنمائی تو اساتذہ کرام ہی کر سکتے ہیں لیکن گمان غالب یہی ہے کہ درست تلفظ فعولن کے وزن پر ہی ہے۔ شاید فاعلن کے وزن پر بھی مستعمل ہو کیونکہ عروض ڈاٹ کام اس املاء کے ساتھ بر وزن فاعلن ہی بتا رہا ہے۔ اس سےپہلے میں نے اپنی کسی غزل میں “سمجھیے “ کو فاعلن کے وزن پر برتا تھا جسے سرالف عین نے نا درست قرار دیا تھا۔
درج ذیل مثالوں میں بھی لفظ “ سمجھیے” فعولن کے وزن پر ہی باندھا گیا ہے۔
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
غالب
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجیے پھر سمجھیے، زندگی کیا چیز ہے
ندا فاضلی
اساتذہ تو حقہ پینے کے بریک پر گئے ہوئے ہیں ۔ میں چپکے سے جواب دے دیتا ہوں ۔
سمجھیے کا وزن فعولن ہے فاعلن نہیں ۔ اہلِ پنجاب اسے فاعلن کے وزن پر بولتے ہیں ۔ میڈیا پر اسی طرح بولے جانے کے سبب اب شاید اور لوگ بھی فاعلن کے طرز پر بولنے لگے ہوں ۔
قاعدہ یہ ہے کہ فعل کا صیغۂ امر فعل کا مصدر ہو تا ہے ۔ یعنی سمجھ ، نکل ، اُتر ، سنبھل ، اُچھل وغیرہ یہ سب مصدر ہیں ۔ جب صیغۂ امر کے آگے احترام کے لئے "یے" کا اضافہ کیا جائے گا تو مصدر میں کوئی تغیر نہیں ہوگا ۔ وہ جوں کا توں رہے گا ۔سو نکلیے ( نکل+یے) ، سنبھلیے (سنبھل+یے) ، سمجھیے (سمجھ+یے) وغیرہ سب کا وزن فعولن ہوگا ۔ فاعلن میں نہیں بدل جائے گا ۔