ایک آن لائن طرحی مشاعرے میں کہی گئی فی البدیہہ نعت۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے!
ہے ایک ہی علاج بصیرت کی بھول کا
سرمہ لگا حضور کے پیروں کی دھول کا افسونِ سامری ہے اسے شاعری نہ جان
"دیواں میں شعر گر نہیں نعتِ رسول کا" باطن پہ ہو نگاہ تو یکساں ہیں سب چمن
لیکن جدا ہے رنگ مدینے کے پھول کا وارفتگی میں پاسِ ادب کی بھی شرط ہے
وحشی کو ہے معاملہ درپیش اصول کا راحیلؔ نے بھی پائی ہے توفیق نعت کی
آخر شرف دعا کو ملا ہے قبول کا راحیلؔ فاروق ۱۴ دسمبر، ۲۰۱۶ء
راحیل بھائی ہم نے تو یہ جملہ اس طرح پڑھ رکھا ہے کہ ''قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے'' اور جہاں تک میری معلومات ہیں اصل جملہ بھی یہی ہے ۔
بہر حال آپ ہی اس کی بہتر توضیح کر سکتے ہیں۔
راحیل بھائی ہم نے تو یہ جملہ اس طرح پڑھ رکھا ہے کہ ''قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے'' اور جہاں تک میری معلومات ہیں اصل جملہ بھی یہی ہے ۔
بہر حال آپ ہی اس کی بہتر توضیح کر سکتے ہیں۔
نوید ناظم — دسمبر 17، 2016 9:53 صبح
کیا خوبصورت نعت کہی آپ نے۔۔۔ زندہ باد!
ظہیراحمدظہیر — جنوری 11، 2017 6:23 شام
سبحان اللہ! خوب ہے راحیل بھائی! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
اچھی بات یہ ہے کہ کچھ دوسرے شعرا کے بر عکس آپ نے حمدیہ اور نعتیہ شعر کا فرق برقرار رکھا ہے ۔ عبدالحکیم میں موجود اتنے بڑے بڑے اہلِ علم کی ہمسائیگی کا کچھ تو اثر ہونا ہی چاہیئے تھا ۔
وارفتگی میں پاسِ ادب کی بھی شرط ہے
وحشی کو ہے معاملہ درپیش اصول کا